لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد سینئر وزیر علیم خان کا مستعفی ہونا اور وزیراعظم کا ان کے اقدام کا خیر مقدم کرنا خوش آئند ہے۔ اس سے اپوزیشن کی طرف سے جاری شکایت کو نیب صرف اپوزیشن رہنماﺅں کے خلاف کارروائی کرتا ہے ختم ہو جائے گی۔ اچھی بات دیکھنے میں یہ آئی کہ سینئر وزیر کی گرفتاری کے بعد شور مچانے کے بجائے استعفیٰ دے دیا گیا۔ علیم خان کی گرفتاری سے تحریک انصاف پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔ اس سے قبل بابر اعوان، اعظم سواتی نے استعفیٰ دیا، جہانگیر ترین کو عدالت نے نااہل قرار دیا۔ تحریک انصاف کے چند اور لوگ بھی وقت آنے پر گرفتار ہوں گے۔ اگر کسی پر کرپشن کا الزام ہے تو وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں اسے گرفتار کرنا چاہئے۔ نوازشریف اس وقت جذباتی گفتگو کر رہے ہیں اصل میں وہ چاہتے ہیں کہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے جائیں۔ پی آئی سی میں اس لئے نہیں جانا چاہتے کہ وہ ہسپتال ہی دل کے امراض کا ہے اور بڑے قابل ڈاکٹرز وہاں موجود ہیں جو اس رپورٹ پر مہت ثبت کر سکتے ہیں کہ دل کا کوئی مرض نہیں ہے جس کے بعد بیرون ملک جا کر علاج کرانا مشکل ہو گا۔ شیخ رشید مسلسل بات کر رہے ہیں کہ ڈیل کی کوشش ہوو رہی ہے۔ پورے شریف خاندان کیلئے پیکیج ڈیل ہو رہی ہے۔ فیصل واوڈا نے بھی ایسی ہی بات کی ہے وفاقی وزراءکی باتوں کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ نوازشریف اسی لئے سروسز ہسپتال سے جیل جانا چاہتے ہیں تا کہ بیرون ملک علاج کرانے کے ایشو کو پھر سے اٹھا سکیں کہ سابق معالج سے علاج کرانا ضروری ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ڈیل کے مراحل طے کر سکیں۔ نب نے ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی کو 8 فروری کو طلب کر لیا ہے۔ یقینی طور پر یہ قطر سے کئے معاہدے کی تفصیلات پوچھی جائیں گی، نیب تحقیقات میں اگر یہ بات سامنے آئی کہ قطر سے بھارت نے گیس ہمارے مقابلے میں سستی لی ہے تو صاف ظاہر ہو گا کہ گڑ بڑ ہوئی ہے پھر ذمہ داران کو پکڑ ابھی جا سکتا ہے۔ فی الحال شاہد خاقان کی گرفتاری ہونا ضروری نہیں ہے کہ اس کیلئے ٹھوس شواہد کی ضرور ہو گی۔
فیصل آباد میں ایک خاندان کو پولیس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا جس کی تصاویر دیکھ کر ندامت ہو رہی ہے کہ کیا پنجاب پولیس نے عام لوگوں کو گولیاں مارنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ واقعہ میں پولیس کی وجہ سے گاڑی کھائی میں جا گری جس سے بچے بھی زخمی ہوئے۔ تحقیقات ہونی چاہئے اور اگر پولیس اہلکار ہی واقعہ کے ذمہ دار نکلتے ہیں تو انہیں سخت سزا دینی چاہئے۔ گڈز ٹرانسپورٹ پر ٹیکس وفاقی حکومت وصول کرتی ہے کہ یہ وزارت مواصلات کے تحت آتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراض اٹھایا ہےکہ یہ ٹیکس لگانے اور اکٹھا کرنے کا اختیار 18 ویں ترمیم کے تحت صوبے کو حاصل ہے۔ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیئے گئے اختیارات پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں کہ اس سے صوبے طاقتور اور وفاق کممور ہوا ہے اس لئے نظرثانی کی جائے۔ فواد چودھری سمیت کئی وفاقی وزراءبھی اس پر نظرثانی کا کہہ چکے ہیں جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی قیادت اس ترمیم کا دفاع کرتی نظر آتی ہے۔ لا اینڈ آرڈر تو پہلے ہی صوبوں کے پاس تھا، صحت تعلیم، زراعت بھی صوبوںکے پاس چلے گئے۔ گڈز ٹیکس بھی صوبوں کو دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے تو پھر طے کرنا ہو گا کہ وفاق کو کیسے چلانا ہے، کیا وفاق کو بالکل ہی لولا لنگڑا کر دیا جائے گا کہ جس کے پاس ٹیکس لگانے کا اختیار بھی نہ ہو۔ صوبوں کو اختیارات ضرور ملنے چاہئیں تاہم اس طرح نہیں کہ وفاق کمزور ہو جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کا ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ طالبان سے مذاکراتجاری ہیں جس کے نتیجہ میں بہتری آئی ہے افغان حکومت نے کچھ اعتراض اٹھائے ہیں تاہم ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اصل فریق امریکہ اور طالبان ہیں۔ افغان حکومت کا وجود امریکہ کے رحم و کرم پر ہے آج بھی 73 فیصد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔ امریکہ ٹھیک راستے پر چل رہا ہے وہ فوجیں نکال لے اور افغان عوام کو اپنی مرضی سے حکومت سازی کا حق دے دے تو اچھا فیصلہ ہو گا۔
































