تازہ تر ین

کشمیر پر سب سے زیادہ جارحانہ پالیسی اختیار کرنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کا جب فیصلہ ہوا تھا تو یہ طے ہوا تھا کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی کثریت ہو گی وہاں مسلمانو ںکا صوبہ بنے گا اور جہاں ہندوﺅں کی اکثریت ہو گی وہاں ہندوﺅں کے صوبے بنیں گے۔ کشمیر کی پوزیشن یہ تھی کہ کشمیر کا جو مہاراجہ تھا ڈوگرہ وہ ہندو تھا جو کشمیر کی 80 فیصد آبادی تھی وہ مسلمان تھی لہٰذا جس اصول پر برصغیر کی تقسیم ہوئی اس لحاظ سے کشمیر مسلمانوں کے علاقے میں آتا تھا۔ بنیادی طور پر اس پر قبضہ کر لی اپنی فوج بھیج کرانڈیا نے تو پھر پاکستان کی فوج نے اس وقت لڑنے سے انکار کر دیا تھا اس وقت انگریز کمانڈ ان چیف تھا اس نے کہا تھا کہ ہم جنگ کے لئے تیار نہیں ہیں اس لئے مجاہدین کے لشکر گئے تھے جنہوں نے آزاد کشمییر آزاد کروایا جنہوں نے گلگت بلتستان آزاد کروایا اور جو سری نگر کے اطراف تک جا پہنچے تھے۔ اس پر جو پنڈت نہرو جو انڈیا کا وزیراعظم تھا انہوں نے سلامتی کونسل میں پنڈت نہرو یہ مسئلہ لے کر گئے تھے کہ روکیں ان مجاہدین کے لشکروں کو جو کہ سری نگر تک آ پہنچے ہیں چنانچہ اس لحاظ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا یہ کلیم بنتا ہے اور مسلمانوں کا حق بنتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی مسلمانوں کی اکثریت ہے 80 فیصد آبادی وہاں مسلمانوں کی ہے۔ دن منانے سے ایک مسئلہ زندہ رہتا ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ آج سے 4 سال پہلے کشمیر کی اتنی بات ہوتی تھی کبھی امریکہ کی کانگریس میں کشمیر کا ذکر ہوتا تھا۔ کیا برطانیہ کی اسمبلی میں ذکر ہوتا تھا۔ کیا یورپی یونین کی پارلیمنٹ میںکشمیر کا ذکر ہوتا تھا۔ اب جس طرح مسئلہ اجاگر ہو رہا ہے اس طرح پوری دنیا میں اس کا ذکر چھڑتا ہے اور منتخب ہاﺅسز میں یہ موضوع بحث آتا ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت کشمیر کشمیر ہو رہی ہے۔ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت ہو رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ان دس سالوں میں وہ کسی منتخب ادارے میں کشمیر کی بات سنائی دی۔ جس رفتار سے کشمیر کا مسئلہ پھیل رہا ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک کیا دنیا کے محتلف ممالک میں منتخب اسمبلیوں میں کشمیر کی بازگشت سنائی دی۔ ایک سال میں عمران خان کی حکومت نے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں کشمیری قوم تسلیم کرتی ہے۔ دنیا تو ایک طرف رہ گئی خود پاکستان کے اندر ایک بحث شروع ہو گئی ہے آج عمران خان صاحب جو تقریر کرنے گئے تھے وہاں فاروق حیدر جو وزیراعظم ہیں آزاد کشمیر کے انہوں نے یہ تجویز پییش کی کہ آپس میں سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کے خلاف بات نہیں کرنی چاہئے اس پر عمران خان صاحب نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ہے اور جنہوں نے ملک سے جو منی لانڈرنگ سے جوپیسہ باہر لے گئے ہیں ان سے کیسے کمپرومائز کر سکتا ہوں چنانچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج پہلی مرتبہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک نئی تجویز پیش کی تھی جس کو عمران خان نے مسترد کر دیا گیا۔ یہ عمران خان کی نہیں بلکہ یہ تحریک انصاف کی پالیسی ہے مسلمان ممالک اپنے اپنے طور پر جکڑے ہوئے بڑی طاقتوں کے شکنجے میں اور سارے مسلم ممالک کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی شکل میں کسی بڑی طاقت کے ساتھ حاشیہ نشین کے طور پر ملے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں امریکہ کی فوج بھی وہاں موجود ہے اور وہ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ کس طرح سے ممکن ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب امریکہ کی بات نہ مانے۔ امریکہ کی ثالثی کا مطلب ہے کہ ہم جوبات درست ہو گی مانیں گے یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ وہ ہم پر وہ بات مان لیں گے جو امریکہ کہے گا۔ پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے کہ دنیا بھر میں اس مسئلہ کو اجاگرکرتا رہے اور اسے دنیا میں ہر فورم پر پھیلائے۔ اب تو شیخ عبداللہ اور ان کے بیٹے فاروق عبداللہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قائداعظم کا دو قومی نظریہ یعنی ہندو اور مسلمان الگ قومیں ہیں اور یہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے وہ اب اس کو تسلیم کرنے پر آ گئے ہیں، پاکستان کے آزادی کشمیر کی کوششوں کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا بلکہ یہ ضرور ہے کہ بہت برسوں تک مسئلہ کشمیر کو ڈیڈ ہاﺅس سمجھا جاتا تھا۔ یہ پرانا مسئلہ ہے جو مسئلے کی حد تک تھا لیکن کبھی کسی نے اس طریقے سے اقوام متحدہ یا سلامتی کونسل میں سامنے لانے کی کوشش نہیں کی۔ اس طرح سے دنیا بھر کی اسمبلیوں میں اس پر بحث نہیں ہوئی۔ اس طرح سے کھل کر رائے زنی نہیں کی یہ ایک مثبت اقدام ہے کہ جو سامنے آیا ہے۔ ابپاکستان کو اس مسئلہ پر عالم اسلام کو متحد کرنے کی کوشش کرے۔ جن ممالک میں کشمیر پر بے اعتنائی پائی جاتی ہے ان ممالک کو بھی اس طرف لانا چاہئے کہ اس وقت پاکستان جارحانہ پالیسی اختیار کیسے ہوئی ہے معلوم نہیں راجہ فاروق حیدر کو کس طرح خیال آیا کہ پاکستان جارحانہ پالیسی اختیار نہیں کر رہا۔ وزیراعظم کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی گئی وہ از خود بڑا جارحانہ اقدام تھا۔ یورپی پارلیمنٹ میں پاکستانی ہائی کمشن کی طرف سے کشمیر کی بات کی گئی وہااں یہ مسئلہ گونجتا دکھائی دیا۔ یہ مثبت قدم ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے میں آپس کے احتلافات ختم کر کے کشمیر کے مسئلے پر کم از کم ایک ہی پالیسی کی ابتدا کی ہے اچھی بات ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر بھی جماعتیں کم از کم متفق ہیں۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv