اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار علامہ صدیق نے کہا ہے کہ پاکستان نے جن دوملکوں سے بہت زیادہ تجارت کی وہ ترکی اور چین ہیں۔ ہم نے تو اپنے ملک سے کچرا ٹھانے کا ٹھیکہ بھی ترکی کو دے دیا تھا بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم یہ کام بھی نہیں کرسکتے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں ے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے مابین تجارت میں ترکی کو زیادہ فائدہ ہوا۔ ترک صدر نے بھی اپنے ملک میں اپوزیشن کا کڑا احتساب شروع کر رکھا ہے وزیراعظم عمران خان ترکی کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس میں شک نہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اپنے ادوار میں بے پناہ مالی فائدے اٹھائے لیکن تمام مقدمات صرف اپوزیشن پر ہی کیوں ہیں۔ کراچی میں خدمت فاﺅنڈیشن کی انتیس جائیدایں ضبط کی گئیں اصل میں ویلفیئر کے نام پر بڑے جرائم ہوتے تھے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ ترکی میں پاک ترک سکول سسٹم کی بہت سی برانچز ہیں وہاں کچھ مسائل بھی ہیں جس کا حل نکالنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے ترک سرمایہ کاروں سے بھی ملاقات کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنسز صرف پیپلز پارٹی یا ن لیگ کے خلاف ہی بن رہے ہیں۔ پشاور میں بھی تحریک انصاف کے لوگوں کا احتساب ہونا چاہئے۔ جن لوگوں نے خدمت خلق جیسے ادارے بنائے ان کو بھی سامنے لایا جائے۔ کالم نگار میاں افضل نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے پاکستان کی نئی حکومت دوست ملکوں سے کس طرح تعلقات مزید بہتر کرتی ہے۔ پہلے دوروں میں وفد کے نام پر بہت زیادہ لوگ چلے جاتے تھے لیکن اب چند لوگ ہی بیرون ملک دوروں جاتے ہیں یہ اچھی بات ہے۔ ماضی کی نسبت تعلقات بہتر ہوں گے کیونکہ پاک ترک رہنماﺅں کا ویژن ایک ہے۔ جہاں ریاست کی رٹ کمزور ہوگی تو ویلفیئر فاﺅنڈیشنز کے نام پر جرائم ہی ہوں گے۔ سندھ میں صرف لیز ختم کرانے سے قبضے ختم نہیں ہوں گے۔ اصغر خان کیس کو پہلے ہی بند کر دیا جاتا اب کیوں بند کیا گیا۔ میزبان و کالم نگارآغا باقر نے کہا وزیراعظم عمران خان نے بہت سے ممالک کا دورہ کیا انکا ترکی کا دورہ کافی موثر ہوگا دونوں ممالک کے سربراہان کی قدریں کافی مشترک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان چاہئے وہ صوبائی ہوں یا وفاقی ٹکراﺅ چلا آ رہا ہے۔
































