تازہ تر ین

سوئی سدرن ، نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف وہ ہو گیا جو انہوں نے سوچا بھی نہ تھا

نیویارک‘ اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ آئی این پی) مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص تصور کئے جانے والے مائیکر وسافٹ کمپنی کے بانی نے اپنے خط میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ ظاہر کیا۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، مائیکرو سافٹ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرسکتا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ بل گیٹس فاﺅنڈیشن پولیو، صحت عامہ کے شعبے میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گی، مائیکرو سافٹ کے بانی نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا، توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے جلد اس خط کا جواب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ 5 دسمبر 2018ئ کو بل گیٹس نے وزیراعظم خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا‘ اس موقع پر بل گیٹس نے پولیو کے خاتمے کی کاوشوں پر وزیراعظم عمران خان کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مائیکرو سافٹ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی ظاہر کرنا ایک اہم اقدام ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت میں بہتری آئے گی، بلکہ روزگار کے نئے موقع بھی پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بل گیٹس فاﺅنڈیشن کی جانب سے مسلسل تعاون پر شکرگزار ہیں، انسداد پولیو کےلئے ڈبلیو ایچ او کی کوششیں قابل تعریف ہیں جبکہ بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی پولیو کے خاتمے کےلئے کوششیں اطمینان بخش ہیں، پاکستان سے پولیو کے خاتمے کےلئے تعاون جاری رکھیں گے۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان سے عالمی ادارہ صحت کے ڈی جی ڈاکٹر ٹیڈروس اور بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے صدر کرس ایلس نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کےلئے حالیہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے وزیراعظم عمرانخان کو ڈونرز کانفرنس سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گیٹس فاﺅنڈیشن کی جانب سے مسلسل تعاون پر شکرگزار ہیں، انسداد پولیو کےلئے ڈبلیو ایچ او کی کوششیں قابل تعریف ہیں، بل گیٹس فاﺅنڈیشن کے صدر نے کہا کہ پاکستان کی پولیو کے خاتمے کےلئے کوششیں اطمینان بخش ہیں، پاکستان سے پولیو کے خاتمے کےلئے تعاون جاری رکھیں گے۔اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے ایم ڈیز گیس بحران کے ذمہ دار نکلے۔وزیراعظم نےسوئی ناردرن،سوئی سدرن کےایم ڈیزبرطرف کرنےکی ہدایت کردی۔تفصیلات کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کی پہلی بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی گیس کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں صنعتوں کو گیس کی سپلائی کا سلسلہ منقطع کردیا جائے تاکہ گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔تاہم اس پر کراچی کی صنعتی کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔اس ساری بحرانی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان بھی میدان میں آگئے تھے ،گزشتہ ماہ 12 دسمبر کو وزیرِاعظم نے سوئی سدرن اورسوئی نادرن کے ایم ڈیزکے خلاف انکوائری کا حکم دیا تھا۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سوئی سدرن ، سوئی نادرن کے ایم ڈیز کیخلاف تحقیقاتی کارروائی جلد از جلد مکمل کرنیکی ہدایت کی گئی تھی۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیرپیٹرولیم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ دونوں ایم ڈیز کے خلاف انکوائری رپورٹ وزیر اعظم کو جمع کروا دی گئی ہے۔رپورٹ وزیر اعظم کی زیر صدارت توانائی اجلاس میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں ایم ڈیز کو گیس بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس کے بعد وزیراعظم نےسوئی ناردرن،سوئی سدرن کےایم ڈیزبرطرف کرنےکی ہدایت کردی۔وزیراعظم عمران خان نے سوئی ناردرن کےایم ڈی امجدلطیف کوبرطرف کرنےکی ہدایت کر دی جبکہ وزیر اعظم کے حکم پر ایم ڈی سوئی سدرن امین راجپوت کوبھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے آئندہ ایک ہفتے میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کو یقینی بنانے اور بجلی چوری کے خلاف مہم کو مزید تیز کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں یہ ناقابل قبول ہے ¾ مختلف شعبوں میں گیس کی طلب و استعمال اور تخمینوں سے متعلقہ مسائل کے مستقل حل کےلئے متعلقہ محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر کیا جائے جبکہ وزیر اعظم کوبتایاگیا ہے کہ اس وقت سسٹم میں سے بارہ سے تیرہ فیصد گیس چوری ہو رہی ہے ¾غیر قانونی کمپریسر ز کے استعمال کے جرم میں اب تک پانچ ہزار کنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں ¾ بجلی چوری کے خلاف مہم کے نتیجے میں محض نومبر کے ایک مہینے میں ڈیرھ ارب روپے کی بچت ہوئی ہے ¾بجلی چوری کے خلاف مہم میں اب تک 16000مقدمات قائم کیے گئے ہیں ۔ منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے انرجی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور، وزیربرائے توانائی عمر ایوب، وزیرِ ریلوے شیخ رشید، وزیرِ منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیرِ برائے بحری امور علی حید زیدی و دیگر شریک ہوئے ۔اجلاس کے دور ان وزیر اعظم کو ملک میں گیس کی طلب اور رسد کے حوالے سے موصول شکایات کے ازالے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر مفصل بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ ایک ہفتے میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔ ایم ڈی سوئی ناردرن گیس نے غیر قانونی طور پر گیس کمپریسرز کے استعمال کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور کہاکہ غیر قانونی کمپریسر ز کے استعمال کے جرم میں اب تک پانچ ہزار کنکشن منقطع کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات اور اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم کے نتیجے میں محض نومبر کے ایک مہینے میں ڈیرھ ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔وزیر اعظم کو بتایاگیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم میں اب تک 16000مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔وزیراعظم کو بتایاگیا کہ بجلی چوری کے خلاف مہم میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف چوری کی سطح نیچے آ رہی ہے بلکہ ایسے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں بھی واضح بہتری آئی ہے۔ گیس کے شعبے میں ہونے والے نقصانات اور چوری کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور کہاگیا کہ اس وقت سسٹم میں سے بارہ سے تیرہ فیصد گیس چوری ہو رہی ہے۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گیس کے شعبے میں سالانہ نقصانات تقریبا پچاس ارب روپے سالانہ ہیں۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں گیس کی طلب و استعمال اور تخمینوں سے متعلقہ مسائل کے مستقل حل کے لئے متعلقہ محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر کیا جائے۔وزیر اعظم نے چیئرمین ٹاسک فورس برائے انرجی کو وزیرِ پٹرولیم اور وزیرِ توانائی کی مشاور ت سے گیس کی طلب و رسد، اعدادو شمار کے تجزیوں اور تخمینوں کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لئے مربوط نظام وضع کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بجلی چوری کے خلاف مہم کو مزید تیز کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہاکہ کسی کی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عوام بھگتیں یہ ناقابلِ قبول ہے۔جاری بیان کے مطابق گذشتہ دنوں میں پیش آنے والے گیس بحران کی انکوائری رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین کر دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ قابل تجدید توانائی کے حوالے سے نئی پالیسی 2019 متعارف کرائی جا رہی ہے جس کا مقصد قابل تجدید توانائی کے حصول کے لیے ملکی وسائل کا بھرپور استعمال اور شعبے کو درپیش مسائل کا حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی میں ادارے آزاد ہیں۔ اب ریاستی ادارے ان سیاسی مافیا کے دباﺅ سے آزاد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ اربوں لوٹنے والے حکمران پہلی بار قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں یہ اہم تبدیلی ہے۔ پہلے عدالتی نظام اس لئے سست تھا کہ حکومتیں عدالتوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ وہ ادارے جو جرائم پیشہ افراد اور بڑے سیاستدانوں پر مقدمے بناتے تھے ان ریاستی اداروں کو یہی سیاستدان کنٹرول کرتے تھے اس لیے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔یہ پہلی بار ہو رہا ہے اور اہم تبدیلی ہے کہ پاکستان میں جو لوگ حکومت میں آکر اربوں روپے بناتے تھے اب اچانک یہ قانون کے نیچے آ گئے ہیں اور حکومتی ادارے ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عمران خان نے ترک ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چار ماہ میں پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی اب تمام توجہ برآمدات، غیر ملکی ترسیلات بڑھانے اورپاکستان میں سرمایا کاری لانے پر ہے۔ملک کو سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کا ہے، بدعنوانی نے پاکستانی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل بھی سفاکیت اور فورسز کا استعمال نہیں بلکہ بات چیت ہے۔پاک بھارت مذاکرات سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔بھارت کے پیچھے ہٹنے کو اقدام سے مایوسی ہوئی۔ دوسروں کی امداد اور قرضے مفت نہیں ہوتے قیمت چکانا پڑتی ہے اور پاکستان بھاری قیمت ادا کر چکا ، اب پاکستان کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں ہو گا۔خارجہ پالیسی عوام کے مفاد میں کام کرے گی۔ افغان مسئلہ کا بھی حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو کیس اس وقت چل رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی ہمارا شروع کیا ہوا نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس لیے ہو رہا ہے ریاستی ادارے اب اس مافیا کے کنٹرول میں نہیں اور وہ کام کرنے میں آزاد ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے اب زمین پر قبضہ کرنے والوں، مافیاز اور جرائم پیشہ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی میں آزاد ہیں اور یہی ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سال سے اسٹسٹس کو ہماری سوسائٹی میں سرائیت کر چکا تھا اس کو سیاسی طریقہ سے ہٹانا بہت مشکل تھا کیونکہ یہ تقریباً تمام ہی اداروں کو کنٹرول کرتے تھے اور انہوں نے بہت پیسہ بنایا جو وہ تقریباًکسی کو بھی خریدنے کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی مقبول عوامی تحریک تھی جس نے اسٹیٹس کوُ کو ختم کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کی مخدوش ترین معاشی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چین کی مدد تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا چین نے کچھ ایسی جگہوں پر ہماری مدد کی ہے جو میں نہیں بتا سکتا کیوں کہ چین نے ایسا کرنے سے روکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاکستانی معیشت کی بحالی کی کوششوں میں چین کا بہت اہم کردار ہو گا۔ پاک امریکہ تعلقات پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب کسی سے پیسے لے کر ان کے لیے کام نہیں کریں گے۔ ہماری خارجہ پالیسی کی توجہ صرف پاکستانی عوام کی بہتری ہے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ پاکستان پر ہمیشہ یہ الزام رہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات یکطرفہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ دوسروں کی امداد اور قرضوں پر انحصار کرتے ہیں تو یہ مفت نہیں ہوتا اور اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے اور پاکستان نے اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سے پاکستان کسی اور کے لیے جنگ نہیں لڑے گا اور ہمیں کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv