لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیوکے پروگرام ”نیوز ایٹ سیون“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ پاکستان پر دہشتگرد حملے ابھی رکے نہیںتاہم نیشنل ایکشن پلان کی شکل میں پاکستان کو منزل کا راستہ مل گیا ہے، جلد مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بی جے پی انتخاب جیتنے کے لیے کشیدہ تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ بھارت مسلسل خطرہ ہے، براہ راست کاروائی کیساتھ بھارت افغانستان کی سرزمین بھی استعمال کر رہا ہے مگر پاکستان اپنا تحفظ کرے گا۔ بھار ت نہیں چاہتا کہ مسئلہ کشمیر میں کوئی ثالث آئے۔ سرکریک، سیاچن، مسئلہ کشمیر سمیت پانی ، افغان سرزمین کے استعمال اور دہشتگردوں کی پاکستان کے خلاف بھارتی فنڈنگ جاری رہنے تک پاکستان کو الرٹ رہنا ہوگا۔ سینئرماہر قانون احمد رضا قصوری نے کہاکہ نیب پر حکومت کے احکامات کا کوئی اطلاق نہیں ہے۔ اپوزیشن کا گٹھ جوڑ اپنی کرپشن اور ڈاکے بچانے کے لےے ہے۔۔سیاسی راہزنوں نے دو خندقیں کھودکرجمہوریت اور نظام کے بورڈ لگا رکھے ہیں۔ احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے جمہوریت اور نظام کو خطرہ کی قوالی شروع ہو جاتی ہے۔ خطرہ تو انکے ڈاکوں، چوریوں، بدمعاشیوں اور اقتدار کوہے۔ بدبخت سیاستدانوں کی جیبوں میں جانے والا پیسہ ملک سے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا گیاجو ملک و قوم کے لیے عظیم جرم ہے۔ پاک فوج بھارت کیساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہے۔ پاکستان کی بقاءکے لیے ڈیڑھ سے پونے دو ارب روپیہ روزانہ فوج الرٹ رکھنے پر خرچ ہورہا ہے۔ قرضوں پر چلنے والے ملک کی فوج دو سے تین ماہ الرٹ رہی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا، جسکے ذمہ دار بدبخت سیاستدان ہوں گے اور لوگ انہیں سڑکوں پر لاکر انکی تکہ بوٹی کر دیں گے۔عدالتوں کو باور کرانا پڑے گا کہ ریاست پہلے ہیں آئین نہیں۔ آئینی جھمیلوں میں پڑ کر ہم نے مشرقی پاکستان کھو دیا، ریاست کو تحفظ دیا ہوتا تو آج پاکستان کے بارڈر برما کو چھو رہے ہوتے۔ عدالتی نظام چوروں اورڈاکووں کو ضمانتیں دیتی رہی تو ملک کا معاشی نظام چل نہیں سکے گا۔ اس سال کے آخر تک شریف خاندان اور بھٹو خاندان پاکستان کے سیاسی افق سے ختم ہوں گے۔عمران خان دھکا اسٹارٹ ہے، سسٹم کو 7سے 8ماہ کا مزید وقت دیا جائے گا اور اگر سسٹم نہ چلا تو عمران خان سے ہی اسمبلیاں تحلیل کروائی جائیں گی۔ جسکے بعد ڈھائی سے تین سال پر مشتمل عبوری نظام آئے گا اسی دوران پاکستان صدارتی نظام کی جانب بڑھے گا۔ ضیا الحق کے گملے کی سیاسی پنیریاں جو آبیاری کے بعد درختوں کی کھیپ بن چکی ہے، کٹنے والی ہے۔ ڈھائی سے تین سال میں صاف ستھرے نوجوان سیاستدانوں کی نئی کھیپ لگے گی جو اگلے 20سال پاکستان کو چلائے گی۔ سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی نے کہاکہ بھارت میں بے جے پی نے مسلمانوں کیخلاف مہم چلا رکھی ہے کہ انہیں سمندر میں پھینک دیا جائےگا۔ بھارتی الیکشن کمیشن بے جے پی سے خوف زدہ دکھائی دیتا ہے، الیکشن کو ہندوالیکشن بنا کر بھارتی آئین کی روز پامالی ہورہی ہے۔ نظر آرہا ہے کہ مودی دوبارہ الیکشن جیت جائے گا کیونکہ بھارتی عوام مودی کے جھوٹ کو تسلیم کر رہی ہے جبکہ وہائیٹ ہاﺅس نے تصدیق کی کہ بھارت نے کوئی پاکستانی طیارہ نہیں گرایا۔الیکشن کے بعدپاک بھارت کشیدگی کم ہوجائے گی۔ شاہ محمود قریشی ہندوسینٹر کٹاس کھولیںاور ہندو یاتریوں کو آنے کی اجازت دیں۔ سکھر میں دریائے سندھ کے درمیان جزیرے پر اور بلوچستان میںبھی ہندو سینٹر بھی کھولیں اور خیر سگالی کا پیغام دیں۔پاکستان اپنی نیک نامی کے لیے بھارت کو دنیا کے سامنے لتاڑ کر رکھ دے۔ پاکستان محفوظ ہے، بھارت سمجھ چکا ہے ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔ پاکستان جذبات کی بجائے دماغ سے پالیسی بنائے ۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنام اخونزادہ چٹان نے کہاکہ فواد چوہدری کی باتوں کو کوئی سنجیدہ نہیں لیتا، ہماری نیندیں کوئی نہیں اڑا سکتا۔پیپلز پارٹی کیخلاف سیاسی کیسز عدالتوں میں آنے پر ختم ہوجائیں گے، ہم سرخرو ہوں گے۔ حکومت اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کر کے عوام سے کیے گئے وعدوںپر سے توجہ ہٹارہی ہے۔ پاکستان کا خزانہ خالی کرنے کے ذمہ دارپرائی جنگ میں دھکیلنے والے اقتدار کے شوقین آمر ہیں۔

































