(17 اپریل 2026): بجلی کو دھاتی تاروں کے ذریعہ منتقل کیا جاتا ہے تاہم اب بغیر تاروں کے بجلی فراہم کرنے کا انقلابی منصوبہ سامنے آیا ہے۔
بجلی آج پوری دنیا کی ضرورت ہے، یہ صرف گھروں اور کارخانوں کو روشن ہی نہیں کرتی بلکہ زندگی کا دارومدار جن چیزوں پر ہے، ان میں اب بجلی بھی شامل ہو گئی ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی شعبہ کام کا نہیں رہتا۔
بجلی کو دھاتی تاروں کے ذریعہ گھروں، دکانوں، صنعتی کارخانوں، فیکٹریوں، ملوں، کھیت کھلیانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم اب ایک ایسا انقلابی منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جس میں تاروں کے بغیر بجلی منتقل ہو کر نظام زندگی کو رواں رکھے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی یورپ کا ملک فن لینڈ توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے برقی کو بغیر تار کے منتقل کرنے کی جدید ٹیکنالوجی پر تجربات کر رہا ہے۔
تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے جاری اس منصوبے میں وائرلیس پاور ٹرانسمیشن کے ذریعہ توانائی کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں ریڈیو ویوز، مائیکرو ویوز یا مقناطیسی میدان کے ذریعہ برقی منتقل کی جاتی ہے، جس سے تاروں اور کیبلز کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ مستقبل میں برقی کی ترسیل کے روایتی نظام کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو نہ صرف برقی کی سربراہی سستی اور محفوظ ہو جائے گی بلکہ دور دراز علاقوں تک برقی پہنچانا بھی آسان ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ اسمارٹ شہروں، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید صنعتی نظام میں بھی اس ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال ممکن ہوگا۔

