لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں میں جو لوگ ہیں ان کی کوشش ہے کہ کوئی نہ کوئی ٹرمائل برقرار رہے میرا خیال ہے کہ ابھی تک وزیراعظم کی طرف سے اعلان تو نہیں آئے لیکن بڑے پیمانے پر کوئی پلان آ رہا ہے۔ کیا حکومت مافیا کے خلاف کارروائی کر پائے گی اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ مافیا حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے اگر ہوتا تو حالات یہاں تک نہیں پہنچتے۔ حکومت متحرک ہے اور آئندہ چند روز میں بہت سارے اقدامات ہوں گے۔ سیاستدان تو شروع دن سے چل رہی ہے اس حکومت کو ناکام کرنے کی سازش اور اس کے ساتھ پچھلی حکومت کے جو متعلقین ہیں وہ اس قسم کے حربے استعمال کر رہے ہیں جن سے مہنگائی روز بروز ہی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ابھی تک تو یہی کچھ ہو رہا ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ کرتے ہیں۔ تاخیر کرتے ہیں لیکن رسد اور طلب کے اصول کے تحت جہاں جس چیز کی ضرورت ہو گی اس کے حساب سے اس کی قیمتیں طے ہوں گی۔ اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ موجودہ مہنگائی میں حکومت کہاں تک ذمہ دار ہے۔ جب تک یہ نشاندہی نہ کی جائے کہ بڑے مگر مچھوں سے مراد کون لوگ ہیں اس وقت تک اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو پکڑا جائے گا یا نہیں۔ ضروری ہے کہ نشاندہی ہے ہو کہ کون لوگ ہیں جو اس مسئلے کے ذمہ دار ہیں۔ سیاستدانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ تقریباً ساری جماعتوں میں ہیں۔ جتنے بھی لوگ ملوث ہیں وہ کسی بھی پارٹی سے ہوں۔ ان کی کیا حیثیت ہے کیا مقام ہے ان سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے جو ریلیف دیا جا رہا ہے یہ کافی ہو گا پورے پاکستان میں چند ہزار سٹورز تک محدود کر دینا جبکہ گلی گلی محلے محلے دکانیں موجود ہیں لہٰذا میرے خیال میں تو یہ قابل عمل نہیں ہے۔ اس حکومت کو آئے ہوئے 1½ سال سے اوپر ہو چکا ہے اس دور میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے خاتمہ کے لئے جو اقدامات کرنا ہوں گے وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کرنا ہوں گے۔ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں اتنا تنگ آ جائے گا کہ پھر وہ گھر سے نکلے اور اس کو روکنا مشکل ہو گا۔ آٹے کے بحران میں اگر کوئی تحقیقات ہوتی تو اس کو منظر عام پر آنا چاہئے تا کہ پتہ چلے کہ کون لوگ ہیں س بحران کے ذمہ دار ہیں۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 2019ءمیں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی یہ بڑھ کر ہو گئی ہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس وقت کی وجہ بڑی دقت پیش آ رہی ہے اب تو تقریباً ہر شخص کے لئے یہ نظر آ رہا ہے گھر چلانا مشکل، کارخانہ چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت کو جو کرنا ہے اس کے پاس بہت کم وقت ہے۔حکومت کے پاس زیادہ سے زیادہ 15 دن ہیں ان 15 دنوں میں ان کو یا کوئی بڑا واضح لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ورنہ عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ تیزی سے اقدامات نہ کئے تو اثرات بہت برے ہوں گے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ نظام انصاف میں جو کمزوریاں ہیں ان کو دور ہونا چاہئے۔ مقدمات میں بہت لمبی تاریخی دی جاتی ہیں جس سے کیس لٹکے رہتے ہیں، نیب کے اپنے نظام میں بہت ساری کمزوریاں ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ نوازشریف کی طبیعت ٹھیک ہے۔ شہباز بھی ان کے ساتھ ہیں۔ ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہے ایک ملک کے اندر ہے ایک ملک سے باہر ہے۔
بریکنگ نیوز
- ٹک ٹاک نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کر دی
- ناک کی بالی کا ٹکڑا خاتون کے پھیھپڑوں میں پھنس گیا
- جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے، ماں نے گہنے بیچ دیے، ثاقب حسین کی ڈیبیو میچ میں چار وکٹیں
- زیادہ عمر میں پہلی بار دادا بننے والا آسٹریلیوی شہری
- ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
- بھارت میں مہنگی ترین فلم ریلیز سے قبل ہی لیک، 6 ملزمان گرفتار
- اے آئی کے ذریعے آنجہانی ٹاپ گن اسٹار کی پردے پر واپسی، ہالی ووڈ میں نئی بحث چھڑ گئی
- ایران حکومت کا حقوق تسلیم کئے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار
- ایرانی دارالحکومت میں ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
- ایران کی خودمختاری، سلامتی کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے، چین
- حزب اللہ کا اسرائیل میں 39 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی راہ روک دی، اسرائیل سے متعلق بلز بھی ناکام
- برینٹ خام تیل کی قیمت میں معمولی کمی، 94.49 ڈالر بی بیرل پر آگیا
- مودی کی ناقص پالیسیاں؛ منی پورمیں کشیدگی برقرار،عوام اور سیکیورٹی فورسز آمنے سامنے
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- پاک ترک کمانڈوز اور اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق ’’جناحXIII‘‘ کامیابی سے مکمل
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 10 اضلاع میں نئی الیکٹرو بسیں دینے کی منظوری دے دی
- درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکس قیمت کا 54 فیصد ہے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
- پی ایس ایل: راولپنڈیز کا حیدرآباد کنگزمین کو جیت کیلیے 122 رنز کا ہدف
- واٹس ایپ پر ’’لاک ڈاؤن نوٹس‘‘ نہ کھولیں، ورنہ ۔۔۔۔۔۔ ؟

