لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو نیب راولپنڈی میں پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا تھا 36 سوال ان سے کئے گئے ظاہر ہے جو انہوں نے پریس کانفرنس بھی کی کسی ایک سوال کا جواب بھی انہوں نے قوم کے سامنے نہیں دیا عدالت کو انہوں نے دینا ہی ہے اس سے پہلے ان کے والد محترم آصف زرداری کے خلاف بہت سی تحقیقات بھی ہو چکی ہیں۔ جے آئی ٹی بھی بن چکی ہیں اور ان سے سوال و جواب بھی ہو چکا ہے اب سیاسی لوگوں کے پاس ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ وہ کہ بجائے اس کے جو پوچھا جائے اس کا جواب دیں وہ اس کو نظر انداز کرتے ہیں وہ کبھی اس کو ایشو بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے کارکنوں کو کیو روکا۔ آپ کے کارکن کوئی جلسہ گاہ میں جا رہے تھے یہ عدالت میں آپ کو اپنے وکلا اور چند ایک ساتھیوں کے ساتھ جانا چاہئے اور سوالوں کا جواب دینا چاہئے جو آپ سے پوچھے رہے ہیں آپ وہاں ایسے جاتے ہیں جیسے آپ وہاں قلعہ فتح کرنے جا رہے ہیں یا کوئی عوامی جلسہ میں تقریب ہے جہاں آپ پمپ اینڈ شو کے ساتھ جا رہے ہیں تو یہ طریق کار درست نہیں آپ عدالت نہیں تسلیم کرتےے اور آپ عدالت کے سوالات کا عدالت کو عدالت سمجھتے ہوئے اس کے جواب نہیں دیتے۔ نہ تو آصف زرداری صاحب نے جو ان سے سوالات انسے پوچھے گئے ان کا کوئی ایک بھی جواب عوام کو دیا ہے نہ بلاول بھٹو زرداری کو جو کل سوال کئے گئے ان کے جواب دینے کی بجائے وہ غیر متعلقہ گفتگو کی۔ سیاسی جماعتیں اس کام میں کامیاب رہی ہیں کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنے لیڈروں کے اوپر دائر مقدمات پر سنجیدگی سے کچھ جو ان پر الزامات ہیں وہ ان کا جواب دیں وہ اس کو سیاسی رنگ دینے میں کامیاب رہی ہیں اور ہر مرتبہ ایک شور مچتا ہے کہ دیکھیں کہ ہمارے ورکروں کو کچھ کہا گیا ہے بھئی ورکر وہاں لینے کیا جاتے ہیں۔ کیا ورکروں نے سوالوں کے جواب دینے ہیں اس معاملے جو عدالتیں ہیں ان کو بھی چاہئے کہ وہ خالصتاً پروفیشنل نقطہ نظر سے ان معاملات کو نہیں ان کو سیاست کا رنگ دینے کا موقع نہ دیں۔ بلاول بھٹو کی طرف سے علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کرنے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ دوغلی پالیسی ہے حالانکہ افواج پاکستان کے ترجمان بھی کہہ چکے ہیں اور کل پرسوں وفاقی کابینہ نے بھی کہا ہے کہ گورنمنٹ کی رٹ کو جو چیلنج کرے ا ہم اس کو بڑی سختی سے پیش آئیں گے لیکن ابھی تک بھی نگوسی ایشن کی کوشش جاری ہے لگتا ہے کہ ان سے کوئی بات چیت جاری ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اس سے گورنمنٹ کی جو رٹ ہے وہ کمزور ہو گی۔ پختون موومنٹ کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کہہ لیں حکومت کہہ لیں سیاسی حکومت کہہ لیں جو بھی ان طاقتوں کو لے کر ہیرو بننے کی کوشش کرے گا اس کو اپوزیشن کی طرف سے یہ شہہ ملنا بہت افسوسناک ہے۔ مثال کے طور پر سندھ میں ایڈز نکل آئی ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس پر بات نہیں کریں گے وہ صرف اس وقت حکومت کی مخالفت کے چکر میں ہیں اور حکومت کا ہر مخالف خواہ اس کی کوئی بھی وجہ کیوں نہ ہو اپوزیشن اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن اپنے خلاف مقدمات کو حقیقی مقدمات نہیں سمجھتی اور اس کا جواب دینے کی تیار نہیں وہ ایشوز کو نظر انداز کر کے سیاسی رخ دے کر ان سارے واقعات کو اپنے تشدد پسند ورکروں کو سامنے لا کر اور ان کو حکومت کے خلاف کھڑا کر کے ایک نیا باب کھول دیتی ہے کہ ہمارے آدمیوں پر تشدد پرتشدد کیا جا رہا ہے۔ کل بھی اسی طرح سے ہوا۔ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے دیکھئے خواتین ہمارے لئے بڑی قابل احترام ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کی پکڑ دھکڑ ہو۔ لیکن اگر سیاسی جماعت یہ طے کر لے کہ وہ خواتین کی لیڈرز کو آگے لائے گی تو پھر اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔ محسن داوڑ نے ایک انٹرویو دیا ہے کہ فوج کو شمالی وزیرستان کا علاقہ چھوڑنا ہو گا۔ جس سے اس کی نیت واضح ہو چکی ہے ضیا شاہد نے کہا کہ وزیرستان سے فوج واپس چلی جائے اس کا کیا مطلب ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ جو نیگٹیو ٹرینڈز رکھنے والے عناصر جو بھی تھے وہ جو کچھ کرنا چاہیں کریں ان کو کھلی چھٹی ہو اور فوج نے جو اس قدر مشکل سے اور اتنی مصیبتوں کے بعد وہاں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے وہ وہاں سے نکل جائے یہ کون سی ملک دوستی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں اب وقت آ گیا ہے کہ ایک لمبی لکیر کھینچی جا سکتی ہے غلط اور درست کے درمیان جو غلط ہے اس کے خلاف سب کو مل کر کھڑے ہونا چاہئے اور آج کی اپوزیشن کو ہر گز ہر گز حکومت کی اپوزیشن، فوج کے اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کی اپوزیشن، پاکستان کے قانون، پاکستان کی کابینہ کی حکومتی مسلمہ قدروں کے خلاف عناصر کا ساتھ دینے والوں کا جس طرح اپوزیشن کر رہی ہے ان کو کوئی شہ نہیں دینی چاہئے ان کی کوئی حمایت نہیں ہونی چاہئے۔ جہاں قوم اور ملک کی سالمیت کی بات ہو وہاں اپوزیشن حکومت کی مخالفت ضرور کرے وہ پاکستان مخالف لوگوں کی حمایت بند کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ اب ایک واضح پالیسی اختیار کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی رورعایت نہیں ہونی چاہئے۔ علی وزیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اگر یہ ثبوت سامنے آ جاتے ہیں جس طرح کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں کیا تھا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ انڈین گورنمنٹ سے یہ طاقتیں مدد لیتی رہی ہیں اگر واقعی بھارتی حکومت سے مالی مدد لیتی رہی ہیں تو پھر کسی قسم رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں ایک بار پھر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات ہو گی اس بارے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس طرح اس کانفرنس کے دوران یا اس کی رسمی کارروائیوں کے دوران ایک آدھ جملے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل ضرورت یہ ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک جامع مذاکرات بشمول کشمیر اور پانی اور دیگر ایشوز پر سنجیدگی سے اہم معاملات پر گفت و شنید ہونی چاہئے اور اس کا کووئی نتیجہ نکلنا چاہئے اس طرح سے کہ اگر کرغزستان میں کانفرنس کے دوران ملاقات ہو گی ہو سکتا ہے وہ ایک دوسرے سے کوئی بات چیت کریں اس قسم کی رسمی بات چیت سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا۔ یہ درست ہے کہ زیادہ امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں ان کو مذاکرات نہیں کہتے کھانے کی میز پر یا کسی اور موقع پر ایک آدھ جملے کے تبادلہ سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔آنے والے بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ بجٹ بڑی خفیہ دستاویز ہوتی ہے عین وقت پر بجٹ کا آخری حصہ وہ کمپوز بھی نہیں کرایا جاتا بلکہ ہمیشہ ہاتھ سے لکھا جاتا ہے جس میں مالی مطالبات ہوتے ہیں اور جس میں نئے ٹیکسز کو بالعموم بجٹ سامنے آنے سے پہلے کبھی سامنے نہیں لایا جاتا۔ لہٰذا کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ بجٹ میں کیا آئے گا یا نہیں آئے گا۔ چونکہ سابق وزیرخزانہ اور موجودہ مشیر خزانہ بھی اس کی تصدیق کر چکے ہیں کافی مشکلات ہوں گی۔ سابق وزیرخزانہ تو کھلم کھلا کہتے تھے کہ بجٹ پر پتہ چل جائے گا اور عوام کا کچومر نکل جائے گا۔ اس قسم کے سخت الفاظ وہ ہمیشہ استعمال کرتے تھے۔ مشکلات اس لئے کہ پچھلی حکومتیں دھڑا دھڑ قرضے لیتی رہی ہیں اور ابب ان کی واپسی کا وقت ہے اور اگر آپ آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے تو آپ کی ایل سی نہیں کھلتیں آپ نہ ایکسپورٹ کر سکتے ہیں نہ امپورٹ نہیں کر سکتے۔ آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو پھر ان کی شرائط منطور کرنا لازمی ہے لہٰذا اس وقت پاکستان مشکل حالات میں ہے البتہ جس طرح عمران خان صاحب نے کہا ہے اور جس طرح سے حفیظ شیخ صاحب نے کہا ہے کہ دو مہینے مشکل کے ہیں اس کے بعد انشائ اللہ پاکستان جو ہے وہ اس بحران سے نکل ?ئے گا اب دیکھتے ہیں کیسے نکلتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔بجٹ بارے دعوے تو کئے جا رہے ہیں کہ عوام دوست ہو گا تاہم سامنے آئے گا تو ہی پتہ چلے گا۔ بجٹ دستاویز حفیہ ہوتی ہے اس کا آخری حصہ جس میں ٹیکسز وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے کو خفیہ رکھا جاتا ہے اسے کمپوز بھی نہیں کیا جاتا بلکہ آخری وقت میں ہاتھ سے لکھا جاتا ہے۔ ملک مالی مشکلات میں اس لئے گرا ہے کہ سابق ادوار میں بے تحاشا قرض لئے جاتے رہے اور اب سود سمیت واپسی کا وقت ہے۔ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا اس لئے اگر نہ جاتے ورلڈٹریڈ میں شرکت نہیں کر سکتے ایل سی نہیں کھولی جاتی درآمد برآمد نہیں کی جا سکتی آئی ایم ایف سے معاہدہ کریں تو اس کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، ملک اس وقت مالی معاملات کا شکار ہے، وزیراعظم اور مشیر خزانہ کہتے ہیں کہ 3 ماہ مشکل کے ہیں پھر بحران سے نکل جائیں گے اس میں کتنا سچ ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔ برسوں سے مطالبہ کر رہا ہوں کہ جب تک جنوبی پنجاب اگر صوبہ نہیں بنتا ڈویڑن اور ضلعی سطح پر فنڈز تقسیم ہونے چاہئیں اور ایک جگہ کے فنڈز کا دوسری جگہ لے جانے پر پابندی ہونی چاہئے کیونکہ اس طرح دور دراز کے علاقوں کو ان کا حق نہیں مل پاتا۔ ڈویںن اور ضلع کی سطح پر طے ہو کہ کتنا فنڈ ملنا ہے تو اس کے مطابق ترقیاتی سکیمیں بنتی ہیں جس سے بہتری آتی ہے بلاول بھٹو کو نیب نے سوالات کے جواب پوچھنے کے لئے بلایا ان کے ساتھ چند وکلا اور لوگ ہی جا سکتے تھے تاہم وہاں کارکنوں کو اکٹھا کیا گیا جس کے باعث ناخوشگوار حالات سامنے آئے اور پکڑ دھکڑ ہوئی۔ کارکنوں کو اکٹھا کرنے کا مقصد عدالتوں پر دبا? ڈالنا ہوتا ہے جو صحت مندانہ رجحان نہیں ہے ایسے اقدامات کے ہمیشہ منفی نتائج ہی سامنے آتے ہیں۔ قائداعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بڑے عوامی لیڈر تھے ان کے خلاف مقدمات چل رہے تھے میں بھی بطور اخبار نویس جاتا تھا وہاں گنتی کے چند لوگوں کے علاوہ کوئی عدالتی کمرے میں نہیں ہوتا تھا۔ بھٹو عدالتوں کا ہمیشہ احترام کرتے تھے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ چل رہا تھا لیکن کبھی انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے ناشائستہ بات نہیں کی۔ بلاول بھٹو قانون سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے، ملکی و عالمی سیاست، علم، معلومات یا کسی بھی میدان میں بلاول کا ذوالفقار علی بھٹو سے کوئی مقابلہ نہیں بنتا بلاول ان کے نواسے ضرور ہیں تاہم ان کا بھٹو سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
بریکنگ نیوز
- ٹک ٹاک نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کر دی
- ناک کی بالی کا ٹکڑا خاتون کے پھیھپڑوں میں پھنس گیا
- جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے، ماں نے گہنے بیچ دیے، ثاقب حسین کی ڈیبیو میچ میں چار وکٹیں
- زیادہ عمر میں پہلی بار دادا بننے والا آسٹریلیوی شہری
- ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
- بھارت میں مہنگی ترین فلم ریلیز سے قبل ہی لیک، 6 ملزمان گرفتار
- اے آئی کے ذریعے آنجہانی ٹاپ گن اسٹار کی پردے پر واپسی، ہالی ووڈ میں نئی بحث چھڑ گئی
- ایران حکومت کا حقوق تسلیم کئے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار
- ایرانی دارالحکومت میں ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
- ایران کی خودمختاری، سلامتی کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے، چین
- حزب اللہ کا اسرائیل میں 39 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی راہ روک دی، اسرائیل سے متعلق بلز بھی ناکام
- برینٹ خام تیل کی قیمت میں معمولی کمی، 94.49 ڈالر بی بیرل پر آگیا
- مودی کی ناقص پالیسیاں؛ منی پورمیں کشیدگی برقرار،عوام اور سیکیورٹی فورسز آمنے سامنے
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- پاک ترک کمانڈوز اور اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق ’’جناحXIII‘‘ کامیابی سے مکمل
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 10 اضلاع میں نئی الیکٹرو بسیں دینے کی منظوری دے دی
- درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکس قیمت کا 54 فیصد ہے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
- پی ایس ایل: راولپنڈیز کا حیدرآباد کنگزمین کو جیت کیلیے 122 رنز کا ہدف
- واٹس ایپ پر ’’لاک ڈاؤن نوٹس‘‘ نہ کھولیں، ورنہ ۔۔۔۔۔۔ ؟

