لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اب تک جتنے بھی مفتیان کرام ہیں مذہبی سکالر ہیں وہ کہہ چکے ہیں کہ اسلام میں خود کش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے دہشت گردی جو ہے اس کی اسلام میں اجازت نہیں۔ میں نے خود فوٹیج دیکھی ہیں جس میں 17,16 سال کا لڑکا ہے جس نے خود کش جیکٹ پہنی ہوئی ہے آتا ہے پولیس کی گاڑی کے پاس اور آ کر اپنے آپ کو اڑا لیتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اصل چیز جو ہے پھر دیکھنا پڑتا ہے کہ جس طرح سے نوعمر لڑکوں کو نابالغوں یا بالغ بھی ہو چکے ہیں ذہنی طور پر بلوغت کو نہ پہنچے ہیں ان کو جس طرح سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ پیسوں کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ مذہبی طور پر ان کو اس بات پر تیار کیا جاتا ہے راغب کیا جاتا ہے وہ اس چیلنج سمجھ کر بات مان لیتے ہیں شاید ان کا جنت میں استقبال ہو رہا ہے اور ہمارے علمائے کرام کو بھی دینی سکالرز کو چاہئے کہ خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ کھل کر اس بات کا اظہار کریں کہ کسی طرح نابالغ ذہنوں کو اس بات پر تیار کیا جاتا ہے کہ وہ کھل کر دھماکے کریں۔ ہمارے دینی مذہبی سکالرز کو اس تصور کے خلاف جہاد کرنا چاہئے کہ یہ کوئی نیکی کا کام ہے اور اس سے واقعی لوگوں کی عاقبت سنور جاتی ہے یہ تو نیکی کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اسلام تو دین رحمت ہے۔ نبی کریم کی تعلیمات جو ہیں وہ تو محبت رواداری اور انس کی روایات ہیں وہ تو کس طریقے سے لوگوں کو خاک و خون میں غلطاں اور لہو میں ڈوبے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک بار پھر اگر ہم کرتے ہیں تو ایک بار پھر عزم تو کریں کہ ہم اس رجحان کو روکنے کی کوشش کریں۔ ایک نئی بات سننے میں آئی ہے کہ عام آدمی کے خلاف دہشت گردی کی تحریک استعمال نہیں ہو گی بلکہ سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال ہو گی سوال یہ ہے کہ جو لوگ پولیس کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہ انسان نہیں تھے۔ پھر یہ کہیں نہیں ہوتا کہ عام آدمی اس میں مارا نہ جائے اگر آدمی پولیس والے تھے جو کام آئے ہیں تو کم از کم 16 بندے ادھر عام شہر اردگرد کھڑے ہوئے تھے وہ بھی بے گناہ ہیں۔ تو ان کا بھی تو کوئی قصور نہیں ہے۔ سکیوورٹی کے لئے نہیں ہوتی ان کے اردگرد لوگ ہوئے ہیں۔ یہ یک بنیادی بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں اس قسم کے واقعات پر مکمل طور پر قابو پانا ہو گا۔ سکیورٹی والے بھی تو انسان ہیں جب وہ صبح گھر سے نکلے ہوں گے تو ان کے دل میں نہیں ہو گا کہ شام کو واپس جا کر اپنے بچوں سے ملوں گا۔ پی ٹی اے کا پارلیمانی اجلاس ہوا ہے اور غیر منتخب لوگوں کو کابینہ میں شامل کرنے پر کابینہ کے ارکان پھٹپرے ہیں کہ پیراشوٹرز کا کیا کام ہے ضیا شاہد نے ایک ارکان کو چاہئے کہ وہ لیڈر کو اختیار د دینا چاہئے کپتان کو اتنا تو اختیار ہونا چاہئے کہ وہ کسی کو کہاں سے ہٹا کر کہاں لے جانا چاہتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کہیں کوئی تبدیلیاں ہوئی ہیں بطور کیپٹن عمران خان کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں کیا فیصلے کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہ کیا فیصلے کرتا ہے یہ مارجن ان کو دینا ہو گا۔ ایک نئی لہر جو دہشت گردی کی اٹھی ہے اور نابالغ یا ذہنی طور پر نابالغ لڑکوں کو استعمال کیا جا رہا ہے ان کو موٹی ویٹ کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ کوئی بڑا نیکی کا کام کر رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے کیا ہمارے علماءکرام دینی سکالر جو مذہبی سیاسی جماعتیں یا مذہبی جماعتیں۔ مذہبی تنظیمیں کس حد تک اس لوڈ کو برداشت کر سکتی ہیں کہ اس غلط تصور کو ختم کریں اور جس طرح سے آج کیا جا رہا ہے کہ اب فیصلہ کیا ہے دہشت گردوں نے وہ عام آدمی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے لیکن سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں گے۔ سکیورٹی فورسز والے بھی تو انسان ہیں۔ بارت پاکستان دشمنی کے رویے سے بات نہیں کرے گا اس پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میرے خیال میں علما اور اساتذہ کو ازخود اس مسئلے میں حصہ لے کر دہشت گردی کے رجحان کو ختم کرنے میں کردارادا کرنا چاہئے۔ رسول کریم کی حدیث ہے کہ آپ برائی کو اپنے ہاتتھ سے روکنے کی کوشش کرو اگر تم اس کی طاقت رکھتے ہو اگر تم اس کی استطاعت نہیں سکھتے تو تم اپنی زبان سے اس کے خلاف بات کرو اگر وہ بھی نہیں کر سکتے، دشمن کا حوف ہے تو پھر اس وقت یہ کہا گیا کہ اسے اپنے دل میں برا سمجھو۔ ارشاد نبوی ہے کہ لیکن یہ دل سے بُرا سمجھنا ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم ہاتھ سے روک سکتے ہیں تو ہاتھ سے روکنا چاہئے زبان سے روک سکتے ہیں تو روکنا چاہئے قلم سے روک سکتے ہیں تو قلم سے روکنا چاہئے اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم دل میں اسے بُرا سمجھنا چاہئے۔ اسد عمر کو چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ بنانے کی منظوری دینے بارے ضیا شاہد نے کہا کہ کابینہ میں تو نہیں اسد عمر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ہے اور اس میں شامل ہو کر پارلیمنٹ کا حصہ بن گئے ہیں جہاں تک ان کی بطور وزیرخزانہ وہ تو ممکن نہیں ہے اور اس کی توقع بھی نہیں کی جانی چاہئے لیکن ان کو ان کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان کو قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے چنانچہ اس طریقے سے آئی ایم ایف سے ان کے سابقہ مداکرات میں اس کی روشنی میں بھی ان کی مدد لی جا سکے گی۔ ایک اچھی مضبوط ٹیم جو ہے وہ سامنے آئے گی جس میں حفیظ شیخ صاحب مشیر خزانہ ہوں گے اور قائمہ کمیٹی برائے خمانہ کے چیئرمین اسد عمر ہوں گے گویا اس طرح سے دونوں نقطہ نظر سامنے آ جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آئی ایم ایف کی مکمل کوشش ہو گی کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کو دبا کر اپنی شرائط منوائے جبکہ پاکستان کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ کم از کم شرائط مانے اور جو شرائط مانی جا رہی ہیں ان کا اطلاق بھی امیر طبقے تک ہو درمیانی طبقے اور نچلے طبقے تک اس کے اثرات نہ پہنچیں۔
آئی ایم ایف کے لوگوں کو ہی پالیسی سازی کیلئے رکھنا ہے تو پھر کچھ باقی نہ بچے گا۔ حکومت کو اب بھی فیصلہ کرنا ہے کہ کسی طرح سے آئی ایم ایف کی دستبرد سے حود کو بچایا جا سکے۔
نجی سکولز مالکان نے فیسوں میں کمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا، ان کے پینل میں تو بڑے بڑے وکیل ہیں جو ان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں 18 ویں ترمیم کی آڑ لی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کاروبار کا حق ہر کسی کو حاصل ہے، مالکان اپنی مرضی کی فیس وصول کر سکتے ہیں اس معاملے پر اب سپریم کورٹ نے ہی حتمی فیصلہ کرنا ہے جس کا پوری قوم کو انتظار ہے۔
بریکنگ نیوز
- ٹک ٹاک نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کر دی
- ناک کی بالی کا ٹکڑا خاتون کے پھیھپڑوں میں پھنس گیا
- جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے، ماں نے گہنے بیچ دیے، ثاقب حسین کی ڈیبیو میچ میں چار وکٹیں
- زیادہ عمر میں پہلی بار دادا بننے والا آسٹریلیوی شہری
- ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو دلچسپ جواب
- بھارت میں مہنگی ترین فلم ریلیز سے قبل ہی لیک، 6 ملزمان گرفتار
- اے آئی کے ذریعے آنجہانی ٹاپ گن اسٹار کی پردے پر واپسی، ہالی ووڈ میں نئی بحث چھڑ گئی
- ایران حکومت کا حقوق تسلیم کئے جانے تک آبنائے ہرمز کو آزاد چھوڑنے سے انکار
- ایرانی دارالحکومت میں ریلی کا انعقاد، شہریوں کا پاکستان سے اظہار تشکر
- ایران کی خودمختاری، سلامتی کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے، چین
- حزب اللہ کا اسرائیل میں 39 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی راہ روک دی، اسرائیل سے متعلق بلز بھی ناکام
- برینٹ خام تیل کی قیمت میں معمولی کمی، 94.49 ڈالر بی بیرل پر آگیا
- مودی کی ناقص پالیسیاں؛ منی پورمیں کشیدگی برقرار،عوام اور سیکیورٹی فورسز آمنے سامنے
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- پاک ترک کمانڈوز اور اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق ’’جناحXIII‘‘ کامیابی سے مکمل
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 10 اضلاع میں نئی الیکٹرو بسیں دینے کی منظوری دے دی
- درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکس قیمت کا 54 فیصد ہے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
- پی ایس ایل: راولپنڈیز کا حیدرآباد کنگزمین کو جیت کیلیے 122 رنز کا ہدف
- واٹس ایپ پر ’’لاک ڈاؤن نوٹس‘‘ نہ کھولیں، ورنہ ۔۔۔۔۔۔ ؟

