(لاہور، اسپورٹس ڈیسک) — پاکستان کرکٹ ٹیم نے اتوار کے روز قذافی اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جس کے ساتھ ہی 2025-27 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے لیے گرین شرٹس کی مہم کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
شان مسعود کی قیادت میں میدان میں اترنے والی قومی ٹیم نے اسپن پر انحصار کرتے ہوئے دو مرکزی اسپنرز — نعمان علی اور ساجد خان — کو میدان میں اتارا ہے۔ ساجد خان، جو حالیہ دنوں میں وائرل انفیکشن کا شکار رہے، مکمل فٹ ہو کر فائنل الیون کا حصہ بنے ہیں۔ فاسٹ باؤلنگ کا بوجھ حسبِ روایت شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کے کندھوں پر ہو گا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ نے بھی اسپن کے ممکنہ کردار کو بھانپتے ہوئے تین اسپنرز — سائمن ہارمر، سینورن متھوسامی اور پرنیلن سبریئن — کو شامل کیا ہے، جب کہ کاگیسو ربادا اور ویان ملڈر نئی گیند سے حملہ آور ہوں گے۔
یہ ٹیسٹ سیریز پاکستان کے لیے صرف ایک کرکٹ سیریز نہیں، بلکہ ساکھ کی بحالی کا ایک موقع بھی ہے۔ گزشتہ WTC سائیکل (2023-25) میں پاکستان کا سفر نہایت مایوس کن رہا، جہاں وہ نو ٹیموں میں سب سے آخری نمبر پر رہا۔ اب جب کہ اس نئے سائیکل کا آغاز ہو چکا ہے، ٹیم مینجمنٹ اور کپتان کو کھیل کے تمام شعبوں میں بہتری دکھانی ہو گی تاکہ میزبان ٹیم، ایڈن مارکرم کی زیر قیادت آنے والے جنوبی افریقہ کے اعتماد سے بھرپور دستے کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے — جو کہ گزشتہ سال لارڈز میں آسٹریلیا کو شکست دے کر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن بن چکا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم، جو پچھلے WTC سائیکل میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں دیکھ سکا، اب اس اعزاز کا حامل ہے کہ وہ پاکستان کے نئے ٹیسٹ سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ یاد رہے، اسی گراؤنڈ پر مارچ 2022 میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم اس سے قبل 2021 میں پاکستان کا دورہ کر چکی ہے، جہاں اسے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
میچ سے قبل ساجد خان کی شرکت پر شکوک و شبہات تھے، کیونکہ وہ وائرل بخار سے صحتیاب ہو رہے تھے، لیکن ٹیم کے ساتھ گزشتہ روز نیٹ سیشن میں بھرپور شرکت کے بعد انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا۔
میچ سے قبل پریس کانفرنس میں شان مسعود نے واضح کیا کہ جیت کے لیے سب سے اہم عنصر 20 وکٹیں حاصل کرنا ہے، نہ کہ صرف بڑے اسکور بنانا۔
“ہم نہیں چاہتے کہ ایسے فلیٹ پچز ہوں جہاں میچز بغیر نتیجے کے ختم ہو جائیں،” شان نے دوٹوک انداز میں کہا۔
جواباً، جنوبی افریقی کپتان ایڈن مارکرم نے بھی اسپن دوست کنڈیشنز کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم اس چیلنج کے لیے تیار ہے۔
“ہمارے کھلاڑی ان حالات میں بہت زیادہ تجربہ نہیں رکھتے، لیکن یہی تو اصل موقع ہے کہ ہم خود کو آزما سکیں اور کچھ خاص کر کے دکھائیں،” مارکرم نے پراعتماد لہجے میں کہا۔
سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ 20 اکتوبر سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ لاہور کا قذافی اسٹیڈیم آج ایک بار پھر شاہد ہے اس نئی کرکٹ جنگ کا، جہاں نہ صرف گیند اور بلے کا مقابلہ ہو گا، بلکہ اعصاب، حکمتِ عملی اور عزم کا بھی امتحان لیا جائے گا۔
































