لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئے سال پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ سے پاکستان کی عوام خصوصاً جن کے پیاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں کھوئیں، کو شدید تکلیف پہنچی ہے۔خیال رہے کہ سال نو کے آغاز پر امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ امریکا نے پاکستان کو 15 سال میں 33 ارب ڈالر سے زائد امداد دے کر بے وقوفی کی، پاکستان نے امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا جبکہ وہ ہمارے رہنماو¿ں کو بیوقوف سمجھتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جہاں سے دہشت گرد افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔امریکی میڈیا فوکس بزنس کے پروگرام ‘آفٹر دی بیل’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘ مجھے نہیں لگتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کوئی ایسی نیت ہوگی پر ان کے اس ٹویٹ نے پاکستانی عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔
انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اپنے بیان میں 33 ارب ڈالر کے امداد کی بات کی تاہم امداد پر امریکی عوام، امریکا کے ٹیکس دہندگان اور امریکی حکومت کا سوال کرنا ان کا حق ہے تاہم انہوں نے یاد دلایا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ جس کے تحت امریکا نے 33 ارب ڈالر پاکستان کو دیے یہ پاکستان کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف لڑنے کا معاوضہ تھا۔
انہوں نے پاکستان کو طالبان کی حمایت کرنے کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں 75 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ افغانستان میں دہشت گرد اب بھی 75 فیصد حصوں میں سرگرم ہیں اور افغانستان کی 45 فیصد زمین حکومت کے قبضے میں ہی نہیں ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر پوری نیٹو فورس اور افغان حکومت مل کر افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرسکتے تو پاکستان سے ایسا اکیلے کرنے کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے امریکیوں سے زیادہ پاکستانیوں کی جانیں لیں ہیں اور ہم پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے خلاف کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں ماضی کی یاد دلائی اور کہا کہ امریکی حکومت نے افغان جنگ میں طالبان اور مجاہدین کی حمایت کی تھی اور پاکستان حکومت کو بھی ان کی حمایت کا کہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو نے امریکا کے سابق صدر جارج بش کو افغانستان معاملے میں خبردار کیا تھا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ماضی کو نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ مستقبل کا سوچتے ہیں۔اختتامی کلمات میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان اور امریکا کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
































