اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ 7میں بسنت کے حوالے سے حکومتی فیصلے اور عوامی رد عمل جاننے کے لئے ایک سروے کیا گیا جس میں شہریوں نے بسنت کا تہوار منانے کے حکومتی اعلان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔سروے میں55فیصد لوگوں نے کہا بسنت نہیں ہونی چاہئے 45فیصد نے کہا ہونی چاہئے جبکہ پانچ فیصد نے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا۔موچی گیٹ کے ایک تاجر نے کہا حکومت نے پتنگ بازی بند کر کے ہمارا کاروبار بند کر دیا بسنت ہونی چاہئے۔ ایک شہری نے بتایا اگر بسنت منانی ہے تو پتنگوں کی تیاری کے لئے وقت دیا جائے۔کچھ شہریوں نے کہا بسنت نہیں ہونی چاہئے لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔کچھ نے کہا بسنت ہونی چاہئے ہمیں خوشی چاہئے ایک دن موٹر سائیکل بند ہونے سے کچھ نہیں بگڑے گا۔گوجرانوالہ کے شہریوں نے بسنت منانے کے حکومتی اعلان کی حمایت کی ۔کچھ نے کہا لوگوں کو تفریح ملنی چاہئے البتہ کیمیکل ڈور تندی کے استعمال پر سختی سے عمل کرایا جائے۔تجزیہ کار میاں یوسف صلاح الدین نے کہا کہ بسنت ایک ایسا تہوار ہے جو چند سالوں میں ملٹی بلین ڈالر کا کاروبار بن سکتا ہے بس اس کو محفوظ بنانے کے لئے طریقہ کار کا تعین کیا جائے۔ملک میں ٹورازم بڑھتی ہے۔صرف لاہور میں پابندی ہے دیگر شہروں میں بسنت ہوتی ہے۔رات کی بسنت پر پابندی لگائی جائے ڈے کا فیسٹیول رہنے دیا جائے۔بارہ گھنٹے موٹر سائیکل پر پابندی سے قیامت نہیں آ جائے گی۔موٹی ڈور، بڑی گڈی ،کیمیکل یا تندی پر سختی سے پابندی لگائی جائے۔اگلے سال پوری دنیا سے حکومت پوری دنیا سے سو ڈیڑھ سو صحافیوں کو مدعو کرے تاکہ وہ کوریج کر کے سب کو دکھا سکیں۔قانون دان اظہر صدیق نے کہا کہ صرف حکومت پنجاب پابندی ختم نہیں کر سکتی۔ پہلے بارڈر سیل کر کے بھارت سے موٹی ڈور کی ترسیل روکی جائے۔لاہور سے باہر جگہ مختص کی جائے۔بسنت منانے کا اعلان قانون کی خلاف ورزی ہے حکومت کے لئے مشکلات ہو سکتی ہیں۔
































