اسلام آباد: گزشتہ 3 برسوں میں ملک کے مجموعی قرض اور واجبات میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، ایسے میں 2005 کے فسکل ریسپانسیبیلیٹی اینڈ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا ہے۔
بل کا مقصد حکومتی گارنٹی کے ذخیرے کو جی ڈی پی کے 10 فیصد پر محدود کرنے اور قرضوں اور واجبات کے حصول کی منصوبہ بندی کے لیے رپورٹنگ میں کمی کے ساتھ پبلک ڈیٹ آفس کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
فسکل ریسپانسیبیلیٹی اینڈ ڈیٹ لیمیٹیشن (ترمیم) ایکٹ 2021 کے عنوان سے بحث کے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں گزشتہ ہفتے پیش کیا گیا تھا جسے وقت کی کمی کی وجہ سے مؤخر کردیا گیا تھا۔
مجوزہ قانون عام طور پر تین اہم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے: جی ڈی پی کے 10 فیصد پر حکومتی ضمانتوں کے ذخیرے کو محدود کرنا؛ ایک درمیانی مدتی قومی میکرو مالیاتی فریم ورک (ایم ٹی ایم ایف ایف) شائع کرنا؛ اور اور وزیر خزانہ کے بجائے فنانس سیکریٹری کو رپورٹ کر کے ایک ہی دفتر میں قرض کے انتظام کے افعال کو ادارہ جاتی بنانا شامل ہے۔
مسودے میں2021 ایکٹ ڈیبٹ پالیسی کوآرڈینیشن آفس (ڈی پی سی او) میں ڈائریکٹرز کی تعداد تین سے بڑھا کر چار کرنے اور اس کا نام بدل کر ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ڈی پی سی او کے تین ڈائریکٹرہوتے ہیں دو نجی شعبے سے اور ایک پبلک سیکٹر سے، اور ان میں سے ایک کو اس کا ڈائریکٹر جنرل منتخب کیا جاتا ہے۔
تاہم نئے ڈی ایم او میں ایک ڈائریکٹر جنرل اور تین ڈائریکٹرز ہوں گے جنہیں ‘نجی یا سرکاری شعبے سے مسابقتی عمل’ کے ذریعے رکھا جائے گا۔
ڈی ایم او کے پاس ‘قرض میں کمی کے راستے’ کی منصوبہ بندی کرنے، اضافی قرضے لینے اور وزارت اقتصادی امور کی مشاورت سے بین الاقوامی قرض دہندگان کے ساتھ قرض کے مذاکرات کرنے کے زیادہ اختیارات ہوں گے۔
ڈی ایم او یا ڈیٹ آفس انتظامی طور پر موجودہ انتظامات کے تحت وزیر خزانہ کی بجائے نئے انتظامات کے تحت فنانس سیکریٹری کو رپورٹ کرے گا۔
بعض شعبوں میں، جیسا کہ عالمی بینک کے قرض کے تحت ڈیٹ آفس وزارت خزانہ کے بیرونی فنانس ونگ کی ذمہ داریاں سنبھالے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب پاکستان کے مجموعی قرض و واجبات ستمبر 2021 تک بڑھ کر 500 کھرب 48 ارب روپے تک جا پہنچے یں جو جون 2018 کے مقابلے 200 کھرب 70 ارب روپے یا 69 فیصد زائد ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق قرض کا یہ حجم مجموعی ملکی پیداوار کے 93.7 فیصد تک پہنچ چکا ہے جو جولائی 2018 میں 86.3 فیصد تھا۔
بل کے مسودے میں مجموعی عوامی قرضوں کی بالائی حد اور ضمانتوں کے اسٹاک پر 10 فیصد کی حد کے اضافے کے ساتھ جی ڈی پی کے 70 فیصد پر ضمانت کی کوشش کی گئی، البتہ 2005 کے ایکٹ کے مطابق جی ڈی پی کے 60 فیصد پر عوامی قرضوں کے اسٹاک کی بالائی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ حکومت پر نئی گارنٹیاں جاری کرنے یا موجودہ گارنٹی کو ایک مالی سال میں جی ڈی پی کے 2 فیصد سے زیادہ نہ لانے کی پابندی بدستور برقرار ہے، تاہم مجوزہ ترمیم میں یہ وضاحت شامل کی گئی ہے کہ قرضوں پر ضمانتوں کا مجموعی حجم تخمینہ کردہ جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ نہ بڑھے۔
































