تازہ تر ین

مسئلہ کشمیر کا حل ،مودی کو پھر مذاکرات کی دعوت لانگ مارچ کریں ،یا الٹا لٹک جائیں ،ڈاکوﺅں کو این آراو نہیں ملے گا:عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی کو ایک بار پھر مذاکرات سے تنازع کشمیر کے حل کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئیں ہمارے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر حل کریں ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے ،مذاکرات کی دعوت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،اللہ کی غلامی کرنے والے کسی کے سامنے ،سارا پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کوٹلی آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا میرا یہاں آنے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ دنیا نے 1948 میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا، دنیا کو یاد کرانے آیا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے ۔ اقوام متحدہ نے مشرقی تیمور جہاں عیسائی اکثریت میں تھے انہیں فوری طور پر ریفرنڈم کے ذریعے آزادی دی ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی یاددہانی کرائی اور ہمیشہ انہیں یاددلاؤں گا کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ کشمیریوں کو یہ پیغام ہے کہ جب بھی انہیں حق خودارادیت ملے گا اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے تو ان شائاللہ پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے ، اس کے بعد ہم انہیں پورا اختیار دیں گے کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے مسلم دنیا کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اگر مسلمان حکومتیں کسی وجہ سے حمایت نہیں کرتیں تو وہاں کے عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انصاف پسند غیرمسلم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہیے ۔ کشمیری ماؤں کے اس کرب کا احساس ہے جب انہیں اپنے بچے کے لاپتا،شہید یا گرفتار ہونے کی اطلاع ملتی ہے ۔ ہمیں احساس ہے کہ کشمیری کس قسم کے ظالم کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس کے سامنے کھڑے ہیں ۔ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا میں ہرجگہ کشمیر کا سفیربنوں گا ۔ ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ اقوام متحدہ ،عالمی رہنماؤں اورمیڈیا سمیت ہرجگہ پر ان کیلئے آواز بلند کی ہے ۔ سابق امریکی صدر سے مسئلہ کشمیرحل کرانے کے حوالے سے تین مرتبہ بات کی۔ جب پاکستان میں ہماری حکومت آئی تو ہم نے پوری کوشش کی کہ بھارت کے ساتھ دوستی کریں۔ ان پر یہ باور کرایا کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے ظلم سے حل نہیں ہوگا۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں بھی کوئی قوم کھڑی ہوجائے تو بڑی سے بڑی فوج بھی ناکام ہوجاتی ہے ۔ امریکا سپر پاور ہونے کے باوجود ویتنام میں نہیں جیت سکا۔ تیس لاکھ قربانیاں دے کر ویتنام آزاد ہوا افغانستان میں بھی سپرپاور کامیاب نہیں ہوسکی۔ الجیریا میں فرانس ظلم کے باوجود کامیاب نہیں ہوا ، کشمیریوں نے غلامی قبول نہ کرنے کا عزم کیا ہوا ہے ، یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں بھی آزادی کا جذبہ ہے ، ایک لاکھ کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے ،ہندوستان کشمیر میں مزید فوج بھی لے آئے تب بھی وہ ان سے کبھی نہیں جیت سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مودی سے بات چیت سے تنازعات کے حل کی کوشش کی ،پھر کہتا ہوں کہ بات چیت کے علاوہ تنازعات کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ ہمیں شروع میں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ بھارت کیوں مذاکرات نہیں کرتا، پھر پلوامہ کا واقعہ ہوا اوران کے جیٹ طیاروں نے ہمارے درخت شہید کئے ، مجھے درختوں سے خاصا لگاؤ ہے تو جب انہوں نے درخت شہید کردئیے تو مجھے خاصی تکلیف ہوئی ، تب علم ہوا کہ یہ بات چیت نہیں چاہتے بلکہ یہ انتخابات جیتنا چاہتے تھے ۔ گوسوامی واٹس ایپ لیکس سے ان کے عزائم بے نقاب ہوئے کہ یہ طے شدہ منصوبہ تھا کہ انتخابات جیتنے کیلئے یہ حربہ استعمال کرنا ہے ۔یورپی یونین ڈس انفولیب نے بھارت کی طرف سے پاک فوج اور میرے خلاف پراپیگنڈا کرنے کیلئے 600 جعلی اکاؤنٹس کا بھانڈا پھوڑا ۔ ہم ان سے دوستی کیلئے کوشاں تھے اوروہ ہماری جڑیں کاٹ رہے تھے ۔ آر ایس ایس کا مودی نظریہ بے نقاب ہوچکا ہے ، یہ نظریہ جس ملک میں بھی پروان چڑھا اس نے ملک کا نقصان کیا۔ سٹیزن شپ ایکٹ سے بھارتی مسلمان تنگ جبکہ کسان بھی ان سے تنگ ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کو دعوت ہے کہ آئیں ہمارے ساتھ ملکر کشمیر کا تنازع حل کریں۔ بھارت 5 اگست 2019 کا متنازعہ اقدام واپس لے ،کشمیریوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق دے ،پھر ہم بھارت سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں گے ۔ پاکستان لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا اور ہم اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکنے والے نہیں، ہمیں کسی کا خوف نہیں، اللہ کی غلامی کرنے والا کسی اور کی غلامی نہیں کرسکتا، ہم کشمیریوں کا حق چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگیاں جمہوری اورانسانی حقوق کے ساتھ گزاریں سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔ وزیراعظم نے کہاہم نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے والے ہیں، سارے صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ۔ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے وہ لوگ جو بمباری کی وجہ سے اپنے گھربار چھوڑ چکے ہیں ، مشکلات میں ان کی پوری مدد کریں گے ، ان کیلئے جامع پیکیج تیار کیا ہے ۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ میں ہر قسم کی سوچ اورنظریے کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہوں تاہم بڑے بڑے ڈاکوؤں کو این آر او نہیں دوں گا ،یہ نہیں ہوسکتا کہ طاقتور کیلئے الگ اور کمزور کیلئے الگ قانون ہو، اگر ان چوروں نے لانگ مارچ کرنا ہے ، کریں میں ان کی مدد کروں گا لیکن یہ الٹا بھی لٹک جائیں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اپنے پیغام اور ٹویٹ میں کہا پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لئے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا،عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف کارروائی اور اس سے جوابدہی کرنی چاہیے ، بھارت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے مقبوضہ کشمیر میں جانے کے لئے رسائی فراہم کرے ۔انہوں نے کہا بھارت اگر مخلص ہے تو ہم امن کے لئے دو قدم آگے بڑھنے کو تیار ہیں لیکن کسی کو بھی ہماری امن و استحکام کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے ۔ بھارت سات عشروں سے کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے اور جبر کے باوجود کشمیری عوام کے جذبہ آزادی اور حق خودارادیت کیلئے ان کی جدوجہد کو کمزور نہیں کر سکا اور اب کشمیریوں کی نئی نسل ان کی جدوجہد کو ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام کے لئے وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کی حق خود ارادیت کی منزل اب زیادہ دور نہیں، پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق ملنے تک ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔ پاکستان نے خطے میں ہمیشہ امن کے فروغ کے لئے کام کیا ہے لیکن سازگار فضا قائم کرنے کا بوجھ اب بھارت پر ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان سے سرگودھا سے تعلق رکھنے و الے رہنمائوں کے وفد نے ملاقات کی جن میں اسامہ غیاث میلہ، انصر اقبال ہرل اور میجر جنرل (ریٹائرڈ) سلیم میلہ شامل تھے ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا موجودہ حکومت کسانوں کی خوشحالی اور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے پر عزم ہے ۔عنقریب کسانوں کے لئے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے زرعی پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔ آج ملک میں گنے ، چاول، سٹرس کے کاشتکاروں کو فصلوں کا زیادہ منافع مل رہا ہے جس سے دیہی علاقوں میں خوشحالی آ رہی ہے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے بھی ملاقات کی ۔لاہور، اسلام آباد ، مظفر آباد(سیاسی رپورٹر سے ، وقائع نگار، نیوز ایجنسیاں ) ملک بھر میں جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا ،مختلف شہروں میں تقریبا ت، ریلیوں کا انعقاد ہوا، انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی گئیں جبکہ بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر اور دیگر مقامات پر پاکستانی پرچم والے پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد، مظفرآباد سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں سیمینارز اور جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان کے وزرا نے خصوصی شرکت کی۔ ملک بھر میں صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔جلسوں ، سیمینارز اور مظاہروں میں اس بات کا عزم کیاگیا کہ کشمیریوں کی ہرمحاز پر حمایت جاری رکھی جائے گی ،کشمیربن کر رہے گا پاکستان اور آزادی کشمیرکی منزل قریب تر ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم اوربربریت کی تصاویر بھی جگہ جگہ آویزاں کی گئیں ۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے خلاف فلک شگاف نعرے بازی ہوئی اور شہدا ئے کشمیر کوخراج عقیدت پیش کیا جاتا رہا ۔ مظفرآباد میں یکجہتی کشمیر کی مرکزی تقریب کوہالہ پل پر ہوئی جس میں طلباو طالبات، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس کے بعد منعقدہ تقریب میں مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی جبکہ ہندوستانی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دلوانے کیلئے قراردادیں پیش کی گئیں ۔ ضلع نیلم میں بھی یوم یکجہتی کشمیر قومی جوش وجذبہ کیساتھ منایاگیا۔سائرن بجاکر 1منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے ریلی نکال کر شہدائے بن تل چوک پر انسانی ہاتھوں کی زنجیربنائی گئی ۔ کوٹلی میں ہولاڑکے مقام پر دونوں اطراف کے عوام نے انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بناکرمقبوضہ کشمیرکے بھائیوں سے بھرپوراظہاریکجہتی کیا۔ اسلام آباد کے ڈی چوک میں ریلی نکالی گئی ،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر سید شبلی فراز، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم اور دیگر اعلیٰ حکام نے ریلی میں شرکت کی ۔ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا پوری کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے ۔بھارتی قابض افواج پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں، کشمیری پر امن احتجاج بھی نہیں کر سکتے ،مذہبی آزادی پر بھی پابندی ہے ،سری نگر کی جامع مسجد میں تالے ہیں ،انہیں خوف ہے کہ جہاں چند لوگ جمع ہونگے ان کی پالیسی کے خلاف نفرت کا اظہار کرینگے آزادی کے خلاف نعرے بلند ہوئے تو دنیا کی توجہ حاصل کرینگے ،پورے ملک میں کشمیر کی آزادی کے خواہشمند یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں ۔کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے مگر کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔منزل کے حصول تک ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اقوام متحدہ اسلام آباد دفتر کے باہر بھی آل پارٹیز حریت کانفرنس کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے بھارت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے شہدا ئے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا اور کشمیری قوم سے اظہار یکجہتی کیا ،انہوں مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اپنی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوائے ۔ دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں جاری،سنگین صورتحال اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں سمیت بھارت کے پاکستان کے خلاف دشمنانہ اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے اپنے قانونی اور اخلاقی اختیار کا استعمال کرے ۔ خط میں نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو تاکید کرے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری فوجی محاصرے اور غیرقانونی و یکطرفہ کارروائیوں کو ختم کرے ،مواصلات، نقل و حرکت اور پرامن اجتماع پر پابندیاں ختم کرے ، قید کشمیری سیاسی رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کرے اور انہیں کشمیری عوام کی خواہشات کا اظہار کرنے کی اجازت دے ۔تمام غیر قانونی طور پر نظربند کشمیریوں کو آزاد کرے ۔مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کیلئے ڈیزائن کیے گئے نئے ڈومیسائل قوانین اور پراپرٹی قوانین کو ختم اور تبدیل کرے ۔جعلی انکاؤنٹرز اور ماورائے عدالت قتل پر معافی مانگے اور قابض افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے قوانین کو ہٹائے ۔اقوام متحدہ کے مبصرین، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ علاقے تک رسائی کی اجازت دے ۔ لاہور میں چیئرنگ کراس پر جلسے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔پاکستان تحریک انصاف نے جلسہ منعقد کیا۔ اعجاز احمد چودھری ، جنرل سیکرٹری علی امتیاز وڑائچ و دیگر نے خطاب کیا۔ مسلم لیگ ق کی جانب سے ریلی مسلم لیگ ہاؤس سے ڈیوس روڈ تک نکالی گئی۔ جس کی قیادت کامل علی آغا نے کی ۔ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مختلف تنظیموں کے علما ،خاکسار تحریک کے کارکنوں نے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔ لاہور عجائب گھر میں کشمیری ہنرمندوں کے بنائے ہوئے فن پاروں کی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس کا افتتاح وزیر ثقافت پنجاب خیال احمد کاسترو نے کیا۔کشمیری ہنرمندوں کے بنائے مختلف نمونوں کی نمائش نے اپنا رنگ جمایا۔نمائش میں کشمیری شال، قرآن پاک کے خوب صورت قلمی نسخے اورظروف رکھے گئے ہیں جو کشمیری ہنرمندوں کی مہارت کا کھلا ثبوت ہیں۔ کراچی میں مختلف مقامات پر کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیوں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا ، عوام کی بڑی تعداد نے اس موقع پر کشمیری بھائیوں کو یاد رکھا اور اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزارقائد تک واک کی قیادت کی۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جناح انٹرنیشنل، علامہ اقبال، باچا خان سمیت تمام ایئرپورٹس پر کشمیر ڈے کے موقع پربینرز آویزاں کئے گئے اور کشمیر و پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے ۔ پشاور کے باچاخان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سری نگر کے نام سے منسوب گھڑی آویزاں کی گئی ۔پشاور میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے گورنر ہاؤس تک کشمیر یکجہتی واک کا انعقاد کیا گیا ، گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے واک کی قیادت کی۔ کوئٹہ میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں مرکزی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں ہو ئی، تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، صوبائی وزرا، مشیر اور دیگر حکومتی شخصیات شریک ہوئیں،کوئٹہ میں میٹروپولیٹن کارپوریشن سے بھی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ریلی نکا لی گئی۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی



آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv