ابو ظہبی/اسلام آباد(این این آئی)متحدہ عرب امارات نے پاکستان اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ حکومت عرب امارات کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی مشکل گھڑی میں سپورٹ کر رہی ہے،یہ ہماری دوستی کی عکاسی کرتا ہے جو کہ برسوں تک قائم رہے گی۔عرب میڈیا کے مطابق ابوظہبی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ کے ایک بیان کے مطابق عرب امارات کی جانب سے یہ اقدام پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینےکےلئے کیا جا رہا ہے۔عرب امارات کے مطابق 3 ارب ڈالرز پاکستان کی مانیٹرنگ اور فسکل پالیسی میں مدد فراہم کریں گے جس کے مابین دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی۔ابو ظہبی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ نے پاکستان کے 8 ترقیاتی منصوبوں کو مالی امداد فراہم کی ہے جس کی مجموعی قیمت1.5بلین درھم ہے جن میں توانائی، صحت، تعلیم اور سڑکوں جیسے منصوبے شامل ہیں۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ حکومت عرب امارات کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کی مشکل گھڑی میں سپورٹ کر رہی ہے،یہ ہماری دوستی کی عکاسی کرتا ہے جو کہ برسوں تک قائم رہے گی۔واضح رہے کہ رواں برس 23 اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دینے پر رضا مند ہوگیا ہے۔دورے کے دوران پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدان کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے مطابق سعودی عرب نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ پاکستان کے اکاو¿نٹ میں 3 ارب ڈالر ایک سال کےلئے ڈپازٹ کرے گا جس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینا ہے ¾اب ان میں سے 2 ارب ڈالر پاکستان کے اکاو¿نٹ میں آچکے ہیں۔دوسری جانب اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ تاخیر سے ادائیگی کی بنیاد پر سعودی عرب پاکستان کو سالانہ 3 ارب ڈالر مالیت کا تیل دےگا اور یہ سلسلہ 3 سال تک جاری رہے گا جس کے بعد اس پر دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔اقتصادی ماہرین کے مطابق رقم پاکستان کے اکاو¿نٹ میں رکھنے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباو¿ میں کمی آئے گی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں استحکام آئے گا۔خیال رہے کہ موجودہ حکومت کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ دور کرنے اور معیشت کی حالت بہتر کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے، اس سلسلے میں حکومت نے چین اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مذاکرات کیے ہیں۔
































