پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء لال بخش بھٹو کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں افسوس اور غم کی کیفیت پھیل گئی ہے۔ ان کے انتقال پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف صوبائی اور مرکزی رہنماؤں نے انہیں ایک باوقار، اصول پسند اور عوام دوست شخصیت قرار دیا ہے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لال بخش بھٹو کی جمہوری خدمات، سیاسی بصیرت اور عوامی جدوجہد کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھٹو صاحب نے مشکل سیاسی ادوار میں اپنی پارٹی، نظریے اور عوام کے ساتھ وفاداری کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق لال بخش بھٹو کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے نہ صرف جمہوریت کے لیے کردار ادا کیا بلکہ علاقائی سطح پر سماجی خدمات اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق ان کی سیاسی جدوجہد باوقار کردار، اتحاد، اور مستقل مزاجی کی مثال تھی، اور ان کی وفات کو پیپلز پارٹی اور جمہوری عمل — دونوں کے لیے ایک بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لال بخش بھٹو جیسے رہنماء پاکستان کی سیاست میں ’پریکٹیکل ورکر کلاس لیڈرشپ‘ کی علامت تھے، اور ان کی جدائی سے پارٹی کی نظریاتی اور تنظیمی فریم ورک میں ایک واضح خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
مرحوم کی تدفین سے متعلق تفصیلات جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ملک بھر میں ان کے لیے دعائیہ مجالس اور تعزیتی ریفرنس منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔
































