اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاو¿نٹس اور جائیدادوں کے معاملے پر کم از کم 20 لوگوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں لندن، دبئی اور دوسرے ممالک کے بارے میں معلومات چاہئیں ۔ جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاو¿نٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس دوران چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، ڈی جی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئیاے) اور گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ ایک ہزار ارب کی جائیدادوں کی نشاندہی ہوگئی ہے ¾ان کو واپس لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ان میں سے 100 لوگوں کو عدالت میں حاضر کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کونسے 20 لوگ ایسے ہیں، جنہیں ہم طلب کرکے پوچھیں کہ یہ جائیدادیں کس طرح بنائیں، ہمیں لندن، دبئی اور دوسرے ممالک کے بارے میں معلومات چاہیے۔اس پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 150 لوگوں نے مانا ہے کہ ہماری جائیدادیں ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ 100 ارب کی جائیدادیں ہیں، اتنی رقم میں تو ہمارا ڈیم بھی بن سکتا ہے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بیرون ملک جائیدادوں کے حامل 894 افراد ہیں، اس معاملے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کچھ مزید وقت چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قانون میں سقم ہے تو ترمیم کریں۔اس پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 374 لوگوں نے یہ کہا کہ ہم نے جائیدادیں ظاہر کردی ہیں ¾ 150 افراد نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو بیانات دئیے۔انہوں نے بتایا کہ 69 افراد کہتے ہیں کہ ٹیکس ریٹرن میں جائیدادوں کو ظاہر کیا ہے، 82 کہتے ہیں کہ جائیدادیں ہماری ہیں ہی نہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ بیرون ملک جائیدادوں والے ہیں، اکاو¿نٹس والے نہیں، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کب کارروائیاں کریں گے؟ جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ حکومت کی اعلان کردہ ایمنسٹی کی وجہ سے 2 مہینے رک گئے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل حکومت کس چیز کا انتظار کر رہی ہے، آپ کو بندوں کی نشاندہی کرکے دے دی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ 10 نمایاں لوگوں کو یہاں لے آئیں ¾ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کے مطابق ان افراد کو گرفتار نہیں کرسکتے تاہم حکومت پاکستان نے اثاثے واپسی کا یونٹ قائم کر دیا ہے۔.عدالت میں سماعت کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ مقدمہ فروری میں لگا تھا تاہم اب پاکستان سے پیسہ باہر جانا بہت مشکل ہوگیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ بتائیں اس معاملے میں کیا کیا جاسکتا ہے ¾ہم مقدمہ نمٹا لیتے ہیں، پھر حکومت دیکھ لے۔چیف جسٹس نے طارق باجوہ سے استفسار کیا کہ کیا عدالت قانون کے مطابق کسی کی بینک تفصیلات طلب کرسکتی ہے؟ اس پر طارق باجوہ نے کہا کہ وہ برانچیں پاکستان کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔سماعت کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ یکم ستمبر سے موثر ہوا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اب تک کیا معلومات نکالی ہیں۔دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ایف آئی اے نے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں بتایا گیاکہ سیاسی شخصیات اور ان سے وابستہ 35 افراد کی دبئی میں جائیدادیں ہیں ¾ 9 بے نامی دار افراد اور 150 امیر ترین افراد کی نشاندہی ہوئی جن کی جائیدادوں کی مالیت 30ارب روپے ہے۔رپورٹ کے مطابق سیاسی شخصیات اور ان سے وابستہ 35 افراد کی دبئی میں جائیدادیں ہیں، ایف آئی اے نے 3570 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات شروع کیں، ان افراد نے دبئی میں ایک ہزار 15 ارب روپے کی غیر قانونی جائیدادیں بنائیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 9 بے نامی دار افراد کی نشاندہی بھی کی گئی، 150 امیر ترین افراد کی نشاندہی ہوئی جن کی جائیدادوں کی مالیت 30ارب روپے ہے، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے 386 افراد کے خلاف تحقیقات روکی گئیں، دبئی میں 374 جائیدادیں رکھنے والوں نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 2018 سے فائدہ اٹھایا۔ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق 150 افراد نے تسلیم کیا انہوں نے ٹیکس گوشواروں میں جائیدادیں چھپائیں، 674 افراد نے ایف آئی اے میں بیان حلفی داخل کیا، 900 پاکستانی دبئی میں غیر قانونی جائیدادیں رکھتے ہیں، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے 44 افراد نیب میں کیسز کا سامنا کررہے ہیں، 200 افراد نے بیان حلفی میں جائیدادیں ظاہرکیں مگر ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا، 2500 افراد رواں سال جون میں ایمنسٹی چاہتے تھے مگر ایف بی آر نے شرائط نہیں مانیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پیسہ باہر لے کر جانے والے ملک کے دشمن ہیں، دبئی میں ایک ہزار ارب روپے کی جائیدادیں خریدی گئیں، وہاں پراپرٹیز خریدنے والے کون ہیں، ان لوگوں کو بلا لیں آکر بتا دیں باہر جائیداد کیسے بنائی، یہ رقم واپس آ جائے تو ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت کس بات کا انتظار کررہی ہے، قانون موجود ہے تو کارروائی کریں، پرچہ بناکر لوگوں کو اندر ڈالیں، جن کی جائیدادیں ہیں ان میں سے 10 نمایاں لوگوں کے نام بتادیں، عدالت ان لوگوں کو طلب کر لیتی ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ موجودہ قوانین میں گرفتاری نہیں ہو سکتی، ٹیکس حکام متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔عدالت نے دبئی میں جائیداد رکھنے والے 20 پاکستانیوں کو طلب کرتے ہوئے تمام افراد کو آئندہ جمعرات کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نوٹس کی تعمیل ایف آئی اے کی ذمہ داری ہوگئی۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

