لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار باسط خان نے کہا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس کے حل کے بغیر بڑے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظلم و بربریت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم کشمیر کو جنگ کے ذریعے نہیں لیا جا سکتا۔ چینل فائیو کے پروگروام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو بڑے موثر طریقے سے اجاگر گیا۔ فضل الرحمن محض دورے کرتے رہے کشمیر کے مسئلے کے لئے کچھ نہ کیا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر وہ مہم نہیں چلائی جو چلانی چاہئے اس کی نسبت بھارتی ڈپلومیسی کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو پہلے بھی ڈیل ہوتی رہی۔ مریم نواز کی خاموشی بتاتی ہے پس پردہ کچھ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے کرکٹ کو احسا ن مانی کے حوالے کر دیا۔ کالم نگار و نمائندہ خصوصی میاں افضل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے بہت سے مسائل حل ہوں گے کیونکہ یہ خطے کا اہم ترین مسئلہ ہے جس کو اب پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے صرف ایک روز یوم کشمیر منان لینے سے کیا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میرے خیال میں اب مسئلے کے لئے جانب سنجیدہ اقداما ت کرنا ہوں گے۔ پچھلے کئی سالوں سے ہمارے حکمرانوں نے حریت رہنماﺅں سے ملاقات نہیں کی۔ ستر سال سے کشمیری ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔ کالم نگار شاہد بھٹی نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان، بھارت کی چار جنگیں ہو چکیں پورے خطے کا امن اس سے متاثر ہے۔ میں سمجھتا ہوں بھارت اب ہوش کے ناخن لے ضد چھوڑ کر مسئلے کے حل کی جانب آئے۔ گزشتہ حکومتوں نے مسئلے کے حل کے لئے وہ کوشش نہیں کی جو کرنی چاہئے تھی۔ ہمیں خود کو اندرونی طور پر بھی مضبوط کرنا ہو گا تاکہ دنیا کو اپنا موقف پیش کر سکیں۔ نواز شریف ہسپتال میں ہیں میرے خیال میں نواز شریف ڈیل کا ٹیگ نہیں لگوانا چاہتے البتہ تحریک انصاف کے وزارءکہتے ہیں نواز شریف ڈیل چاہتے ہیں۔ عمران خان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ کرکٹ پر توجہ دے سکیں۔ کالم نگارضمیر آفاقی نے کہا صرف تقاریر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔کسی کے پاس کوئی جامع رپورٹ ہی نہیں ہوتی کشمیر میں ہو کیا ہورہا ہے۔ کشمیر میں ہونے والے ظلم سے پوری دنیا آگاہ ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا اگر نواز شریف کو علاج کی ضرورت ہے تو سہولت ملنی چاہئے یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ حکومتی وزراءکو چاہئے ایسے بیانات نہ دیں کہ کسی کی دل آزاری ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کا پروٹوکول تحریک انصاف کے دعوﺅں کے متضاد ہے باتیں کرنے اور عمل کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ملک میںکرکٹ کے ساتھ باقی کھیلوں کی بھی سرپرستی ہونی چاہئے۔
































