تازہ تر ین

امت مسلہ کی تقسیم کا تاثر غلط ثابت کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا افسوس،مافیا حکومت کے پیچھے پڑ گیا،عمران خان

پترا جایا (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان اور ان کے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد نے دونوں ممالک میں مضبوط اقتصادی تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہےدونوں رہنماﺅں نے منگل کو پی ایم آفس پتراجایا میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، قانون کے نفاذ، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون پر اظہار خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کے دو روزہ دورہ ملائیشیا کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے شاندار امکانات کے پیش نظر تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وسیع تر تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور دفاعی شعبہ میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اپنی تزویراتی حیثیت سے سرمایہ کاری کیلئے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے اور یہ بالخصوص چین۔پاکستان اقتصادی راہداری اور اپنے خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے چین کی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کا کشمیریوں کیلئے آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کیا جو بھارتی حکومت کی جانب سے گذشتہ 6 ماہ سے کرفیو میں محصور ہیں۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر مہاتیر محمد سے کہا کہ آپ نے کشمیریوں کیلئے انصاف کی بات کی ہے جس کیلئے ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ بھارت نے کشمیر کی حمایت پر ملائیشیا کو پام آئل کی درآمد روکنے کی دھمکی دی ہے، پاکستان اس کے ازالہ کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں اپنے لوگوں کیلئے مواقع پیدا کرنے سے متعلق باہمی مفاد کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری وسیع تر تعاون کی بنیاد پر ہمارے تعلقات نے ایک نئی صورت اختیار کی ہے، ہم دونوں ممالک کے بہترین مفاد میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے سلسلہ میں شراکت داری کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور میں نے دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، یہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے ہمارے باہمی عزم کا عکاس ہے۔ اس موقع پر فریقین نے تمام سطحوں پر وفود کے تبادلے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین ہو سکے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کی مختلف وزارتوں کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور دونوں ممالک کی امور خارجہ کی وزارتوں کے حکام کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کیا ہے۔ اقتصادی تعاون کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے شعبہ میں شراکت داری کو فروغ دینے، مختلف معیشتوں کے مابین نیٹ کے قیام اور نجی شعبہ کے مابین روابط کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان قریبی اقتصادی شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے اس سلسلہ میں 8 نومبر 2007ءکو کوالالمپور میں طے پانے والے معاہدہ پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں اہم شعبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور تجارت میں توازن کے حوالہ سے باقاعدہ بات چیت پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا جوائنٹ کمیٹی کے چوتھے اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کا منتظر ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ 20 کروڑ نفوس پر مشتمل ترقی پذیر آبادی کا حامل ملک ہے اور ان کی ضروریات ملائیشیا کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے پاکستان میں فوٹون کار کے آٹوموٹیو پلانٹ کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انجینئرنگ کے کاروبار کو مزید فروغ ملے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے پتراجایا میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، مقبوضہ کشمیر ،خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ،دونوں رہنماﺅں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دفاع، تعلیم اور سرمایہ کاری سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے سمیت اہم معاہدوں پر دستخط کئے گئے، پاکستان اور ملائیشیا نے قیدیوں کی حوالگی کے دوطرفہ معاہدے سمیت تجارت کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا جبکہ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان نے ملائیشیا سے پام آئل خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داد اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان ملائیشیا کے دورے پر، پترا جایا میں ملائیشین ہم منصب کے آفس آمد پر وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر عمران خان نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔ بعد میں وزیراعظم عمران خان کی ملائیشین ہم منصب کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال، کشمیر سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کی تو حالت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا سربراہ اجلاس تک نہیں بلاسکتے کشمیر اور میانمار میں ریاستی جبر کا سامنا کرنے والوں کی آواز بننے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ملائیشین تھنک ٹینک سے خطاب میں کہنا تھا کہ دنیا میں صرف ایک کروڑ سے کچھ زائد یہودی ہیں لیکن ان کے اثرو رسوخ اور طاقت کی وجہ سے کوئی ان کیخلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا مسلمانوں کی ایک ارب 30کروڑ کی آبادی ہونے کے باوجود ہماری کوئی آواز نہیں کیونکہ ہم تقسیم ہیں۔ ملائیشیا میں ایڈوانس اسلامک انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم برصغیر کے عظیم رہنما تھے پاکستان سے متعلق قائداعظم کا وژن ہی میرا وژن ہے۔ پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فلاحی ریاست برداشت اور انصاف کی بنیادوں پر قائم کی جاتی ہے ہم پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اس کیلئے کئی فلاحی منصوبے شروع کئے ہیں مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی مدینہ کی ریاست میں انصاف اور مساوات کو بنیادی حیثیت حاصل تھی اور پاکستان کا تصور بھی مدینہ کی ریاست کے مطابق تھا لیکن بدقسمتی سے ہم درست سمت سے ہٹ گئے ہیں۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv