کراچی(9 اپریل 2026): کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا۔
سندھ انفکشنز ڈیزیز اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر واحد راجپوت نے کراچی میں منکی پاکس کے ایک اور کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ متاثرہ مریض 22 سالہ نوجوان ہے جس کا تعلق کراچی کے علاقے بفرزون سے ہے۔
ڈاکٹر واحد راجپوت کے مطابق نوجوان میں اس وقت منکی پاکس کی تمام واضح علامات موجود ہیں اور اسے علاج کے لیے سندھ انفکشنز ڈیزیز اسپتال میں داخل کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حیران کن طور پر متاثرہ نوجوان کی کوئی حالیہ ٹریول ہسٹری سامنے نہیں آئی ہے، جس سے منکی پاکس مقامی سطح پر منتقلی کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق کراچی میں رواں سال منکی پاکس کا پہلا کیس جنوری میں رپورٹ ہوا تھا اور یہ سال کا دوسرا تصدیق شدہ کیس ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے اس حوالے سے مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
منکی پاکس کیا ہے؟ علامات اور وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق اہم معلومات
منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو ‘ایم پاکس’ وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اگرچہ اس وائرس کے قدرتی ماخذ کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے، تاہم شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ افریقی چوہے اور بندر اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں اور اسے انسانوں میں منتقل کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی سب سے واضح علامت جسم پر دانوں یا خراشوں کا نمودار ہونا ہے، جو عام طور پر بخار ہونے کے ایک سے تین دن بعد چہرے سے شروع ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دیگر حصوں میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ دانے مختلف مراحل سے گزرتے ہیں، جن میں دھبے بننا، ان کا ابھرنا اور پھر ان میں پیپ بھر جانے کے بعد جھڑنا شامل ہے۔
منکی پاکس کی دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، شدید تھکن اور غدود کا سوج جانا شامل ہیں۔ اس بیماری کا انکیوبیشن پیریڈ (وائرس داخل ہونے سے علامات ظاہر ہونے تک کا وقت) عام طور پر 7 سے 14 دن ہوتا ہے، تاہم یہ 5 سے 21 دن کے درمیان بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری عام طور پر 2 سے 4 ہفتوں تک برقرار رہتی ہے۔

