لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جب کوئی نظام آتا ہے تو کاغذوں میں اچھا لکھا ہوتا ہے اصل میں کسی نظام کا انحصار اس کو عملی طور پر نافذ کرنے پر ہوتا ہے چنانچہ جتنی گفتگو عمران خان نے کی وہ اچھی گفتگو ہے انہوں نے کافی تعمیری گوشے بلدیاتی نظام کے سامنے لائے لیکن اصل میں جو امکان یہ ہے کہ کسی حد تک عملدرآمد ہوتا ہے اگر عملدرآمد اچھا ہو نظام سارے اچھے ہوتے ہیں۔ سوچ سمجھ کر بنائے جاتے ہیں وہ دیکھنے میں سب اچھے لگتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ جب عملدرآمد ہوتا ہے تو جو راستے میں رکاوٹیں ہوتی ہیں وہ جگہ جگہ ان کے پاﺅں پکڑ لیتی ہیں پھر وہ نظام کامیاب نہیں ہوئے اصل میں نظام کی کامیابی اس کے چلانے والے پر ہوتی ہے۔ اگر نظام لانے والے نیک نیت ہوں اور صحیح ذہن کے ساتھ یہ سمجھتے ہوں کہ اس نظام کو اس مقصد کے لئے لایا جا رہا ہے اور وہ اس کو عوام کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے لا رہے ہیں تو پھر وہی نظام اچھا ہو جاتا ہے اور اگر کسی نظام کو پریکٹس میں لاتے وقت راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو روانہ کیا جائے تو پھر وہی نظام ناکام ہو جاتا ہے۔ اس نظام کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا جب تک اس پر عملدرآمد نہ ہو جائے۔ وزیراعظم عمران خان سے آج پریس بریفنگ میں صدارتی نظام کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا۔ اس پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ وہ بار بار اس کی تردید کرتے ہیں کہ کوئی صدارتی نظام نہیں لایا جا رہا پھر صدارتی نظام کا سوال شروع ہو جاتا ہے البتہ 18 ویں ترمیم کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے اسلام آباد میں بھی یہ کہا جاتا ہےکہ صوبے جو انکم جنریٹ کرنی ہوتی ہے وہ نہیں کر رہے لہٰذا فیڈریشن کو وہ وسائل نہیں پہنچائے جا رہے جو حکومت چلانے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ سندھ کو لے لیجئے سندھ میں قانونی طور پر ایک صوبائی حکومت قائم ہے اور پیپلزپارٹی کی وہاں حکومت ہے اور میرا خیال ہے کہ شاید تیسرا دور ان کا حل ہوتا ہے لیکن ابھی تک جو سندھ کے حالات ہیں وہ اس قسم کے ہیں کہ لوٹ کھسوٹ اتنی زیادہ ہے اور منی لانڈرنگ کی شکل میں پاکستان سے باہر اتنا پیسہ بھیجا جا رہا ہے کہ اب تو مذاق بن گیا ہے کہ سکول ماسٹر، رکشہ ڈرائیور کے اکاﺅنٹ میں سے 50 کروڑ روپے نکل رہے ہیں۔ کئی لوگوں کے اربوں روپے کے حساب سے نکل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اس نظام میں کافی چور دروازے ہیں اور جو سندھ میں جو اپنی حکومت ان کی صوبائی حکومت وہ ہی نظم و نسق کے سلسلے میں غیر تسلی بخش ہے تو پھر وہ وفاقی حکومت کو کیا فنڈز جنریٹ کر کے دے گی۔ یہ بات البتہ دل کو لگتی ہے کہ کیونکہ الیکٹورل سسٹم میں جس طرح پہلے بلدیاتی نمائندے ہوتے ہیں اور پھر بعد میں وہ میئر منتخب کرتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخاب کے بعد نیویارک کے میئر کا الیکشن اتنا بڑا الیکشن ہوتا ہے اور براہ راست عوام اسے منتخب کرتے ہیں یہ تو اچھی بات ہے کہ اس سے لوگوں کو موقع ملے گا کہ وہ کسی جوڑ توڑ کے ذریعے کسی محلاتی سازشوں کے ذریعے ایک آدمی اچانک میجر مبشر سامنے نہیں آئے گا بلکہ یہ عوام خود خود منتخب کریں گے کسی شخص کو۔ نوازشریف کی ضمانت کا آخری دن ہے اور عظمیٰ بخاری صاحبہ نے کہا ہے کہ نوازشریف صاحب کو شایان شان طریقے سے جیل منتقل کریں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اللہ رحم کرے تاریخ میں کہیں نہیں دیکھا اور نہ سنا ہے کہ کسی شخص کے بارے میں کسی پارٹی کے حوالے سے یہ بات کہی جا سکے وہ اپنے لیڈر کو بڑے شایان شان طریقے سے جیل بھیج رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ افسوسناک بات ہے کسی بھی شخص کا جیل جانا اچھی بات نہیں ہے۔ اگر جیل جانا اچھی بات ہوتی تو پھر سب اچھے لوگ جیلوں میں ہی ہوتے۔ سپریم کورٹ نے یہ گائیڈ کیا تھا اور کہا تھا کہ آپ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رابطہ کریں میں یہ سمجھتا ہوں کہ لازمی طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست آئے گی۔ میرا خیال ہے کہ شاید ریلیف مل بھی جائے۔ لگتا ہے ضمانت میں توسیع ہو جائے گی نوازشریف صاحب کی صحت بارے کہا جا رہا ہے کہ صحت کے بارے میں کہ وہ ابھی تسلی بخش نہیں ہے۔ اس مرتبہ وہ زیادہ زور اس بات پر دیںگے کہ علاج کے لئے انہیں بیرون ملک بھیجا جائے لیکن اس بات کا فیصلہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ ہی کرے گی البتہ شاید ملک سے باہر بھیجنے کے لئے کسی قانون دان سے پوچھنا چاہئے کہ سپریم کورٹ جب ناں کر چکی ہے تو کیا اسلام آباد ہائی کورٹ ہاں کر سکتی ہے۔ مسلم لیگ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شایان شان طریقے سے کوٹ لکھپت جیل چھوڑنے جائیں گے جیل سے رہائی ہو تو شایان شان طریقے سے استقبال ہوتا ہے ان کو خوشیاں منائی جاتی ہیں لیکن چھوڑنے جانے والی بات سمجھ نہیں آئی کیونکہ یہ تو افسوسناک بات ہے۔ نوازشریف ہوں یا کسی اور شخص کے بارے میں ہوجیل جانا کوئی اچھی بات تو ہے نہیں اور نہ ہی یہ کوئی خوشی کی بات ہے۔ نئی روایت جو مسلم لیگ ن کی سامنے آ رہی ہے کہ وہ اپنے لیڈر کو بڑے شان و شوکت سے شایان شان طریقے سے جیل پہنچانے جائیں گے۔ آج تک میں نے تو کوئی مثال نہیں دیکھی۔
مریم نواز کو عدالت نے نااہل قرار دیا ہے اس لئے انہیں نائب صدر نہیں بنایا جا سکتا۔ ن لیگ کی صدارت تو شہباز شریف کے پاس تاہم ان کی زیادہ نہیں سنی جاتی اور نوازشریف کے احکامات ہی چلتے ہیں۔ قانونی طور پر یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ نوازشریف ہمارے قائد ہیں۔ نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے ابھی اس پر کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔
چاند دیکھنا ایک روایت ہے، شاعری کی اصطلاح ہے، ہمارے رسم و رواج کا حصہ ہے، چاند کو دیکھنا ایک خوشگوار عمل ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے نام پر چاند دیکھنے کی خوشی تو نہ چھینی جائے۔ فواد چودھری کی بات سے متفق نہیں ہوں کہ چاند دیکھنے کیلئے صرف سائنس طور پر ہی اندازہ لگایا جائے۔ اس حوالے سے ایک غلط بحث شروع کر دی گئی ہے علما کا اپنا کردار ہے ان سے وہی تشریح کرائی جاتی ہے جس کے وہ مجاز ہوتے ہیں۔
بھارت میں الیکشن کا 5 واں مرحلہ جاری ہے دو مراحل ابھی باقی ہیں مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور مارکٹائی کی جا رہی ہے، ٹرن آﺅٹ ایک سے 2 فیصد کے درمیان چل رہا ہے جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کشمیریوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے۔ بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب رہی تو پاک بھارت مذاکرات کے زیادہ چانس نہیں ہیں کانگریس کی کامیابی کی صورت میں مذاکرات کے زیادہ چانس ہوں گے۔
ماہر قانون

