لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج سہالہ احسان طفیل نے چینل فائیو کے ”نیوز ایٹ 7“ کی ٹیم سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی اور جرائم کیخلاف پولیس کے ساتھ قوم، پاک فوج، میڈیا، عدلیہ کی بھی قربانیاں شامل ہیں۔پولیس کے ابتک 500سے زائد اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ پولیس اور عوام میں جو دوری پائی جاتی ہے اسکی بہت سی وجوہات ہیں۔جن کو دور کرنے کیلئے کلچرل شفٹ چاہیے تاکہ دونوں ایک دوسرے کو نا پسند کرنےکی بجائے ایک دوسرے کا سہارا بنیں، موجودہ حکومت کی اس جانب توجہ ہے کہ نیا سال اس جمہوری اداروں کے ساتھ ملکر پولیس اور عوام کے بیچ پائے جانے والے خلا دور کیا جا سکے۔ ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ محمد طارق نے کہا کہ اگست 2017ءمیں میں نے عہدے کا چارج سنبھالا۔ پولیس ٹریننگ میں دیکھا کہ صرف پروفیشنل چیزیں ہی پڑھائی جا رہی ہیں اخلاقیات کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا، ہم نے اخلاقیات کو اس میں شامل کیا تاکہ پولیس افسروں اور اہلکاروں کے رویے میں فرق آئے انہیں معلوم ہو کہ پڑھے لکھے اور جاہل میں کیا فرق ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی صرف اسلام آباد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک بھر کا ایشو ہے، وزارت داخلہ نے اس حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کئے وہ تشویشناک ہیں اس حوالے سے حکومت کو خصوصی طور سے کام کرنا ہو گا۔ سی پیک سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے انچارج محمد ارشد نے کہا کہ اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگ کی جا رہی ہے کیونکہ ان سے سی پیک منصوبوں اور وہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی حفاظت کا کام لیا جانا ہے۔ یہاں کی جانے والی ٹریننگ کمانڈرز کی سطح کی ہے۔ سابق فوجی افسران بھی ٹریننگ دینے والوں میں شامل ہیں۔ یہاں سے ٹرینڈ اہلکاروں کو دیگر اہم مقامات پربھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
































