تازہ تر ین

عمران خان کی پیشکش مگر مودی حکومت الیکشن سے پہلے مذاکرات نہیں کریگی : ضیا شاہد ، سموگ کنٹرول کیلئے ٹاور کیساتھ انسولیٹر لگائے جاتے ہیں : طاہر چیمہ ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ اس طرح کا معاملہ ہے جس طرح سے مجھے ذاتی طور پر پتہ چلا کہ جو غیرملکی یونیورسٹی سے سکالر شپس آتے ہیں اور آتے ہی ایجوکیشن کے ذریعے آتے ہیں اب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ وفاقی حکومت میں رہا ہی نہیں بہرحال جہاں بھی کہیں ہوئے ہیں کسی کو کوئی بتایا ہی نہیں جاتا اور ہر سال بہت سے سکالر شپس ضائع ہو جاتے ہیں وہ کسی کو بھی نہیں ملتا اور جس کسی کی اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو بیورو کریسی نے بھیجنا ہو تو وہ جھٹ سے فائل نکالتی ہے اس میں سے کوئی سکالر شپ نکال کر دے دیتی ہے، اس طرح یہ جو موجودہ کیس ہوا ہے کہ ہسپتال کے لئے امداد دی گئی اور پھر ہسپتال کے لئے کوئی جگہ نہیں فراہم کی گئی پھر درمیان میں ہو گیا کہ اچھا چلو ہسپتال نہیں یونیورسٹی بنا دیتے ہیں حالانکہ ایڈ آئی ہے اس مقصد کے لئے کہ یہاں کوئی ہسپتال بنایا جائے زیادہ ضرورت ہسپتالوں کی ہے مرتے ہوئے لوگوں کو زیادہ ضرورت ہے کہ ایجوکیشن کے لئے زیادہ ضرورت ہے۔ صحت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ یہ نالائقی ہے سرکاری محکموں کی اور اب یہ خبر بھی آئی ہے تو دب جائے گی۔ کوئی یہ جائزہ نہیں لے رہا کہ کس کا قصور تھا وہ ملزم کو پکڑا نہیں جاتا۔ مجرم پکڑا نہیں جاتا ہے اور وہ ریٹائر بھی ہو گیا ہے تو گھر سے بلا کر اس پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا جاتا اس پربدعنوانی کا اور کام میں غفلت برتنے کا کیوں مقدمہ درج نہیں کرتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے ایک درخواست کسی بھی شحص کی پگڑی اچھالی جاتی ہے تحقیقات کا کوئی معیار ہی نہیں یہ کس چیز کی طرف اشارہ ہے اس سوال کے جواب ضیا شاہد نے کہا کہ نیب میں جو کیس چل رہے ہیں وہ کئی مہینتوں تک چلتے ہیں اور کئی کیسز آتے ہیں جس میں بندے کو پکڑا جاتا ہے اور اسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے یہ بھی نہیں دیکھا جاتا ہے کہ بدنیتی بیورو کریسی کے اندر چھپی ہوئی ہیں اور بالکل اللہ جانے کس طرح سے معاملات چل رہے ہیں کہ جب بھی یہ جو محتلف عدالتوں میں معاملات ہوتے ہیں یقین جانیں کہ یہ خبر چھپتی ہے اور اس کے بعد دب جاتی ہے پھر کوئی نہیں پوچھتا کہ قصوروار کون تھا اور اسے کیا سزا ملی اور ذرا دس، بیس، تیس، چالیس لوگوں کو سزا باقاعدہ مل جائیں تو لوگوں کو اپنی ریٹائرمنٹ کے گھر بیٹھ کر اس بات کا خوف ہو کہ اگر ہم نے اپنی دوران ملازمت کوئی کوتاہی کی تھی تو ہمیں پکڑا جائیگا، یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کہا جا رہا ہے کہ تربیلا کے 15 یونٹ مکمل طوور پر بند ہو چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ فنی خرابی ہے وہی خرابی ہے جو دنوں سے اس کے اوپر چلی جا رہی ہے یہ فوگ اور سموگ ہے انہوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے اور ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی بند کی جا رہی ہے 14 سے 16 گھنٹے مختلف علاقوں میں لوگوں کا جینا محال ہو گیا ہے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ 16 گھنٹے کا مطلب ہے یہ جو بیس گھنٹے میں سے 16 گھنٹے یعنی دو تہائی اگر 24 گھنٹے میں سے 8 گھنٹے بجلی آتی ہے 16 گھنٹے نہیں آتی۔ یہ اتنی خوفناک صورتحال ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنے بحران کے موقع پر وزیراعظم اٹھ کر ترکی چل دیئے۔ کمال ہے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے یہ جو وفاقی حکومت کی ایک پکڑ ہوئی تھی کہ اگر کسی جگہ پر بنگلنگ ہوتی ہے یا کوتاہی ہوتی ہے تو فوری طور پر ٹاسک فورس بنائی جاتی تھی کوئی مشین بنایا جاتا تھا کوئی کمیٹی بنائی جاتی تھی۔ اس وقت یہ کوئی مسئلہ نہیں سمجھا جا رہا۔ اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ نہ بجلی کے محکمے سے کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی ان سارے لوگوں سے جو شہری زندگی کی خرابیاں ہیں اس کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس کو دیکتے ہیں میں سمجھتا ہوں عمران خان ہزار دفعہ باہر جائیں حکومت گو ہے ناں اور کوئی وزراءبھی موجود ہیں۔ کس لئے خاموش ہیں بجلی کا وزیر کیوں چپ ہے میں نے ایک بیان نہیں دیا تھا کہ اس مسئلہ پر کہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کیوں صورت حال پیدا ہوئی ہے اسے چاہئے تھا کہ وہ پریس کو بلاتا تا کہ لوگ اس سے پوچھ سکتے یہ کس قسم کے وزیر ہیں۔ حکومت کو سارے کام چھوڑ کر جو روزانہ کی بنیاد پر مسائل ابھرتے ہیں اس کو کوئی تو مانیٹرنگ کرنے والا ہونا چاہئے۔ کل جو کابینہ کا جو اجلاس ہوا ہے اس میں کس نے اس طرف غور ہی نہیں کیا۔ ساری دنیا میں دھند بھی ہوتی ہے فوگ بھی ہوتی ہے اس میں جہاز اترتے چرھتے بھی ہیں اور پاکستان کے جہاز بھی ایسے ہی ہیں پتہ نہیں کسی زمانے کے لئے ہوئے اور 16,16 گھنٹے ایک سے دوسری جگہ فلائٹس نہیں جاتیں۔ اب بجلی کا مسئلہ شروع ہوا ہے۔ کل ہماری لیسکو کے چیئرمین سے بات ہوتی تھی وہ کہہ رہےتھے جب تک موسم خراب ہے ایسا ہی رہے گا۔ میں نے ان سے یہی سوال کیا تھا کہ جناب جن ملکوں میں فوگ ہوتی ہے جہاں 24,24 گھنٹے بارش بھی ہوتی ہے نہ تو ٹرانسفارمر اڑتے ہیں اب تو ٹرانسفارمر اڑنے سے ایک قدم آگے کام پڑ گیا کہ پاور ہاﺅس ہی ختم ہو گئے۔ یہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بجلی پیدا کرنےو الے جو آئی پی پیز ہیں اس کے اندر مشینوں میں سموگ کہاں سے گھس جاتی ہے۔ کیا بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو پیسے بہت دیتے ہیں اس لئے توجہ نہیں دے رہے کیا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ یا اس کا اس مسئلہ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں ہے۔ کیا سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے بھی پلانٹ بند ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر سے ملاقات بھی کی ان کے ساتھ نماز جمعہ بھی ادا کی۔ علاقائی صورتحال پر بات کی گئی اور اس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی میں عمران خان کی بہت جدوجہد ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگلے 5 سال میں جو 50 لاکھ گھر بنانے ہیں اس سے ترک کمپنیوں کی مدد حاصل کی جائے گی۔ وہ سرمایہ کاری کریں گی پاکستان میں گھر بنانے ہیں۔ اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ اس کی تفصیل تو ٹیکنوکریٹس ہی بتا سکتے ہیں لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ترکی ٹیکنالوجی میں پاکستان سے کافی زیادہ ایڈوانس ہے اور جنرل ایڈمنسٹریشن میںبھی ترکی اور ترک حکومت کی کارکردگی بہت بہتر ہے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ترکی سے کچھ نہ کچھ رہنمائی حاصل کرنی چاہئے اور میں نے کل بات کی تھی کہ یہ جو 50 لاکھ گھروں والی بات ہے اس کو کسی دوسرے سے بات کرنی چاہئے کہ وہ یہاں گھر بنائے اور قسطوں میں پیسے کنسورشیم ایک جو ہو وہ قسطوں میں پیسے عوام جو ہیں دے سکے اس طرح بالکل فری گھر کبھی نہیں بن سکتے اتنا پیسہ پاکستان کے پاس نہیں ہے لہٰذا پریشر ہو گا کہ ااسان اقساط ان کی قیمت لے لی جائے البتہ بنا کر دیئے جائیں اور مکان پلج ہو اور اگر کوئی شخص اس کی ادائیگی نہ کرے تووہ مکان اس سے واپس لے لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن ضروری ہے اور کہا ہے کہ میں بھارت سے مذاکرات کا خواہش مند ہوں اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ عمران خان مسلسل خواہشات کا اظہار کرتے جا رہے ہیں اور اچھی بات ہے ان کی پالیسی بالکل صحیح ہے لیکن میں اپنے طور پر چونکہ انڈیا کے الیکشن سر پر ہیں لہٰذا آپ نے پڑھا ہو گا اور آج انڈیا میں جو برسراقتدار پارٹی ہے نریندر مودی کی جو پارٹی ہے وہ مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پریوپیگنڈا کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ان کو بالکل بھول جائیں اور پچھلے الیکشن کی طرح وہ اب بھی نان مسلم ووٹ کی بنیاد پر الیکشن جیتنا چاہتی ہے اور ان کے اس اقدام سے آج کل کے حالات میں بھارت کی کوئی بھی حکومت ہو گی الیکشن جب سر پر ہوں گے تو وہ کسی قیمت پر پاکستان سے مذاکرات میں نہیں جائے گی ہاں البتہ جبالیکشن ہو جائیں نئی حکومت آ جائے۔ خواہ یہی حکومت برسراقتدار ہو یا کوئی نئی حکومت آ جائے یا کوئی مخلوط حکومت آ جائے تو اس میں اس کے امکانات ہو سکتے ہیں کہ عمران خان کی پیش کش پر غور کیا جائے سردست جب الیکشن سر پر ہوں تو سیاسی پارٹیاںکبھی کوئی جرا¿ت مندانہ قدم نہیں اٹھا سکتیں۔
کشمیر میں صدارتی نظام نافذ کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ بھارت کا وہاں براہ راست کنٹرول ہو جائے گا۔ بھارت مکمل طور پر ننگا ہو چکا ہے‘ بے رحمانہ طرز حکومت اس کی پہچان ہے۔ کانگریسی دور میں تو ایک لاکھ عہدے پر مسلمان کو تعینات کر دیا جاتا تھا اب تو مسلمانوں کو کوئی بھی عہدہ نہیں دیا جاتا۔ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی جاری ہے جبکہ باقی بھارت میں مذہبی دہشتگردی ہو رہی ہے۔ گائے کا ذبح کرنے کا محض الزام لگاکر مسلمانوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
رانا ثناءاللہ کے شیخ رشید کیخلاف جوا کرانے کے الزامات بچگانہ سے لگتے ہیں کہ اس دور میں تو شیخ رشید انہی کے ساتھی تھے۔ شیخ رشید شہبازشریف کو چیئرمین پی اے سی بنانے کیخلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کرنے جا رہے ہیں وہ صرف نئے چیف جسٹس کے آنے کے انتظار میں ہیں۔ شیخ رشید کی بات میں وزن ہے کہ جس شخص پر خود الزامات ہیں اسے یہ عہدہ کیسے دیا جا سکتا ہے جبکہ یہ آئین میں بھی نہیں لکھا صرف ایک روایت ہے۔ آصف زرداری نے جب اپنے گرد گھیرا تنگ دیکھا تو سارا وزن (ن) کے پلڑے میں ڈال دیا اور کمیٹیاں نہ بننے دیں جس کے باعث حکومت دباﺅ میں آئی اور شہبازشیرف کو عہدہ سونپ دیا۔ آڈٹ رپورٹس میں بڑے بڑے گھپلے سامنے آئے ہیں جن ادوار میں یہ گھپلے ہوئے اس وقت کے افسران کو چاہے وہ ریٹائرڈ ہیں پکڑنا چاہئے کیونکہ وہی ذمہ دار ہیں۔
ایم این ایم کمیٹی نے غریب عوام سے سستی موٹر سائیکل کے نام فراڈ کیا جسے سب سے پہلے خبریں نے بے نقاب کیا تھا مقدمہ درج اور گرفتاریاں بھی کرائی تھیں اب فراڈ کا وسیع پیمانے پر کاروبار کرنے والے پولیس کو ضرور ساتھ ملاتے ہیں بلکہ سب سے پہلے پولیس کا حصہ اسے پہنچاتے ہیں جس کے بدلے میں پولیس انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پولیس کا نظام درست کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔
خبریں کے نمائندہ شیخوپورہ جاوید معراج نے کہا کہ ایم این ایم کمپنی احمد سیال نے بنائی جو فیصل آباد کا ہے اس کمپنی کی آڑ میں سود کا کاروبار آگے بڑھایا جس کے باعث 25 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ ”خبریں نے سب سے پہلے اس فراڈ کو بے نقاب کیا مقدمات درج ہوئے کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں تاہم متاثرین کو رقمم واپس نہ ملی۔ خبریں کی خبر پر ایف آئی اے نے احمد سیال کے ساتھی سمیت فیصل آباد سے گرفتار کیا، ملزم اویس اور ارسال تاحال نہیں پکڑے جا سکے۔ فراڈ کا یہ کاروبار شروع ہوا تو خود اس میں پولیس والے سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ ملززان کے اوپر تک تعلقات تھے۔ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کا نام بھی اس کیس میں سامنے ااتا رہا ہے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ پولیس اور انتظامیہ ملزمان پر ہاتھ نہیں ڈالتی تھی۔
نمائندہ خبریں جھنگ عمران گل نے کہا کہ نیب نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی گاﺅں 287 گ بے جو جھنگ کے قریب ہے چھاپہ مارا، جاوید نمبردار کے گھر کی دیواروں اور چھتوں میں چھپائے 3 ارب 27 کروڑ روپے 5 کلو سونا برآمد کیا۔ 2 گاڑیاں اور 2 پٹرول پمپ بھی نیب نے تحویل میں لے لئے۔ جاوید ایم این ایم کمپنی کا ایریا منیجر تھا۔ یہ کمپنی بہت سے شہروں میں لکی کمیٹی اور سستی موٹر سائیکل کے نام پر غریب عوام کو لوٹ چکی ہے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv