Close Menu
:: Channel 5 ::
  • ہوم
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • سپورٹس
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
What's Hot

دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور

کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے

عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی

Facebook X (Twitter) Instagram
بریکنگ نیوز
  • دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
  • کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
  • عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
  • پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
  • پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
  • ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
  • نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
  • حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
  • پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
  • لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
  • پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
  • خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
  • لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
  • زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
  • میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
  • چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
  • دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
  • سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
  • ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
  • یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات
  • About us
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
:: Channel 5 :::: Channel 5 ::
  • ہوم
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • سپورٹس
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
Facebook X (Twitter) Instagram
:: Channel 5 ::

جے آئی ٹی بننے سے قبل۔۔تحقیقات پر سوالیہ نشان لگ گیا

By adminاپریل 24, 2017
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
Follow Us
Google News Flipboard
law court
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے تحقیقات کیلئے ممکنہ طور پر تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) ٹیکس معاملات میں مشترکہ انتظامی اسسٹنس پر کثیر جہتی کنونشن کے ذریعے دیگر ممالک سے ستمبر 2018 تک معلومات لینے سے قاصر ہے۔ پاکستان اپریل 2017 میں 109 ممالک پر مشتمل معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کا باقاعدہ حصہ بنا تھا، اس تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ٹیکس اور مالی معاملات کی معلومات شیئر کرنا ہے، اس تنظیم کا حصہ بننے کے بعد آئندہ سال سے پاکستان کو اسے اثاثوں کی تفصیلات خود بہ خود ملنا شروع ہوجائیں گی۔ اس کثیر جہتی کنونشن کے تحت پاکستان کو اپنے شہریوں کے بیرون ملک فنڈز کی تفصیلات موصول ہونا شروع ہوجائیں گی اور پاکستان کو بھی تنظیم کے رکن ممالک کے شہریوں کے بینک اکانٹس کی ایسی ہی معلومات جولائی 2018 سے دینا ہوں گی۔ اس حوالے سے غیر رہائشی افراد کی تفصیلات جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان شیئر کی جائیں گی اور ان بینک اکانٹس کی معلومات بھی دی جائیں گی جو اس عرصے سے قبل کھولے گئے۔ اس کے بدلے میں پاکستان بھی اس عرصے میں پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات مذکورہ 109 ممالک سے حاصل کرسکے گا۔ خیال رہے کہ اس عمل کا آغاز پاکستان میں بہت دیر سے ہورہا ہے کیونکہ وہ او ای سی ڈی کا رکن بننے والا آخری ملک تھا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپنے ایک فیصلے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جو 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی اور 13 سوالوں کے جواب تلاش کرے گی، جن کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ان کے جواب تلاش کیے جانے چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاناما پیپرز اور باہاماس لیکس میں 444 آف شور کمپنیوں کے مالکان، جن میں وزیراعظم کے بیٹے بھی شامل ہیں، کے انکشاف کے بعد ستمبر 2016 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باقاعدہ طور پر اس لیکس کی تفتیش کا آغاز کردیا تھا۔ ایک افسر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو جے آئی ٹی بیرون ملک میں موجود متبادل مقامی اور ذاتی ذرائع سے کیس کی تحقیقات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس وقت تک جے آئی ٹی وزیراعظم اور ان کے بیٹے کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات پر ہی انحصار کرے گی۔ لیکن پاکستان کے پاس دنیا کے 9 ایسے مقامات، جو ٹیکس بچانے کیلئے جنت سمجھے جاتے ہیں، سے ایسا کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے کہ ان سے ڈبل محصولات کے ثبوت حاصل کیے جاسکیں، یا یہ معاہدے ان ممالک کو ایسی معلومات کی فراہمی کا پابند کرسکیں۔ ایف بی آر کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق 444 افراد کے نام لیکس میں موجود ہیں جنھوں نے ان دنیا کے 9 مقامات، برطانوی ورجن جزائر (271)، باہاماس (25)، پاناما (84)، سے شیلز (44)، نیو (10)، ساموا (4)، ماریشس (3)، انگویلا (2)، جرسی (ایک) میں کمپنیوں کے مالکان ہیں خیال رہے کہ ان 9 میں سے دو علاقے باہاماس اور نیو، او ای سی ڈی کنویشن کا حصہ نہیں ہیں جبکہ دیگر 7 بلا واسطہ اور بل واسطہ اس کنویشن کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان میں سے 3 علاقے براہ راست برطانیہ کے کنٹرول میں ہیں، جن میں ورجن جزائر، انگویلا اور جرسی شامل ہیں، ان 444 افراد میں سے 274 نے ان تین مقامات پر کمپنیاں قائم کررکھی ہیں۔ مارچ 2014 میں برطانیہ نے او ای سی ڈی کا دائر کار ان تینوں مقامات تک بڑھا دیا تھا۔ واضح رہے کہ جو کمپنیاں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی ملکیت میں ہیں وہ بیشتر برطانوی ورجن جزائر میں قائم ہیں۔ ان 9 مقامات سے آف شور کمپنیوں کی معلومات کیلئے ایف بی آر کو وزارت خارجہ کے ذریعے رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ ایک عہدیدار نے نجی ٹی وی کو یہ تصدیق کی کہ ان تمام 9 مقامات سے معلومات حاصل کرنے کیلئے 18 اکتوبر 2016 کو ایک خط لکھا جاچکا ہے، جس میں ان کے ریونیو حکام سے ضروری معلومات اور دستاویزاتی ثبوت مانگے گئے تھے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ 17 فروری 2017 کو ایف بی آر نے اس معاملے پر وزارت خارجہ کو ایک یاد دہانی بھی کراوئی تھی، ‘ہمیں ساموا سے ایک جواب بھی آیا، جنھوں نے پاکستان کے ساتھ ایسی کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے انکار کردیا’، عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ساموا کا موقف تھا کہ پاکستان اور ان کے درمیان مشترکہ ڈبل ٹیکسیشن کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت سے ایف بی آر نے ساموا سے مذکورہ معاہدے کیلئے کام کا آغاز کردیا ہے،’ہم دیگر علاقوں سے بھی دو طرفہ معاہدوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں’۔ ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈائرکٹریٹ کے مطابق بورڈ پاناما پیپرز میں نشاندہی کی جانے والی کمپنیوں کے مالکان کو 344 نوٹسز جاری کرچکی ہے۔ ان کے ذریعے کمپنیوں کی ملکیت، ان مالی تفصیلات اور دیگر ٹیکس معاملات کی معلومات طلب کی گئی تھیں۔ ایف بی آر ڈائریکٹریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کو 250 افراد کی جانب سے جواب موصول ہوئے جن میں سے 72 افراد نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کی تصدیق کی۔ عہدیدار کے مطابق 12 افراد کی موت کی وجہ سے ان کی بیواں نے جواب دیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ 55 افراد نے دعوی کیا ہے کہ پاناما پیپرز میں نشاندہی کی جانے والی آف شور کمپنیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس حوالے سے 9 افراد نے اپنے جواب میں کہا کہ وہ پاکستانی حکام کی حدود میں نہیں آتے کیونکہ پاکستان میں مقیم نہیں ہیں۔ اس حوالے سے 72 کیسز میں مختلف وجوہات کی وجہ سے تحقیقات خارج کرنا پڑیں جبکہ 84 کیسز میں مذکورہ افراد کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹسز جاری نہ کیے جاسکے۔ریونیو عہدیدار کے مطابق پاناما پیپز میں 155 افراد 600 کمپنیوں کے ڈائریکٹر بتائے گئے تھے، ‘ ان میں سے بیشتر نے محصولات ادا نہیں کیے’۔

admin

Keep Reading

دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور

کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے

عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی

پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی

پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا

ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی

تازہ ترین

دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور

کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے

عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی

پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی

Subscribe to News

Get the latest sports news from NewsSite about world, sports and politics.

Advertisement

Channel 5 : A Project of Khabrain Newspaper.We're social. Connect with us:

  • ہوم
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انٹر نیشنل
  • سپورٹس
  • شوبز
  • دلچسپ و عجیب
  • سائنس اور ٹیکنالوجی

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

Facebook X (Twitter) Instagram
© 2026 Channel 5. Designed by Muhammad Rashid.

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.