کراچی (17 اپریل 2026): ہوشیار ہو جائیں کہ سائبر کرمنلز نے موبائل فون صارفین کو لوٹنے اور ان کے بینک اکاؤنٹس خالی کرنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔
سائبر کرمنلز موبائل فون پر مختلف طریقوں سے صارف کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر کے انہیں دیوالیہ کر دیتے ہیں، جس میں کال کے ذریعہ پاس ورڈ یا او ٹی پی مانگا جاتا ہے۔
تاہم اب یہ طریقہ پرانا ہو گیا اور ہیکرز آپ سے کوئی پاس ورڈ یا او ٹی پی مانگے بغیر ہی آپ کے بینک کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر کے منٹوں میں اس کو خالی کر سکتے ہیں۔ اور یہ سب آپ کے موبائل فون میں موجود ایک معمولی سیٹنگ سے ہوتا ہے۔
حالیہ کچھ عرصہ میں ایک نیا فراڈ سامنے آیا ہے، جس میں وہ صارف کو فون کر کے کسی بھی بہانے سے پاس ورڈ یا او ٹی پی نہیں مانگتے بلکہ صارف کو لا علمی میں اس کے اپنے موبائل فون سیٹنگ کے خفیہ طریقے سے شکار کیا جاتا ہے۔
اس فراڈ میں دھوکے باز خود کو بینک اہلکار، کسٹمر سروس نمائندہ یا ڈیلیوری بوائے ظاہر کرتے ہیں اور کسی بھی مسئلے کا بہانہ بنا کر صارف کو فون کرتے ہیں۔
یہ لوگ نہایت مہارت سے یہ صارف کو مسئلہ بتا کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فون سے ایک مخصوص کوڈ ڈائل کرنا ضروری ہے۔ یہ کوڈ عام طور پر 21# یا 401# ہوتا ہے۔ اکثر لوگ ان کی باتوں میں آ کر یہ کوڈز ڈائل کر دیتے ہیں، جو دراصل خطرے کی گھنٹی ثابت ہوتا ہے۔
جیسے ہی یہ کوڈ ڈائل کیا جاتا ہے، صارف کی کالز، میسجز اور او ٹی پی خفیہ طور پر کسی اور نمبر پر منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں ہیکر باآسانی بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس کے نشانے پر آسکتے ہیں۔
اس طریقہ واردات کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل خاموشی سے مکمل ہو جاتا ہے اور صارف کو اس وقت تک کچھ پتہ نہیں چلتا جب تک نقصان ہو نہ جائے۔
ماہرین کا مشورہ ہے صارفین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے فون کی کال فارورڈنگ سیٹنگز چیک کریں۔ اس کے لیے مخصوص کوڈز #62# یا #21# ڈائل کر کے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا کالز کسی اور نمبر پر منتقل ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اگر اسکرین پر کوئی نامعلوم نمبر ظاہر ہو تو فوراً اسے ہٹا دیں۔
اگر شک ہو کہ فون میں کال فارورڈنگ فعال ہو چکی ہے تو ایک مخصوص کوڈ ##002# کے ذریعے تمام فارورڈنگ سیٹنگز بند کی جا سکتی ہیں، جس سے ممکنہ نقصان سے بچاؤ ممکن ہے۔

