قصور (بیورو رپورٹ) مصطفی آباد قصور میں بااثر ملزمان محنت کش کی جواںسالہ بیٹی کو اسلحہ کی نوک پر اٹھا کر لے گئے ایک فیکٹری میں ملازمت کرنیوالے امیر کالونی مصطفی آباد کے عمر حیات نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے اور اس کی اکلوتی بیٹی (ر) ہی گھر کے کام کاج کرنے کے ساتھ ساتھ کھانا وغیرہ تیار کرتی ہے ملزم داﺅد ولد اقبال اس کے ساتھ فیکٹری میں کام کرتا چلا آرہا ہے اور اسے علم ہے کہ میری ایک جواںسالہ بیٹی ہے مذکورہ ملزم نے ریاض حسین کے علاوہ دیگر دو ملزمان کے ساتھ (ر)کو اغواءکرنے کا منصوبہ بنایا اور وقوعہ کے روز جب میں فیکٹری میں کام کر رہا تھا چاروںملزمان سفید رنگ کی ایک گاڑی میں میرے گھر گئے اور میری بیٹی سے کہا کہ تمہارے باپ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ تمہیں ہسپتال میں یاد کررہے ہیں روتی پیٹتی میری بیٹی میری بیماری کا سن کر ملزمان کی بات پر یقین کر بیٹھی اور یہ چاروںملزمان اسے گاڑی میںبیٹھا کر اغواءکرکے لے گئے عمر حیات کے مطابق وہ اپنے طور پر ملزمان کو تلاش کرتا رہا مگر اسے ملزمان یا مغویہ کے متعلق کوئی علم نہیں ہوسکا بیٹی کے والد کا کہنا ہے کہ ملزمان نے (ر) کو زیادتی کی غرض سے اغواءکرلیا ہے محنت کش مدعی عمر حیات نے چیف جسٹس آف پاکستان اور روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاءشاہد سے اپیل کی ہے کہ درندہ صفت ملزمان کے چنگل سے اسکی بیٹی کو بچانے کے لیے اس کی مدد کی جائے۔
































