لاہور(ویب ڈیسک)فوج اور اداروں پر تنقید کرنے والوں کو عوام قبول نہیں کریں گے ملکی سا لمیت اور تحفظ اسی فوج کے باعث ممکن ہوا ہے گالیاں دینے کی سیاست بری طرح مسترد ہو چکی ہے ہر معاملے میں فوج کو بدنام کرنے کی پالیسی ہر گز نہیں چلے گی فوج کے بعد اب عدلیہ پر تنقید کے نشتر چلائے جائیں گے نظریات کے نام پر ہونیوالی سیاست کے در پردہ ذاتی مقاصد ہیں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو پہلے ایک دوسرے سے معافی مانگنی چاہیے عوام کی یادداشت اتنی کمزور نہیں کہ ان جماعتوں کا ماضی بھول جائیں پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی سیاسی بیعت کر لی ہے پی پی پی اور ن لیگ کا یک نکاتی ایجنڈہ کرپشن کا تحفظ ہے جمہوریت دو جماعتوں کے اتحاد کا نہیں بلکہ رویے کا نام ہے من پسند فیصلوں کو تسلیم اور بصورت دیگر واویلا کیوں کیا جاتا ہے؟”دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبادیکھ”وزیر اطلاعات صمصام علی بخاری کا اپوزیشن کو مشورہ
































