لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو کریڈٹ جاتا ہے کہ امن و امان اور دیگر سہولتوں کے حوالے سے ان کا دور ایک بہتر دور تھا لیکن بہت ساری چیزیں اب سامنے آ رہی ہیں جیسے پانی کی کمپنیوں پر وہ چیف جسٹس کے سوال کا جواب نہیں دے سکے۔ میری اور امتنان صاحب کی ان سے ملاقات ہوئی تھی، ان سے کہا تھا کہ آپ کی حکومت کے بہت اچھے کام ہیں، لاہور میں بڑی بہتر صورتحال رہی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی سب بھی ٹھیک ہے۔ ہمیشہ کہا کہ آپ پر الزام عائد ہوتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ اورنج ٹرین و میٹرو پر جو خرچ کیا انہی اخراجات سے اس سے بہتر فوائد حاصل کئے جا سکتے تھے۔ شہباز حکومت میں صرف ایک شہر قصور میں 300 لڑکوں کے ویڈیو سکینڈل 3 سال پہلے رانا ثناءنے کہا کہ زمینوںکا مسئلہ ہے، ایسے مسئلے میں بچے کہاں سے آ گئے؟ 2 ماہ سے زائد ہو گئے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک تحریری درخواست لکھی ہوئی ہے کہ آپ نے زینب قتل کیس پر از خود نوٹس لیا تھا، زینب کے بعد یہ تعداد اب 140 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر ایسے واقعات میں کمی آئی ہوتی تو چیف جسٹس و شہباز شریف کو سلیوٹ کرتا لیکن یہ سلسلہ تو بڑھتا جا رہا ہے۔ اپنے پروگرام کے ذریعے چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ سب سے بڑے مسئلے کو ایک دفعہ چھیڑ کر آپ توجہ دینے کو تیار نہیں، کوئی کمیشن یا کمیٹی بنائیں جو ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کام کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصغر خان کیس میں جونام آئے اور وہ جس قیمت پر بک گئے سن کر حیرت ہوئی۔ حیرت ہے صف اول کا لیڈر بھی 10 لاکھ میں بک جاتا ہے، جن ناموںکی لسٹ آئی ہے ان کی شان و شوکت، عزت، رتبہ و مقام دیکھیں پھر وہ رقم دیکھیں جتنے میں فروخت ہو گئے حیرانگی ہے۔ عابدہ حسین نے اچھا کیا رقم واپس ددے گئی لیکن پہلے پیسے لئے کیوں تھے۔ اتنے بڑے نام جن کے پاس پہلے ہی کسی چیز کی کمی نہیں، ایک چھوٹی سی رقم پر ان کے بک جانے پر شرم آتی ہے۔ الطاف حسین قریشی میرے استاد ہیں وہ 10 لاکھ میں بِک گئے۔ نواز شریف نے میری موجودگی میں کئی دفعہ طالبعلموں کی مختلف سہولتوں کے لئے 20,20 لاکھ دیے، لاکھوں روپے وہ خیرات میں دے دیتے تھے وہ خود 60 لاکھ میں بک گئے۔ اس کا مطلب کہ ہم اس قدر گھٹیا قسم کا بکاﺅ مال ہیں کہ کوئی بھی تھوڑی سے رقم میں خرید سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جو بھی نگران وزیراعلیٰ آیا اچھا ہے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب محمودالرشید میں کوئی میچورٹی نہیں۔ عمران خان کو 2 دفعہ کہا کہ ان کی تربیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے وعدہ بھی کیا۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے سرگرم اراکین تھے، محنتی تھے لیکن پنجاب میں نالائق ٹیم تھی، لوگوں کی موجودگی میں یہ بات عمران خان سے کہی۔ ان سے کہا کہ اگر اس قسم کے معیار کے لوگوں کے ساتھ اسمبلیوں میں جانا ہے تو پھر کوئی مستقبل نہیں۔ آج پنجاب حکومت کے جتنے بھی سکینڈل منظر عام پر آرہے ہیں۔ تحریک انصاف کی 34ارکان کی ا پوزیشن کی طرف سے 5 سالوں میں کبھی کسی ایک سکینڈل کا نہیں سنا۔ پرانے لوگوں کو محنت کرتے دیکھا تھا وہ پوری تیاری کرتے تھے اور حکومتوں کو ٹف ٹائم دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پہلی بیگم جمائما بہت اچھی و باوقار خاتون ہیں۔ ان کی شادی پر بہت مبارکباد بھی دی تھی اور یہ شادی ختم ہونے پر ذاتی طور پر دکھ ہواتھا۔ وقت نے ثابت کیا وہ ایک اچھی خاتون ہیں۔ طلاق کے باوجود مشکل وقت میں انہوں نے نہ صرف بچوں کی دیکھ بھال کی بلکہ عمران خان کی منی ٹریل میں بھی سب سے زیادہ محنت کی۔ دوسری شادی عمران خان کی واحد شادی ہے جس پر کبھی مبارکباد دی نہ ملنے گیا۔ ریحام خان سے آج تک نہیں ملا۔ ابھی شادی نہیں ہوئی تھی کہ جنرل(ر) حمید گل نے مجھے فون کر کے کہا کہ عمران خان کو منع کریں۔ میں نے کہا کہ عشق و مشک چھپائے نہیں چھپتے اوراس وقت عمران خان اس میں پھنسا ہوا ہے۔ بات کرنا فضول ہے۔ ریحام سے عمران خان کی شادی کے چھٹے روز مجھے برطانیہ سے خبر ملی ان کی شادی ختم ہو جائے گی۔ ریحام 6دنوں میں اپنے شوہر کی اتنی برائیاں کر رہی ہے حیران ہیں کہ شادی کیسے چلے گی۔ وہی ہوا دیکھتے دیکھتے شادی ختم ہو گئی۔ حمید گل نے مجھے بتایا کہ جب ریحام خان ان سے ملنے آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ فلاں شخص، ادارے کو جانتی ہیں، کیا یہ درست ہے کہ انہوں نے آپ کو یہاںبھیجا ہے اور میرے حساب سے عمران خان کو ٹریپ کرنے کا مشن سونپا گیا ہے۔ یہ ساری باتیں میرے پروگرام میں بھی نشر ہوئیں اور خبریں میں بھی چھپی تھیں۔ حمید گل اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ دنیا کی حساس ایجنسیوں کے بارے میں بڑی معلومات رکھتے تھے۔ میں اب بھی متفق ہوں کہ ریحام خان سے عمران خان کو ٹریپ کیا۔ شادی کی اور پھر فوری ان کے فلم بنانے کی خبریں آنے لگیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ شادی کے 11ویں روز انہوں نے فلم بنانے کا ذکر چھیڑ دیا۔ ایک مہینے کے اندر اندر کروڑوں روپے اکٹھے کرنے شروع کر دئیے۔ انہوں نے فیصل واڈا سے 3کروڑ، علیم خان سے1 کروڑ فلم بنانے کےلئے مانگے۔ وہ کروڑوں روپے اکٹھے کر کے فلم بنانا چاہتی تھیں، کیا انہوں نے پہلے کبھی کوئی فلم بنائی تھی؟ اس سے زیادہ خوفناک بات یہ کہ مجھے برطانیہ سے کسی نے ان کے پہلے شوہر کے ساتھ مقدمہ سازی کی دستاویزات بھیجیں۔ معلوم نہیں وہ درست تھیں یا غلط لیکن ان کے مطابق ان کی شوہر سے لڑائی یہ تھی کہ ان کی ایک بچی تھی جس پر شوہر نے الزام لگایا کہ یہ میری بیٹی نہیں ہے پھر اس پر کیس چلا، ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہوا اور اسی وجہ سے طلاق ہوئی تھی۔ یہ سب بھی ہمارے اخبار میں چھپا تھا۔ برطانیہ میں جب طلاق ہوتی ہے تو اثاثوں کی تقسیم 50,50 فیصد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے ان کے نام جانتا ہوں جنہوں نے سیتا وائٹ کیس پر ساری دستاویزات اکٹھی کیں۔ ان کے نام بھی جانتا ہوں جنہوں نے بہت پہلے یہ دعویٰ کیا تھا، انہی ایجنسیوں نے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروا کر رکھے ہوئے تھے۔ عمران خان پر الزامات کی بوچھاڑ بنانے کےلئے پورے کیس تیار کر رہے تھے۔ حنیف عباسی ایفی ڈرین کیس کا لٹیرا، میں اسے راولپنڈی میٹروبس کا لٹیرا کہتا ہوں۔

































