لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف کو سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کی وجہ نیب کاکمزور کیس اورکمزور پیروی ہے ، یوٹرن کو تماشہ نہ بنایا جائے۔ یوٹرن کی بھی معاشرے میں کوئی عزت ہے ،نئے پاکستان میں تھوڑ ی سے کنفیوژن ہوگئی ہے ، اس لئے ارکان کو فنڈزدینے کیلئے یوٹرن لیا جارہاہے۔پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ مجھے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہے لیکن نوازشریف کہا کرتے تھے کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیں ہے ، اب ان کا کیاخیال ہے؟ یہ ایک عارضی ریلیف ہے ، پہلی تاریخ پر ہی چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ہمارے پاس اب ریلیف دینے کیلئے خلاف کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن اب یہ چورن بیچے گی کہ دیکھا کہ سپریم کورٹ سے بھی ہمارے حق میں فیصلہ آگیاہے اور ہم محبور ہیں، طاقتور کیلئے ہر فورم پر کوئی نہ کوئی آپشن موجود ہوتاہے ، اس لئے جمہوریت پسندوں کو چاہئے کہ اداروں کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کی وجہ نیب کاکمزور کیس اورکمزور پیروی ہے۔انہوں نے کہا کہ یوٹرن کو تماشہ نہ بنایا جائے ،یوٹرن کی بھی معاشرے میں کو ئی عزت ہے ، بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے دعویدار اب کیوں ایم این ایز اورایم پی ایز کو فنڈر دے رہے ہیں ؟ اب جب ارکان کو پیسے دینا شروع ہوجائیں گے تو پھر کیا وہ بلدیاتی نظام کامسودہ تیار کرنے دیں گے ؟ یہ تو ماضی میں بھی ہوتا رہاہے ، اب نیا پاکستان کہاں ہے ، اس لئے لوگوں کو بتا دیا جانا چاہئے کہ نئے پاکستان میں تھوڑ ی سے کنفیوژن ہوگئی ہے ، اس لئے یوٹرن لیا جارہاہے اور سواریاں تھوڑی دیر انتظار کریں۔ پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ سپریم کورٹ کاحالیہ فیصلہ مسلم لیگ ن کیلئے اطمینان کا باعث بن سکتا ہے لیکن یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ اس فیصلے سے ن لیگ کیا بلکہ فواد چودھری بھی خوش ہو رہے ہیں، اس فیصلے سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس فیصلے سے نوازشریف کو حتمی ریلیف ملاہے۔ اس وقت ن لیگ اسی طرح جمپ کررہی ہے جس طرح پانامہ کے وقت کررہی تھی ، اب مٹھائیاں تقسم کررہے ہیں لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ چیزیں پلٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سٹیٹس کو پر آچکے ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں میں جس قسم کی جمہوریت ہے ، تحریک انصاف بھی اس طریقہ کار پر چل پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کواسی طرح کرنا پڑرہا ہے جس طرح ماضی میں حکومتیں کرتی رہی ہیں، ایک کمزور حکومت جو بیساکھیوں پر کھڑ ی ہو اس کے لئے بہت سے مشکلات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن اب ان کو اندازہ ہوگیاہے کہ ان کو اس نظام میں اسی طرح سیاست کرنی ہے جس طرح دیگر سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ تجزیہ کار بابر ستارنے کہا ہے کہ وہی نظام ہے ، اس میں شکلیں بھی تبدیل نہیں ہوئیں مختلف پارٹیوں سے لوگ تحریک انصاف میں چلے گئے اور اب نظام ویسے ہی چل رہا ہے جیسے ماضی میں چل رہا تھا۔”رپورٹ کارڈ “ میں گفتگو کرتے ہوئے بابر ستار نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کا فیصلہ ایک کمزور فیصلہ تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس فیصلے میں ضمانت دی تھی اور اب اگر سپریم کورٹ نیب کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی تو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ فیصلے شاید میرٹ پر نہیں ہورہے۔اس لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے اور پتہ چلتا ہے کہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کوسپورٹ کرنیوالوں نے تحریک انصاف میں کیا چیز دیکھی جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو سپورٹ کیا گیا ؟ عمران خان نے کہا تھا کہ جو لوگ ہمارے پاس آرہے ہیں وہ ہمارے منشور پر چلیں گے جس پر تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن اب وہی نظام ہے ، اس میں شکلیں بھی تبدیل نہیں ہوئیں مختلف پارٹیوں سے لوگ تحریک انصاف میں چلے گئے اور اب نظام ویسے ہی چل رہاہے جیسے ماضی میں چل رہاتھا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں ، وہ تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے رہیں گے۔
































