لاہور (خبرنگار) وزےراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسمبلی میں روز ڈرامہ ہورہا ہے، اپوزیشن کہتی ہے ہم انتقام لے رہے ہیں، ہم نے تو کوئی کیس نہیں بنایا یہ سب پرانے دور کے کیس ہیں ہم اپوزےشن کی ہر بات مان لےں گے مگر احتساب سے پےچھے نہےں ہٹےں گے کےونکہ جب تک کرپٹ لوگوں کو جےلوں مےں نہےں ڈالےں گے ملک کا مستقبل خطرے مےں رہےگا ‘اسمبلی مےں مفاہمت اور ماحول پرامن رکھنے کی باتےں کر نےوالے سن لےں کر پشن کے خاتمے پر کوئی سمجھوتہ نہےں ہوگا ‘شہبا زشر یف جےل مےں بےٹھ کر پبلک اکاﺅنٹس کمےٹی کا چےئر مےن بن چکا ہے جس سے جمہورےت اور پاکستان کا دنےا مےں مذاق بن رہا ہے ‘فےک اکاﺅنٹس کا معاملہ2015/17مےں بھی سامنے آےا مگر (ن) لےگ اور پےپلزپارٹی مک مکاﺅ کر تی رہی ‘چےن نے400وزراءاور دےگر لوگوں کو کر پشن کی وجہ سے پکڑا جسکی وجہ سے وہاں بڑی تےزی کےساتھ ترقی ہو رہی ہے ‘پار لےمنٹ کو مقدس کہنے والوں نے اپنے دور مےں مجر م کو بھی پارٹی سر براہ بنانے کےلئے قانون سازی کردی ‘ہم نے پاکستان کو قائد کا پاکستان بنانا ہے اور ےہاں بسنے والے ہر شخص کو برابرکا شہری بنانا ہے نہ انصافی سے ملکوں مےں انتشار اور علےحدگی کی تحر ےکےں جنم لےتی ہےں مگر ماضی کے حکمرانوںنے جنوبی پنجاب کا 250ارب کا بجٹ لاہور اور دےگر شہروں پر خرچ کر دےا جبکہ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے مغربی پاکستان ہم سے الگ ہو چکا ہے ’پنجاب ‘بلوچستان اور مر کز مےں 1سال مےں تمام سول مقدمات کا فےصلہ کروانے کےلئے قانون سازی کر رہے ہےں ‘پولےس کو سےاسی کر نے سے ملک کو بہت نقصان ہو چکا ہے مگر ہم پولےس رےفارمز لا رہے ہےں ‘پنجاب مےں کسانوں کے مسائل کے حل اور انکو مضبوط کر نے کےلئے اےگر کلچررےفامز لا رہے ہےں تاکہ کسانوں کی پےدوار مےں اضافہ ہوسکے ‘ہم نے پاکستان مےں اقلےتوں کو ہر صورت تحفظ دےنا ہے اور بھارت کے نر ےندرمودی کو بتانا ہے کہ ہم اقلےتوں کو تحفظ دےتا ہے ‘پنجاب کے وزراءکو اللہ نے خدمت کو موقعہ دےا ہے وزارت وزےرکو نہےں وزےر وزارت بناتا ہے ‘وزراءنے محنت بھی کر نی ہے اور سر کاری خرچے کو کم کرنا ہے ‘وزےر اعظم ہاﺅس کو ےونےورسٹی مےں بدلنے کی مخالفت کر نےوالی سےاسی جماعت کی خاتون سن لےں دور دورتک آپ کا وزےرا عظم بننانظر نہےں آرہا ۔ وہ ہفتہ کو اےوان اقبال لاہور مےں پنجاب حکومت کے 100دن کے حوالے سے ہونےوالی تقرےب سے خطاب کر رہے تھے جبکہ اس موقعہ پر گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور اور وزےر اعلی پنجاب عثمان بزدار سمےت پنجاب کابےنہ کے وزراءاراکےن اسمبلی اور پارٹی عہدےداروں سمےت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی وزےر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپنی پارٹی لیڈر شپ کو ہدایت کی ہے کہ اپوزیشن کی ہر بات مان لیں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم احتساب سے پیچھے ہٹ جائی اسمبلی میں روز ڈرامہ ہورہا ہے، اپوزیشن کہتی ہے ہم انتقام لے رہے ہیں، ہم نے تو کوئی کیس نہیں بنایا یہ سب پرانے دور کے کیس ہیںاس ملک کی سالمیت، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے ضروری ہے کہ جب تک کرپشن اور کرپٹ لوگوں پر ہاتھ نہ ڈالا تو ملک کا مستقبل خطرے میں ہے، لہذا اپوزیشن ہم سے یہ نہ کہے کہ احتساب سے پیچھے ہٹ جا ئے22 سال پہلے کرپشن کے خلاف ہی سیاست میں آیا، یہ لوگ پہلے حکومت کو پیسہ بنانے کےلئے استعمال کرتے ہیں اور پھر اسمبلی کو کرپشن بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر یہ اب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ کا انٹرویو پڑھ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ قائداعظم نے بہت پہلے کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جائے گا لیکن ہم نے سب اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھنا ہے ہم نے بھارت کے نریندر مودی کو بتانا ہے کہ آپ اپنی اقلیتوں کو کیسے رکھتے ہیں اور ہم کیسے رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزےشن نے پہلے دھاندلی کی باتےں کر کے کمےشن بنانے کا مطالبہ کےا پھر پار لےمنٹ مےں ڈرامہ شروع کر دےا کہ پبلک اکاﺅنٹس کمےٹی کا چےئر مےن شہبا زشر یف کو بناﺅ ‘خواجہ سعد رفےق کے پر وڈےوکےشن آرڈر جاری کروں مفاہمت کروں اسمبلی کا ماحول پرامن بناﺅں مےں نے اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہہ دےا ہے ان کی ساری باتےں مان لےں مگر احتساب سے پےچھے نہےں ہٹےں گے کےونکہ جب تک کرپٹ لوگوں کو جےلوں مےں نہےں ڈالےں گے ملک کا مستقبل خطرے مےں رہےگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب ماضی کی حکومتوں کی باتےں کرتے ہےں تو لوگ کہتے ہےں کہ آپ ماضی کی باتےں کےوں کرتے ہےں ےہ ضروری ہے کہ ہم ماضی کی حکومتوں کے بارے مےں بتائے کےونکہ اسکے بغےر موجودہ حکومت کی پالےسوں مےں آپ کو فر ق نظر نہےں آئےگا 1200ارب روپے کے خسارے والے صوبے پنجاب کو ہم ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر رہے ہےں ماضی کی حکومت کی جنوبی پنجاب کا پےسہ وہاں کی ترقی کی بجائے دےگر حصوںمےں خرچ ہوتارہا ۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی مےں مغربی پاکستان ہم سے الگ ہوا مےں پہلی دفعہ جب بنگلہ دےش گےا اور وہاں بھارت سے مےچ جےتاتو اےسے لگا جےسے لاہور مےں مےچ جےتا کےونکہ پورے سٹےڈےم مےں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے دےکھنا ہوگا بنگلہ دےشن کےوں ہم سے الگ ہوا ؟انصاف کے بغےر کوئی معاشرہ زندہ نہےں رہ سکتا ہے اور انصاف نہ ملنے کی وجہ سے لوگ ملکوں سے الگ ہونے کےلئے تحر ےک چلا تے ہیں اور بنگلہ دےشن کے لوگوں نے پہلے انصاف کی بات کی مگر جب انصاف نہ ملا تو وہ پاکستان سے الگ ہوئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کا250ارب روپے دےگر علاقوں مےں خر چ کر دےا جس سے لاہور کی آبادی بڑھنے لگے اور ےہاں پولےشن سمےت دےگر مسائل بھی جنم لے رہے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کا بےڑہ غر ق کر دےا انکی عےدےں بھی ملک سے باہر اور علاج بھی ملک سے باہر ہی ہوتے رہے ہےں ووہ لےڈر کےسے پاکستان سے وفادار ہوسکتا ہے جسکے بچے ‘کاروبار سمےت سب کچھ باہر ہوں مےںقوم سے پوچھتاہوں کہ آپ نے اےسے لوگوں کو کےسے برداشت کےا ہے؟پاکستان کی اےکسپو رٹ24ارب ڈالر ہےں اور سنگا پور کی 300ارب ڈالر سے زائد کی اےکسپورٹ ہےں پاکستان کا اتنے پےچھے رہنے کی وجہ سے کر پشن اور لوٹ ماراور غےر ملکی قر ضے رہے مےڑو اورنج ٹر ےن جےسے منصوبوں کےلئے حکمرانوں نے قر ضے لےے حالانکہ ےہ پر اجےکٹ خود خسارے مےں جا رہے ہےں مےں بتانا چاہتاہوں کہ عثمان بزدار وہ شخص ہے جس کا جےنا مر نا پاکستان مےں ہے اور مےں نے آج تک نہےں سنا کہ عثمان بزدار نے کوئی فےکٹری بنانے ےا لندن مےں جائےداد خر ےدنے کا کوئی منصوبہ ےا سازش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مےں350ارب کی زمےن ہم نے قبضہ گروپوں سے وگزار کروائی ہے اور پنجاب مےں بھی160ارب سے زائد کی زمےن واپس لی گئی جب ملک مےں کر پشن ہوتی ہے تو اس کی سزا بھی عوام کو ملتی ہے مےں 4ماہ سے وزےر اعظم ہاﺅس مےں بےٹھا ہوں اور بہت خوش آئندہ بات ہے کہ پاکستان مےں بہت سر ماےہ کاری آرہی ہے جبکہ غےر ملکی سر ماےہ کاروں سے ملکر حکمران پےسہ بناتے ہےں تو اس کا بوجھ عوام ہی پڑ ھتا ہے اور اس طر ح ملک مےں مہنگائی ہوتی ہے اور کر پشن کا بوجےھ بھی عوام پر پڑتاہے جب کر پشن ہوتی ہے تو حکومت کے خزانہ سے نہےں عوام کے خزانہ سے پےسہ جاتا ہے اور بوجھ عوام پر ہی پڑ تا ہے کر پشن کیو جہ سے معاشرہ ہمےشہ تباہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مےں پنجاب کابےنہ کے لوگوں کو بھی کہنا چاہتاہوں کہ وہ خزانہ سے پےسیہ بہت سوچ سمجھ کر کر ےں کےونکہ اس قوم کو پےسے کی بہت ضرورت ہے مےں ڈرامے نہےں کرتا مگر مےں اس ملک اور قوم کے حالات کو جانتاہوں اس لےے وزےر اعظم ہاﺅس نہےں اپنے گھر مےں رہتا ہوں مےں نے اللہ کو جواب دےنا ہے اس لےے قوم کا اےک اےک پےسہ بہت سوچ سمجھ کر ہی خرچ کرتاہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور یواے ای نے کسی شرط کے بغیر ہماری مدد کی ہے،کرنٹ اکا ﺅ نٹ خسارے کے باعث دوست ممالک سے رابطہ کیا،کستان کی فوج اب کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گی، امداد کے بدلے ہمیں کوئی جنگ نہیں لڑنی، پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے، مہاتیر محمد نے سرمایہ کاروں کو دولت بنانے کا موقع دیا ۔ ہفتہ کو ۔ لاہور مےں آل پاکستان ٹےکسٹائل ملز اےسوی اےشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں پاکستان کو خوددار دیکھنا چاہتا ہوں، جب آپ امداد یا قرضہ لیتے ہیں تو اپنی خودمختاری کھو بیٹھتے ہیں لےڈر وہ نہےں ہوتا جو دنےا مےں بھےک مانگتا رہے کرنٹ اکانٹ خسارے کے باعث دوست ممالک سے رابطہ کیا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کسی شرط کے بغیر ہماری مدد کی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم امن کے داعی ہیں اور امن کے لیے جو کردار ادا کرسکے کریں گے، جہاں بھی ضرورت پڑی پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا، پاکستان کی فوج اب کسی اور کی جنگ نہیں لڑے گی، امداد کے بدلے ہمیں کوئی جنگ نہیں لڑنی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے یقین دلاتا ہوں کہ ہم مل کر کام کریں گے ، صنعت کے لیے ماحول درست کریں گے، صنعتوں کو گیس اور بجلی سستی ملے گی،اگرصنعت کوری بیٹ نہیں دیں گے تو ان کا دیوالیہ نکل جائے گا، جائز طریقے سے پیسہ بنانے سے ملک کا فائدہ ہوتا ہے،سرمایہ کاروں کی دلچسپی تب ہی بڑھے گی جب وہ پیسا بنائیں گے، مہاتیر محمد نے سرمایہ کاروں کو دولت بنانے کا موقع دیا، یو اے ای کے شیخ محمد نے بھی ایسا ہی کیا، اگر منافع بنتا ہے تو مزید لوگ آ کر سرمایہ کاری کریں گے۔
































