لاہور: (ویب ڈیسک) سعد حیات ٹمن کو ورلڈ اکنامک فورم نے حال ہی میں ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے2023کے سالانہ اجلاس میں ینگ گلوبل لیڈرکمیونٹی اور پاکستان کی نمائندگی کیلئے منتخب کیا ہے۔درحقیقت ہر برس ینگ گلوبل لیڈرز کا فورم دنیا بھر میں مختلف کمیونٹیز اور صنعتوں سے تعلق رکھنے والے 40برس سے کم عمر لیڈروں کی شناخت،انتخاب اور ان کو سراہنے کیلئے ایک سخت انتخابی عمل سے گذرتا ہے۔بقول ان کے”یہ نوجوان لیڈرز اس مثال پر پورا اترتے ہیں،جس کی ہمیں آج ضرورت ہے،امید،ہمدردی،سچائی اورایسے حل جو دنیا کو بہتر بناسکتے ہیں۔“
سعد حیات ٹمن 2022کی ینگ گلوبل لیڈرز کلاس کیلئے پاکستان سے منتخب ہونے والے صرف دو نمائندوں میں سے ایک تھے،جبکہ دوسرے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی نگہت داد تھیں۔سعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے اسٹریٹجک ریفارمزاینڈ امپلیمنٹیشن یونٹ کے رکن رہے ہیں،جہاں انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات پر وزیر اعظم کی ٹاسک فورس کی حمایت کے ساتھ ساتھ کابینہ کے اراکین کو زراعت،سول سروسز اور ماحولیاتی تبدیلیوں میں اہم اصلاحات کے متعلق مشورے دیئے اور وزیر اعظم کی وفاقی کابینہ کے ساتھ کارکردگی سے متعلق معاہدوں پر عملدر آمد میں بھی شامل رہے۔سعد فی الحال سندھ طاس کی ماحولیاتی بحالی کیلئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے Living Indus initiative کے نیشنل کو آرڈینیٹر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز مینجمنٹ بورڈ کے رکن بھی ہیں۔سابق Fulbright scholar of distinction, وزیر اعظم کے دفتر میں خدمات سر انجام دینے سے قبل پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی تبدیلی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئےMcKinsey & Company کے ساتھ مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرچکے ہیں،وہ عالمی بینک او ر اقوام متحدہ کیلئے مشاورت کی خدمات بھی سر انجام دے چکے ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں ایک بکھری ہوئی دنیا میں تعاون کے موضوع پر مبنی عالمی مسائل کے حل کیلئے حکومت،کاروبار اور سول سوسائٹی کے رہنما موجود تھے۔سالانہ اجلاس میں سعد نے عالمی رہنماؤں بشمول سربراہان مملکت،کابینہ کے اراکین اور صنعتی رہنماؤں جیسے مائیکرو سافٹ کے سی ای او ستیہ ندیلا اوردیگر اہم شخصیات سے بات چیت کی۔سعد نے خود سندھ کی ماحولیاتی بحالی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے اہم اقدام کی نمائندگی کی،جسے وفاقی وزیر ماحولیات شیری رحمن نے کراچی کونسل برائے خارجہ امور اور پاتھ فائنڈر گروپ کے زیر اہتمام پاکستان کے سرمایہ کاروں کے فورم میں پیش کیا۔
سعد ٹمن کا اپنے دورے کے حوالے سے کہنا ہے کہ”ایک نوجوان عالمی رہنما کے طور پر ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی نمائندگی کرنا باعث اعزاز اور قابل فخر ہے۔بین القوامی شراکت داروں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور غذائی تحفظ جیسے اہم شعبوں کے ساتھ حالیہ بدترین سیلاب اور مہنگائی کے موجودہ بحران کے تناظر میں پاکستان کے نوجوانوں کے نقطہ نظر کی نمائندگی کرنا انتہائی اہم تھا۔“
سعد نے مزید کہا کہ ہم ایک بکھری ہوئی دنیا میں رہتے ہیں،جہاں بڑی حد تک بے ضابطگیاں اور پولرائزیشن ہے،اب وقت آگیا ہے کہ ساطق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر ماحولیات ملک امین اسلم کے 10بلین ٹری منصوبے میں سرمایہ کاری کی جائے،ہمیں لیونگانڈس جیسے اقدامات کے ذریعہ تعاون کے زیادہ سے زیادہ شعبے تعمیر کرنا ہوں گے،جس کا تصور گزشتہ حکومت نے دیا تھا اور اب وفاقی وزیر ماحولیات شیری رحمن اس کی قیادت کررہی ہیں۔
































