لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ڈالر باقی صفحہ5بقیہ نمبر4 کتنے کا ہوا کتنا نقصان ہوا اور پھر واپس کیسے آیا یہ ساری چیزیں اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ میں جس مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ وہ یہ ہے کہ صرف جتنا ایک دن میں فرق پڑا ہے اس کے بارے میں حساب لگا کر بتایا گیا ہے کہ اتنا نقصان ہوا اور اتنا ان لوگوں کو منافع ہوا اور اتنے قرضے تھے جن کی مالیت بڑھ گئی چنانچہ بیٹھے بیٹھے اگر ہم پہلے دس روپے کے مقروض تھے تو اب ہم بارہ روپے کے مقروض ہو گئے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کے موجودہ حکومت نے بہت سے اچھے کام بھی کئے ہیں لیکن پہلے دن سے لے کر آج کے دن تک اس کی معیشت کی خرابی کی جو وجہ ہے اس کی وجہ سے میں ابھی پروگرام میں آ رہا تھا میرے بہت پرانے جاننے والے دوست نے کہا کہ دیکھیں جی اب تو لوگ یہ نعرہ لگانے لگے ہیں میں نے کہا مسلم لیگ ن کے لگا رہے ہوں گے انہوں نے کہا جی کسی کے بھی لگا رہے ہوں لیکن لوگ کہتے ہیں نوازشریف دوبارہ آئے۔ میں نے کہا کہ پہلے ہم انہی کا کیا ہوا بھگت رہے ہیں ان کا اور آصف علی زرداری صاحب کا، انہی دو پارٹیوں کے پاس دو حکومتیں تھیں اور انہوں نے اتنے قرضے لئے کہ آج ہمیں ہماری جان آفت میں ہے کہ ہم نے اتنا قرضہ دینا ہے دورے اداروں اور ملکوں کا کہ ہم اب بالکل آخری سٹیج پر آئے ہوئے ہیں اور آخری بات یہ کہ جس وجہ سے یہ قرضے لئے گئے ان کی کوئی بات ہی نہیں کرتا اور آصف زرداری کے بارے میں میں نے کئی بار اس پروگرام میں کہا نہ شہباز شریف اور نوازشریف کے بارے میں، نہ ان کے بیٹوں اور بھتیجوں کے بارے میں کہ کوئی مسلہ پر کوئی ایک جملہ تک ادا نہیں کرتا کہ وہ ملک سے باہر پیسہ کیوں بھیج رہے ہیں اور اب تک کیوں بھیج رہے ہیں اور صرف منی لانڈرنگ کے ذریعے بھی جتنا پیسہ باہر گیا ہے اس کا حساب بھی لگا لیں کہ اس کا ملکی قرضوں پر کتنا اثر پڑا وہ بھی ایک سب سٹینشلفگر بن گئی ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ اس میں شبہ نہیں کہ عمران خان صاحب کی حکومت کے بہت سارے عزائم بہت اچھے ہیں مسئلہ عزائم پر نہیں ہے مسلہ بازار میں کھڑے اس عوام کا ہے جو چیخ رہا ہے کہ بار بار کہہ رہا ہے کہ بجلی کے بل، گیس کے بل ہم سے نہیں ادا ہوتے اب ہم مزید بوجھ برداشت کر سکتے ٹیکسوں کا اور مہنگائی کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کی جو انفارمیشن پالیسی ہے مجھے ہمیشہ سے اعتراض رہا ہے میرے خیال میں ٹیکنیکل پروفیشنل لوگ جو ہیں اس حکومت کے پاس نہیں ہیں چنانچہ وہ لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے حالانکہ میں ان کی جگہ ہوتا تو سب سے پہلے تو میں اس ملک کے عام آدمی کو بتاتا کہ تمہارے اصل دشمن تو یہ لوگ ہیں جو اس ملک کو لوٹ لاٹ کر چلے گئے ہیں انہوں نے خود تو اپنا گھر بھر لیا کسی کے سوئٹزرلینڈ میں پیسے ہیں کسی کے لندن میں پیسے ہیں ان کو تو کوئی تکلیف نہیں اور اوپر سے وہ باتیں کرتے ہیں لیکن یہ سمجھتے ہیں اور لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا جی ان میں تو یہ برائیاں تھیں لیکن وہ سبسڈی دے کر عام آدمی کو خوش رکھتے تھے اور موجودہ حکومتکے بس میں نہیں رہا کہ عام آدمی کو مطمئن رکھنا یا خوش رکھنا تو دور کی بات ہے چنانچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت کو دو چیزیں نقصان میں لے جا رہی ہیں۔ ایک مسلسل خراب ہوتی ہوئی معیشت اور دوسرا یہ کہ اپنی بات کو ابلاغ نہیں ہے اپنی بات لوگوں تک پہنچانا عمران خان تقریب میں بات ضرور کر لیتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی حکومت جو ہے حکومت کا ہر فرد جو ہے وہ ذمہ دار ہوتا ہے اور لوگوں کو جواب دہ ہوتا ہے وہ کسی بھی جگہ پر موجود نہیں ہے لوگوں کو بتانے کے لئے کہ آج جو آپ کے ساتھ مشکل درپیش ہے اس کے ذمہ دار آپ کے شہر میں، آپ کے محلے میں بیٹھا ہوا آپ کے صوبے میں بیٹھا ہوا ہے اس کو آپ نہیں پوچھ رہے اور کیوں نہیں پوچھ رہے اب تک کوئی جلوس ایسا نہیں نکلا جو آصف علی زرداری کے گھر کے باہر جا کر احتجاج کیا ہوا یا جس نے نوازشریف یا شہباز شریف کے گھر کے باہر جا کر احتجاج کیا ہوا تھا یعنی جب ان کی گرفتاریاں ہوتی ہیں یا گرفتار ہونے کا شبہ ہوتا ہے تو لوگ آ جاتے ہیں ان کو بچانے کے لئے اس کا مطلب ہے کہ حکومت صحیح ابلاغ نہیں کر رہی ہے اور اپنی بات لوگوں تک نہیں پہنچا سکی ہے۔ جو اصل لوگوں کے دکھوں کے مداوا کرنا تھا وہ تو خود اس صورت حال کوپہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ موجودہ حکوومت کی ناکامی ہے کہ وہ اپنی بات لوگوں تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچا سکے۔ نوازشریف سے ن لیگ کے سینئر رہنماﺅں کی ملاقات کے بعد نوازشریف نے حکم دے دیا ہے کہ اب سڑکوں پر تحریک چلائی جائے گی۔ ضیا شاہد نے کہا کہ لوگ اب امید پر ہیں مجھے ایک دوست ملا جس نے کہا کہ اب یہ نعرہ لگنے والا ہے کہ نوازشریف دوبارہ آئے۔ میں اس حکومت کا بڑا سپورٹر ہوں وہ بار بار مجھے کنوینس کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ لوگ آہستہ آہستہ یہ بھول جائیں گے کہ عمران خان نے کیا تقریریں کی تھیں لوگ اس حقیقت پر آتے ہیں یہ حکومت کو پچھلی حکومت سے بھی زیادہ ان کے لئے پہلے سے بھی زیادہ پرابلم پیدا کر رہی ہے میں نے اس لئے کہا تھا کہ دو وجوہات کی بنا پر کسی حکومت کا پنچ محسوس ہوتا ہے ایک اس وجہ سے وہ جو کہتا ہے وہ اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔ موجودہ حکومت دیکھیں نیب کیا ہے، سپریم کورٹ کیا ہے اسلام آباد کا ہائیکورٹ کیا کہتا ہے لوگ ان جزیات میں نہیں پڑتے لوگ موٹی سی بات کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حکوومت یہ کر رہی ہے وہ حکومت میں عدلیہ کو بھی لیتے ہیں حکومت بھی حکومتی پارٹیوں کو بھی لیتے ہیں، حکومت کو اوورآل اپوزیشن کو بھی لیتے ہیں کیونکہ وہ بھی سسٹم کا ایک حصہ ہوتا ہے جو احتجاج کرتا ہے اور حکومت کو راہ راست پررکھتا ہے۔ اگر وہ صحیح طریقے سے کر رہا ہو موجودہ اپوزیشن کی طرح نہیں جو صرف یہ کہتی ہےکہ فلاں کو کیوں پکڑا، فلاں کو کیوں گرفتار کیا فلاں کو ضمانت کیوں نہیں دی اور وہ قطعی طور پر کسی بات پر تعمیری تنقید نہیں کرتی لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ عمران خان صاحب جو باتیں کر رہے ہیں کہ ان کا عملی ثبوت تب ہوتا اگر وہ عمران خان چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کہہ رہے ہیں کہ زرداری جیل جائیں گے کتنی مرتبہ انہوں نے یہ جملہ کہا۔ کہاں گئے وہ جیل۔ ان کی تو ہر چوتھے دن یہ خبر آتی ہے کہ ان کی 6 اور مقدمات میںضمانت ہو گئی ہے، ان کی ضمانت میں توسیع ہو گئی ہے چنانچہ لوگ آہستہ آہستہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جی ایس حکومت کولوں کجھ نہیں ہوندا۔ جو لوگ کرپٹ ہیں یہ نیب جو ہے یہ بھی ان کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے اور اگر کامیاب رہی ہے تو یہ عجیب بات ہے کہ جس حمزہ شہباز کو یہ گرفتار کرنے گئے تھے تو اس نے لوگوں کو جمع کر لیا تھا اس حمزہ شہباز کا بھی عالم یہ ہے کہ ایک دن پہلے نیب کے سربراہ محترم جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ان کے بارے میں سارے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں حمزہ شہباز کا تو کیس میچور ہوا ہوا ہے۔ بھئی میچور ہوا ہواہے تو آپ نے آلو تلنے کے لئے رکھا ہوا تو اس کو کیوں نہیں لے کر آئے۔ چنانچہ جب جرم کا ارتکاب ہوتا ہے اس میں مجرم کو سزا ملنے میں جتنا وقت گزرتا جائے گا لوگوں کی مایوسیاں بڑھتی جائیں گی اور اب مایوسیاں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار جاوید چودھری نے چیئرمین نیب سے ملاقات اور جو باتیں اپنے کالم میں بتائی ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں، یہ سب وہی باتیں ہیں جو میں نے بھی چیئرمین نیب سے ملاقات کے بات کی تھیں، سینئر اینکر مبشر لقمان کے پروگرام میں میں نے بتایا تھا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زندگی کو خطرہ ہے انہیں دھمکیاں دی گئیں، استعفیٰ مانگا گیا کہ بیرون ملک چلے جائیں، بھاری رشوت کی پیش کش کی گئی۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تمام تر دھمکیوں اور جان کے خطرے کے باوجود کرپشن کے خلاف اپنی جدوجہد کو مسلسل جاری رکھا ہوا ہے جس پر پوری قوم کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے، کم از کم ایک شخص تو ایسا ہے جس نے کرپٹ مافیا کا سامنا کیا کسی دھمکی سے نہ گھبرایا اور آج بھی ڈٹ کر کھڑا ہے۔ بیورو کریسی و برس ہا برس سے لوٹ مار کرنے اور حکمرانوں کی سیوا کرنے کی عادی ہو چکی ہے کو موجودہ حکومت کا کرپشن کے خلاف آئیڈیا بالکل نہیں بھا رہا۔ بدقسمتی سے یہاں تو اچھا بیورو کریٹ اس کو سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف پیسے خود کمائے بلکہ سیاستدانوں کی بھی مٹھی گرم کرے انہیں پیسے کمانے کے نت نئے طریقے بتائے۔ بیورو کریسی میں صاحب کردار لوگ آٹے میں مک کے برابر ہیں۔ جنوبی پنجاب کی صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہے کہ وہاں کے افسر تو خدا بنے بیٹھے ہیں کسی کے سامنے خود کو جوابدہ ہی نہیں سمجھتے، چیف سیکرٹری اور تمام محکموں کے سیکرٹری حضرات لاہور میں بیٹھتے ہیں اس لئے جنوبی پنجاب کے بیورو کریٹ خدا بنے بیٹھے ہیں۔ بطور صحافی پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ جنوبی پنجاب میں بیورو کریسی بے انتہا کرپشن کر رہی ہے وہاں پورے نظام کا ستیا ناس ہو چکا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے موٹر سائیکل پر سفر شروع کیا ہے، دیکھیں کتنے دن تک چلتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام سرکاری چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ افسر تک سب سے بیزار ہو چکے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے نیا صوبہ بننے کی صورت میں یہ فرق تو پڑے گا کہ کوئی پوچھنے والا تو ہو گا، اور اس وقت تو لاہور سے آرڈر جاری ہوتا ہے تو وہاں پہنچتے پہنچتے عمر گزر جاتی ہے۔ آصف زرداری سے تفتیش ہو رہی ہے تو اچھا ہے ورنہ ان کی تو صرف ضمانتوں میں توسع کی ہی خبری
ل

