لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں‘ تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی خالد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں کاٹن کا درآمد کیا جانا ایک المیہ ہے۔ پاکستان کی انڈسٹریل سٹیٹ کے بجائے کنزیومر سٹیٹ بنایا جا رہا ہے۔ گنے کی فصل کو بہت زادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ یہاں صرف سیاسی اہلیت کی شوگر ملز چلانے کیلئے اس کی کاشت بڑھائی جا رہی ہے۔ اعظم سواتی نے جو کچھ کہا ابتک تو اسے جیل میں ہونا چاہئے تھا۔ چھوٹی بڑی سیاسی مچھلیاں تو پکڑی جا رہی ہیں تاہم مگرمچھ پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا۔ نواز اور زرداری بھی محض بڑی مچھلی ہیں۔ اسحاق ڈار کو واپس ضرور لایا جائے تاہم یہ بھی بتایا جائے کہ مشرف کو کون واپس لائے گا۔ جعلی اکاﺅنٹس کیس میں پی پی کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ امریکہ طالبان مذاکرات جو یو اے ای میں ہوئے اس میں تین چار فریق شامل تھے اب قطر میں صرف دو فریق بیٹھیں گے ایسے نہیں چل سکتا۔ خطے کے سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانا چاہئے۔
سینئر تجزیہ کار علامہ صدیق اظہر نے کہاکہ زراعت کی حالت بہت خراب ہے‘ کپاس کی درآمد میں بھی بلیک منی استعمال ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک میں امپورٹر اگر ایکسپورٹر سے زیادہ مضبوط ہو تو اس کی وہی حالت ہو گی جو اس وقت پاکستان کی ہے۔ سٹیل ملز کسی بھی ملک میں انڈسٹری کی بنیاد ہے نواز خاندان نے جان بوجھ کر پاکستان سٹیل ملز کو تباہ کیا۔ قرض نادہندگان سے ریکوری ہوتی ہے تو اس کے استعمال کے فیصلے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہونا چاہئے۔ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات اس بار سعودی عرب میں ہونا تھے تاہم طالبان نے انکار کر دیا کہ قطر میں ہو رہے ہیں۔ مذاکرات میں اگر زیادہ فریق شامل کئے گئے تو بات نہیں بنے گی۔
سینئر صحافی ضمیر آفاقی نے کہاکہ کپاس کا درآمد کرنا بدقسمتی ہے‘ کسانوں کو سہولت دینا ہو گی۔ زیادہ تر قرض نادہندگان کوڑیوں کی جائیداد دکھاکر اربوں کے قرضے لیتے ہیں۔ پیسے کیسے ریکور ہونگے اگر قرض کی رقم مل جاتی ہے تو اسے استعمال کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینا چاہئے۔ ملک کے اداروں کو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اعظم سواتی کیس حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس ہے۔ اسحاق ڈار کو واپس لانا چاہئے۔ بھارت کی فلم انڈسٹری بڑی مضبوط ہے ہمارے یہاں بھی اچھی فلمیں بننی چاہئیں۔ امریکہ طالبان مذاکرات اگر کامیاب ہوتے ہیں تو اچھی پیشرفت ہو گی۔
کالم نگار آغا باقر نے کہاکہ کپاس کی درآمدسے ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان میں اس وقت 410سٹیل فرنسز بند پڑی ہیں۔ صنعت کیسے ترقی کرے گی۔ اعظم سواتی کیس میں چیف جسٹس نے بڑے سخت ریمارکس دئیے۔ امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کا دوسرا دور آج قطر میں شروع ہو رہا ہے۔ بڑے شہروں کے بعد تمام اضلاع میں بھی بڑی سڑکوں پر مسافرخانے بنانے کی تجویز دی گئی جو خوش آئند ہے۔ حکومت کی خارجہ پالیسی پر خاصی فوکس کرنا چاہئے۔
































