تازہ تر ین

مخصوص طبقہ مسلسل فوج کی مداخلت کا راگ الاپ رہا ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے ہ اصل میں یہ کافی مدت سے سیاستدانو ںمیں خاص طور پر جو جمہوریت جمہوریت کھیلتے ہیں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی فورسز جو کہ وہ خارجہ پالیسی میں بہت مداخلت کر رہی ہیں اور بہت کھلم کھلا آج تو سینٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے یہ بات کہہ دہی ہے اور یہ اشارہ کہ راولپنڈی سے متعلق کی گئی ہے اسلام آباد، راولپنڈی بہت مدت سے جی ایچ کیو کا ہیڈ کوارٹر ہے اور جو فوج کی جو سرگرمیاں ہوں ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ راولپنڈی نے یہ کیا، اور اگر اسلام آباد کا ذکر ہوتا ہے تو اس کا مطلب سیاستدان ہوتے ہیں جہاں پارلیمنٹ، سارے ایم این اے اور ایم پی اے، سنیٹر بیٹھتے ہیں۔ جناب ضیا شاہد نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید اختر سے پوچھا کہ یہ فرمایئے کہ یہ کافی مدت سے پاکستان کے بعض سیاسی حلقوں اور سیاسی جماعتوں میں یہ احساس پایا جاتا ہےکہ شاید پاک فوج جو ہے وہ مداخلت کر رہی ہے اور بالخصوص خارجہ پالیسی کے مسئلے میں۔ آج رضا ربانی نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ بڑا خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے اور خارجہ پالیسی کو راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل کیا جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ کسی کو بھی ملک کی فوج اگر دفاعی معاملات میں توجہ نہیں دے گی اگر وہ حکومت کے ساتھ مل کر کوئی مشورے نہیں دے گی کہ دفاعی طاقت کے سلسلے میں علاقے میں کیا صورت حال ہے کیا کرنا چاہئے۔ میری معلومات کے مطابق امریکہ میںپینٹا گان جو ہے وہ دفاعی مرکز سمجھا جات ہے اور وہ بہت زیادہ پری ویل کرتا ہے اور تب زیادہ اس کی سنی جاتی ہے اور سٹیٹ آفس جو ہے وہ سیاستدانو ںکا گرھ ہے جبکہ پینٹا گان جو ہے وہ دفاعی قوت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی فوج کہاں مداخلت کر رہی ہے فارن پالیسی میں جو رصا ربانی صاحب کو یہ کہنا پڑا ہے کہ خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے اور راولپنڈی سے یہ خارجہ پالیسی اسلام آباد منتقل کی جائے۔
معروف دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر نے کہا ہے کہ رضا ربانی کی بات درست نہیں ہے کہ کسی بھی ملک کے دفاعی معاملات سے جو بھی فورس ہوتی ہے وہ پینٹا گون ہے یا انڈیا کا جی یا کچھ اور رضا ربانی صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں جو خطرہ دکھائی دیا ہے وہ کس چیز سے دکھائی دیا۔ کیا کسی پالیسی ان کو غلط دکھائی دی ہے یا کوئی پالیسی ملکی مفاد کے خلاف بنائی جا رہی ہے یا وہ صرف کہنے کی حد تک ہے کہ میری کوئی اہمیت بن سکے۔ سوال کیا جا سکتا ہے ان سے کہ جب آپ چیئرمین سینٹ تھے 5 سال تک تو کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں تھا ہماری پالیسیوں کی کوئی سمت ہی نہیں تھی۔ اور تمام پالیسیاں بھارت دوستی پر مبنی تھیں۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ جس ادارے کی ترجمانی کرتے ہیں کیا اس ادارے کی حد تک اعتراض ہے یا اصولی اختلاف ہے۔ کیونکہ اگر اصولی اختلاف ہو تواس کی وجوہات ان کو بیان کرنی چاہئیں کہ فوج نے فلاں فلاں پالیسی بنائی اور یہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ یا یہ ملک کی پالیسی یہ ہونی چاہئے گار وہ اس کو پوائنٹ آﺅٹ نہیں کرتے ان کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں اہم آدمی ہوں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوج کی جو عدالتیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا دہشتگردوں کا فیصلہ جو ہے وہ فوجی عدالتوں سے ہو گا تو یہی موصوف دھاڑیں مار مار کر روئے تھے کہ آج پاکستان کا بدترین دن ہے یہ فیصلہ ہم نے کیا ہے۔ جب یہ ساری خبریں اکٹھی کر کے دیکھی جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ذاتی اہمیت جتانے کی کوشش ہے یا لوگوں کو بتانا کہ میں نے کوئی اتنا بڑا کام کر دکھایا ہے جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں کیا اور میں اتنا جمہوریت پسند ہوں کہ مجھے فوج کی مداخلت پسند نہیں ہے۔ یہ عام تاثر ہے کہ ہر کام فوج کروا رہی ہے عدلیہ سے سب کچھ فوج کروا رہی ہے۔ حکومت سے بھی فوج کروا رہی ہے اور فوج اپنے بندوں کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
عمران کی حکومت نے جو بھاگ دوڑ کی ہے وہ قابل قدر ہے6 ارب ڈالر براہ راست سٹیٹ بینک میں آ رہے ہیں۔ سعودی عرب کے بعد اب عرب امارات نے 3 ارب ڈالر امداد کا اعلان کر دیا ہے۔ معاشی حالات بارے خدشات ختم ہو جائیں گے۔ اشین بینک سے 2 ارب ڈالر قرض سے بھی معیشت میں بہتری آئے گی اور پاکستانن بہتر شرائط پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کی پوزیشن میں ہو گا۔ حکومت کی مالی مشکلات بڑھانے میں سیاسی جماعتوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اربوں نہیں کھربوں روپے کی ٹرانزکشن پاکستان سے باہر کی جا رہی ہے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ حامد سعید اختر میں ایک اور نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اصل میں جب سے عمران خان صاحب نے یہ کہا ہے کہ میں ملکی معاملات میں خارجہ امور میں اور دفاعی معاملات میں فوج کے مشورے سے چلتاہوں اور ان سے چیزوں کو ڈسکس کرتا ہوں تو اس وقت بھی بڑا تگڑا بیان ایک سینٹ کے بعض ارکان نے دیا تھا اور اس وقت بھی رضا ربانی صاحب نے کھل کر کہا تھا کہ دوسری طاقتیں جو ہیں وہ جمہوریت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ جو گزشتہ الیکشن تھے اس میں فوجیوں نے ووٹ ڈالے جا کر یا فوجیوں نے کسی کو منع کیا کہ تم فلاں پارٹی کو ووٹ نہ دو اس قسم کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
بریگیڈیئر حامد سعید اختر نے کہا سیاسی رہنما کھل کر بھی نہیں کہتے کہ ہم نے کرپشن نہیں کی اور ہمارے خلاف غلط مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ یہ بالواسطہ کہتے ہیں کہ جو کچھ کرا رہی ہے فوج ہی کرا رہی ہے۔ ملک کے خلاف اگر کوئی پالیسی ہو تو اس پر بات کرنی چاہئے۔ دنیا کے تمام ممالک میں خارجہ پالیسی دفاعی اداروں کے ساتھ مل کر بنائی جاتی ہے۔ مشرف دور میں سیاچن سے فوجیں واپس بلانے کا طے پا گیا تھا لیکن بھارتی فوج نے انکار کر دیا، اس وقت تو کسی نے نہیں کہا کہ بھارتی فوج حکومت کے معاملات میں داخل دیتی ہے۔ پھر بھی وہیں کریں گے جو ملک کے مفاد میں ہو گا کیونکہ کوئی ملک اپنے اتنے بڑے ادارے کو نظر انداز کر کے پالیسیاں مرتب نہیں کر سکتا۔
ماہر اقتصادیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا ہے کہ عرب امارات سے امداد ملنا بڑا اچھا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھیں کہ تیل کی قیمتیں بھی گر گئی ہیں تو اس میں بھی ہمارے تجارتی خسارے میں کمی آئے گی اگلے چند ماہ میں۔ وہ مشکلات جو بن رہی تھیں مسئلہ بن گیا تھا کہ ریزروز گرتے چلے جاتا رہے تھے اور ایک ماہ کے رہ گئے اس سے تھوڑا سا ٹھہراﺅ آئے گا۔ ایک تو مارکیٹ میں اتحاد بڑھے گا۔ جو اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے اس کی فضا ہموار ہو گی۔ ہمیں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں بار بار آئی ایم ایف کے پاس کیوں جانا پڑ رہا ہے۔ ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے۔ پاور سیکٹر کا جو بہت بڑا پھندا ہمارے گلے میں ابھی تک پہنا ہوا ہے۔130 ارب کے گردشی قرضے ہیں وہ بھی اتارنے ہیں۔ بہت اچھی خبر ہے ہم صحیح سمت جا رہے ہیں۔ ابھی اصلاحات اگر صحیح کر لیں تو معیشت ایشیا میں سب سے بہتر اکانومی بن سکتے ہیں۔ امپورٹس میں سب سے 14,13 ارب ڈالر کا تیل لیا ہے۔ اگر تیل کی قیمت اگلے چند ماہ میں 45,40 ڈالر فی بیرل پر رہتی ہے تو یہ اس میں ہمیں 7,6 ارب کا فائدہ ہو گا اور اگر 7,6,5 ارب ایکسپورٹس بہتر ہو جاتی ہیں تو پھر آپ کا اگلے سال اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہو گا۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ انڈسٹریز کو تقویت دینی چاہئے کیونکہ انہوں نے ہماری جنگ لڑنی ہے، ان کے ذریعے ہماری ایکسپورٹ اوپر جائیں گی۔ اربوں ڈالر کی ایکسپورٹ بڑھنی چاہئے۔ کفایت شعاری ضرور کرنی چاہئے، میڈ اِن پاکستان کو فروغ دینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ جو معاہدات ہو رہے ہیں اس سے ہم ان کو بہت ساری چیزیں ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ آصف زرداری پر خطرہ پوری طرح سے ختم نہیں ہوا، وقتی طور پر ٹل گیا ہے۔ زرداری کے بڑے معتمد اراکین جیسے لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ آصف زرداری نے نیویارک جائیداد اس لئے گوشواروں میں ظاہر نہیں کی کیونکہ وہ پہلے ہی فروخت کر چکے تھے۔ اب تحقیق ہو گی۔ 2 کھرب والی بات کا وزن برداشت کرنا زرداری صاحب کیلئے مشکل ہو گا۔ یہ معمولی جرم نہیں جسے آسانی سے فراموش کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرزمین پر بڑی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے۔ ابوظہبی مذاکرات کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کے 9 طالبان کو رہا کر دیا گیا ہے یعنی مذاکرات کامیابی کی طرف چل رہے ہیں۔ طالبان کا مطالبہ تھا کہ افعانستان سے سارے غیر ملکی نکل جائیں، ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ زیادہ تر فوج واپس بلا لیں گے صرف تھوڑے سے وہاں رہیں گے یہ بھی مذاکرات کا ہی نتیجہ ہے۔ مداکرات سے کامیابی کی اُمید دکھائی دے رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ٹرمپ نے افغانستان سے جو 7 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ فوری نہیں ہو گی بلکہ اگلے سال گرمیوں تک ہو گی۔ 6,5 مہینوں میں اگر طالبان جنگ بندی کرتے ہیں، صلح کرتے ہیں تو پھر امریکی فوجیوں کی واپسی ہو گی ورنہ امریکی پالیسی تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے جو وعدے کئے تھے آہستہ آہستہ پورا کر رہے ہیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم ہاﺅس میں بڑے اچھے معیار کی یونیورسٹی قائم ہونے سے بڑی خوشی ہوئی۔ ایک مزاج بنا کہ سادہ گھروں میں رہنا چاہئے اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہئے۔ آصف زرداری نے ایوان صدر میں پولو گراﺅنڈ بنا دیا تھا۔ جہاں گھوڑے رکھے ہوئے تھے۔ نواز شریف اتنے ایکڑ زمین شاہد چہل قدمی کیلئے رکھے ہوئے تھے۔ قائداعظم لنکنز اِن کالج میں پڑھے تھے، لنکنز اِن کا مطلب سرائے ہے 20,10 سال میں وہ پورا شہر بن جاتا ہے۔ کالجز کا جال بچھ جاتا ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس ہیں اتنی گنجائش ہے کہ وہاں مزید 30,25 کالج بن سکتے ہیں۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ ڈاکوﺅں سے جو پیسے وصول کریں گے وہ تعلیم پر لگائیں گے یہ بہت خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی طے ہو گیا تھا اس لئے پی اے سی کا چیئرمین بلامقابلہ منتخب ہو گیا۔ 20 قائمہ کمیٹیاں تحریک انصاف، 10 نون لیگ اور 7 پیپلزپارٹی کے پاس ہوں گی، اس طرح سے رُکی ہوئی اصل جمہوریت کی گاڑی چل پڑی ہے۔ قائمہ کمیٹیاں چھان بین کے بعد طے کرتی ہیں کہ فلاں مسئلے کا حل کیا ہو گا۔ قائمہ کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کے بغیر پارلیمنٹ کا کام مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سعد رفیق کے بیان کی چھان بین ہونی چاہئے، وہ کہتے ہیں کہ نیب کا قانون احتساب کے لئے نہیں بلکہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کیلئے بنایا گیا۔ پی ٹی آئی کے اراکین کے خلاف بھی اگر شکایت ہے تو ایکشن ہونا چاہئے، علیمہ خان کو جرمانہ ہو سکتا ہے تو پھر کھربوں لوٹنے والے آصف زرداری کو کیوں چھورا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں میاں غفار نے اطلاع دی ہے کہ انڈیا سے 550 روپے کا ایک دودھ کاڈبہ یہاں دستیاب ہے جو سمگل شدہ ہے، رینجرز بارڈر پر ہوتی ہے توپھر یہ سمگلنگ کی اتنی کیوں بھر مار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 550 روپے کا دودھ کا ڈبہ یہ دودھ نہیں بلکہ کیمیکلز ہیں۔550 روپے میں 22 لیٹر دودھ بن جاتا ہے۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں غفار نے کہا کہ انڈیا سے جو پیکٹ آ رہے ہیں یہ ایک کلو کا پیکٹ 550 روپے کا ہے جس سے 22 سے 25 لیٹر دودھ بنتا ہے۔ 25,20 سال پہلے کبھی دودھ کی فیکٹریاں کا نہیں بنا تھا، اب دودھ کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں جہاں کیمیکل سے دودھ تیار ہوتا ہے۔ اس سے یورک ایسڈ بڑھتا ہے، بچوں کی ہڈیوں کے لئے یہ تباہ کن ہے۔ 40,30 سال پہلے کبھی کسی بچے کو وٹا من ڈی کی کمی نہیں ہوتی تھی اب ہر پیدا ہونے والے بچے کو وٹامن ڈی کے انجکشن پلائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دودھ جعلی ہے اور حکوومت اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیکٹ انڈیا سے آ رہے ہیں یہاں فیکٹریوں میں اس سے دودھ بناتے ہیں اور ٹرک کے ٹرک دودھ کے برے جاتے ہیں۔ ٹرک میں پانی بھر کر اوپر سے 25,20 پیکٹ پھینک دیں اور ٹرک چلا کر بھی اس کو مکس کر لیا جاتا ہے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv