تازہ تر ین

سی این جی سٹیشن مالکان سراپا احتجاج ، مکمل ہڑتال کی دھمکی

کراچی ( ویب ڈیسک ) سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے سندھ میں ہفتے میں چار دن گیس کی لوڈ شیڈنگ کیے جانے پر سی این جی (کمپریسڈ نیچرل گیس) اسٹیشن مالکان نے سخت تنفید کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ مکمل ہڑتال کردیں گے۔پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے گیس لوڈ شیڈنگ میں اضافے کے ستائے ہوئے سی این جی اسٹیشن مالکان نے ایس ایس جی سی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور اپنے خلاف امتیازی سلوک کی سختی سے مذمت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان سی این جی فورم کے چیئرمین سلیمان جی نے کہا کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے غیرمعمولی طور پر لوڈ شیڈنگ امتیازی اقدام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سی این جی اسٹیشنز پر ایک ہفتے کے دوران متبادل دنوں میں تین دن کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی تھی جس سے کچھ حد تک سی این جی صنعت رواں دواں تھی۔لیکن اب رمضان کے آغاز سے ایس ایس جی سی نے 2 دن تک سی این جی بند رکھنے کے پرانے حربے آزمانے شروع کردیے ہیں، جس کے باعث اب بروز بدھ اور جمعرات کے ساتھ ہفتہ اور پیر بھی سی این جی بند رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں عوام کو سہولیات فراہم کی جانی چاہیے لیکن اس طرح کے اقدامات سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے ۔ اس ضمن میں کراچی ٹرانسپورٹر اتحاد ( کے ٹی آئی) کے سربراہ ارشاد بخاری کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی حوصلہ افزائی پر عوام نے اپنی کاروں، وینز، بسوں، پرائیویٹ اور کمرشل گاڑیوں کو سی این جی پر منتقل کرکے 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ان کا کہنا تھا کہ سی این جی کو ماحول دوست اور کم قیمت ایندھن کے طور پرمتعارف کرایا گیا، جس کے باعث 90 فیصد ذرائع آمدورفت سی این جی پر منتقل ہوگئے اور اب ان کے پاس متبادل ایندھن کی سہولت میسر نہیں۔چناچہ مسلسل 48 گھنٹے جاری رہنے والی لوڈ شیڈنگ ٹرانسپورٹ کی روانی کو متاثر کررہی ہے جو کہ عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔اسی سلسلے میں آل پاکستان سی این جی فورم کے صدر جنید مکدا کا کہنا تھا کہ سندھ کے سی این جی سیکٹر میں ایس ایس جی سی کی سپلائی کا صرف 6 فیصد حصہ استعمال ہوتا ہے، اس کے ذریعے ملکی خزانے میں کئی مالی فوائد حاصل ہورہے ہیں جس میں بالواسطہ اور بلاواسطہ روزگار کی فراہمی، تجارتی خسارے میں کمی اور آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول کرنا شامل ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب میں سی این جی ڈیلر ایسوسی ایش کے چیئرمین سمیع خان کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 158 کے تحت بنیادی حقوق کے عدالتی احکامات کی، سی این جی سیکٹر کے علاوہ ایس ایس جی سی اور دیگر تمام شعبہ جات کی جانب سے خلاف ورزی کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سی این جی کے علاوہ باقی سب کو بغیر کسی رکاوٹ ہفتے کو ساتوں دن گیس فراہم کی جاتی ہے، قدرتی گیس کی محدود صنعت کی کھپت میں گزشتہ 5سالوں کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے اس بات سے قطع نظر کے بجلی بنانے کے دیگر ذرائع موجود ہیں لیکن کم لاگت میں بجلی بنانے کے لیے گیس کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے سلیمان جی کا مزید کہنا تھا آئندہ مہینوں میں ڈیزل اورایندھن کی قیمتیں 100 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان ہے، اس لیے حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر ملک میں سی این جی کی صنعت کو اہمیت دینا بہت ضروری ہے تا کہ ذرائع آمدورفت کے لیے سستا ایندھن فراہم کر کے تجارتی خسارے میں کمی کی جاسکے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی



آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv