اسلام آباد، لاہور (نمائندگان خبریں) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سے پاکستان الیکٹرک فین مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے وفد نے مرزا جمشید کی قیادت میں ملاقات کی جس میں عبدالرزاق ، غیاث الدین پال، راجہ قمر و دیگر ہدیدار شامل تھے۔ وفد نے الیکٹرک فین کو لگژری آئٹم میں شامل کیے جانے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جس پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت ہینڈ فین کو بھی لگژری آئٹم قرار دے کر بجٹ میں ٹیکس لگانے کی تجویز دے۔ انہوں نے کہاکہ تاجر برادری کو کاروباری سہولتیں فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے لیکن حکومت نے الیکٹرک فین کو بھی لگژری آئٹم میں شامل کر لیا ہے حالانکہ ایسا کرنے والوں کے اپنے باتھ رومز میں ایئر کنڈیشنڈ لگے ہوئے ہیں، الیکٹرک فین ہر غریب آدمی کی ضرورت ہے اس کو لگژری آئٹم میں شامل کرنا کسی طور بھی ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی فوڈ آئٹم ایسی ہیں جن پر ڈیوٹی لگائی جا سکتی ہے مثلاً سیب وغیرہ جو ہم دوسرے ممالک کو ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری مونس الہی نے کہا ہے کہ کچھ لوگ عمران خان کو فیل کرنا چاہتے ہیں۔ ق لیگ چھوڑنے والے کچھ لوگ عمران خان کو گمراہ کرتے ہیں۔ مونس الہی نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان کی وزیراعظم کے ساتھ پہلی ملاقات اچھی رہی جس میں ان کیساتھ کھل کرباتیں ہوئیں تھیں۔ وزیراعظم نے جو باتیں کیں، ان کو کلئیر کیا۔ خیال تھا کہ سب باتیں ہونے کے بعد معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں پارٹی خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں یقین دلایا تھا کہ ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔ چاہتے ہیں معاملات احسن انداز سے حل ہوں۔ تاہم ایک کمیٹی کے ہوتے ہوئے دوسری کمیٹی کا قیام بلا جواز تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاہدہ تھا کہ ہمارے وزرا با اختیار ہوں گے۔ 3 اضلاع کے حوالے سے معاملات طے ہوئے تھے۔ طے ہوا تھا کہ ہماری وزارتوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ ق لیگی رہنما نے بتایا کہ پہلی کمیٹی سے جو معاملات طے ہوئے تھے، ان پر کام شروع ہو گیا تھا۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا جو پہلی کمیٹی سے معاملات طے ہوئے، اس پر عمل ہوگا۔ مونس الہی نے بتایا کہ ن لیگ کے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اسمبلی میں کئی لوگ ہماری سوچ کے ہیں۔ تاہم انہوں نے تردید کی کہ چودھری پرویز الہی وزیراعلی کے امیدوار نہیں، ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ حکومت کے ساتھ اتحاد چلے اور اگلا الیکشن بھی مل کر لڑیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آٹے اور چینی کے بحران پر حکومت قابو پا لے گی۔ چیزیں اب بہتری کی طرف چل پڑی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ 15ماہ میں حکومت مکمل بے نقاب ہو گئی ہے۔ حکومت کو اتنا وقت دینا چاہیے تھے ان کے دعوے بے نقاب ہو جائیں۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ہفتوں اور مہینوں میں حکومت کا خاتمہ کر دے گی۔ پنجاب میں ق لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنانا مستقبل ہو سکتا ہے۔ ق لیگ سے رابطے ہیں لیکن ان کے حکومت سے اختلافات ہماری ایماءپر نہیں۔ ایک سوال پر انکا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب متفق ہیں کہ ہمارا قائد نواز شریف اور پارٹی صدر شہباز شریف ہیں ۔ شہباز شریف فروری کے اختتام پر یا مارچ میں وطن واپس آ جائیں گے۔
بریکنگ نیوز
- پی ٹی اے کی موبائل سمز بلاک کرنے کی وارننگ، کونسے لوگ زد میں آئیں گے؟
- مائیکرو سافٹ کا اہم سروس بند کرنے کا اعلان
- ڈیزل کے بعد عالمی قیمتوں کے تناظر میں پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی کا فیصلہ کیا جائے گا، وزیر مملکت
- سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
- اسلام آباد: پاکستان میں نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کا باضابطہ آغاز
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- پی ایس ایل: شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے، بیٹ توڑ ڈالا
- سونا ایک دن قیمت کم ہونے کے بعد آج پھر مہنگا ہوگیا
- پشاور ایئرپورٹ؛ ایف آئی اے نے 2 مسافروں کو جعلی دستاویزات پر آف لوڈ کردیا
- لاہور سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پہلی حج پرواز 345 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ
- پاکستان سے حج آپریشن 2026 کا باقاعدہ آغاز
- جنگ بندی میں شاید توسیع نہ کروں، بدقسمتی سے بم دوبارہ گرانا پڑے گا، ٹرمپ
- دشمن کو عبرتناک شکست دینے کیلئے تیار ہیں، ایرانی سپریم لیڈر
- اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے بورڈ آف پیس کو بھی غزہ میں مشکلات کا سامنا
- امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد
- کل ذہین شخصیت وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی، بڑا سرپرائز مل سکتا ہے، ٹرمپ
- امریکا: ویڈیو گیم کھیلنے میں مشغول معمر خاتون نے سب کو پریشان کر دیا
- جرمن ولاگر کی تصویر کیوں لائیک کی؟ ویرات کوہلی پر میمز وائرل
- وائر لیس بجلی فراہم کرنے کا انقلابی منصوبہ
- پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت، حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع

