اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں امیر کو شاندار گھر اور غریب کی لاش کو بھی ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں۔ فواد چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی وزرا کالونی میں سرکاری ہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ فواد چوہدری نے اس معاملے پر ایک ٹوئٹ شیئر کرائی جس میں ان کی اپنی ہی جماعت تحریک انصاف کے رہنما اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پھر فواد چودھری نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اگر آپ طاقتور اور امیر ہیں تو جمہوریت کے مفاد میں نہ صرف آپ کے شاندار بنگلے کو جیل قرار دیا جائے گا بلکہ آپ حکومت کا آڈٹ بھی کریں گے، لیکن اگر آپ غریب ہیں تو عبرت کیلیے ہتھکڑی لگی کو لاش کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ گزشتہ روز نیب کے ہاتھوں گرفتار سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر محمد جاوید انتقال کرگئے تھے اور ان کی ہتھکڑیوں و زنجیروں میں جکڑی لاش کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔ پروفیسر محمد جاوید کے انتقال اور لاش کی بے حرمتی پر عوام خصوصا سوشل میڈیا کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اس طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب اور آئی جیل پنجاب کو اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ شہبازشریف ، سعد رفیق جیسے لوگ گرفتار ہوں تو جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے ، یہ لوگ اب تاریخ کی ڈسٹ بن کاحصہ بن چکے ہیں انکی اب کوئی حیثیت نہیں،طاقتور طبقے کےلئے قانون کا نفاذ آسان نہیں ہے ۔وہ ہفتہ کو تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارا جہلم سے پرانا رشتہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے جہلم کی خدمت کا موقع دیا ہے ، روایتی سیاست نہیں بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ، متوسط طبقے کے انقلاب شرط یہ ہے کہ قانون سب کےلئے برابر ہو ، پاکستان میں قانون پر عمل درآمد بلا تفریق ہوگا ، شہبازشریف ، سعد رفیق جیسے لوگ گرفتار ہوں تو جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے ، یہ لوگ اب تاریخ کی ڈسٹ بن کاحصہ بن چکے ہیں انکی اب کوئی حیثیت نہیں،طاقتور طبقے کےلئے قانون کا نفاذ آسان نہیں ہے ، شہباز شریف کےلئے پروڈکشن آرڈرز بھی آئیں گے اور آڈٹ بھی کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں اچھی چیزیں متعارف ہونا شروع ہوگئی ہیں ، افتخار چوہدری نے جوڈیشل کمپلیکس ہٹا کر جہلم کو نقصان پہنچایا ، معاشرے میں وکلاءریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، چیمبرز ان کا حق ہے ، خوشی ہے کہ 100سے زائد خواتین وکلاءبھی جہلم بار کا حصہ ہیں ، معاشرے میں وکلاءکے کردار کو اہمیت حاصل ہے ۔
































