کولوراڈو: (ویب ڈیسک) کائیلر نپر کا تعلق امریکی ریاست کولوراڈو سے ہے، ان کی عمر صرف 14 سال ہے اور وہ رضاکارانہ طور پر اچھی حالت والے جوتے جمع کرتے ہیں تاکہ انہیں غریب اور ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کرسکیں۔ البتہ، کائیلر کے اس مشن کی بھی ایک کہانی ہے۔2011ء میں جب وہ صرف 11 سال کے تھے اور چھٹی جماعت میں پڑھ رہے تھے تو ایک روز غلطی سے پھٹے ہوئے جوتے پہن کر اسکول چلے گئے۔ جوتے پھٹے ہونے کی وجہ سے وہ پنجوں کے بل چل رہے تھے جس پر اسکول کے کچھ بدمعاش لڑکوں نے انہیں گھیر لیا۔ پہلے تو خوب مذاق اڑایا اور اس کے بعد انہیں بری طرح سے مارا پیٹا۔ ان میں سے ایک لڑکے نے تو کائیلر پر تشدد کی انتہاء کردی اور نوکیلی پنسل سے ان کا کندھا اور سینہ چھلنی کردیئے جس کی وجہ سے کائل کے پھیپھڑے تک زخمی ہوگئے۔کائیلر کو شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا جہاں بڑی مشکلوں سے ان کی جان بچائی گئی اور وہ تقریباً ایک ماہ تک اسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ اس واقعے کی وجہ سے وہ ناقابلِ برداشت اعصابی تناؤ کا شکار بھی ہوگئے جسے ’’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی کیفیت کسی شدید صدمے سے گزرنے والے افراد پر طاری ہوتی ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اگرچہ کائیلر پر تشدد کرنے والے لڑکوں کو گرفتار کرلیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں سزا بھی سنا دی، لیکن اسکول کا نام سنتے ہی کائیلر پر خوف کی وجہ سے ہذیانی کیفیت طاری ہوجاتی۔یہ حالت دیکھ کر کائیلر کے والدین نے انہیں اسکول سے اٹھا لیا اور گھر پر ہی ان کی تعلیم کا بندوبست کردیا گیا۔ اسی دوران کائیلر نے پھٹے ہوئے جوتوں کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بننے والے یا کسی اور مشکل کا سامنا کرنے والے بچوں کے لیے صاف ستھرے اور مضبوط جوتے جمع کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے اس ارادے کو ’’کائیلرز کک‘‘ کا نام دیا۔گھر پر رہتے ہوئے انہوں نے جوتے بنانے اور فروخت کرنے والے مقامی اداروں سے رابطہ کیا اور ان سے ضرورت مندوں کےلیے جوتے فراہم کرنے کی درخواست کی۔ کچھ ہی دن بعد ان کے گھر میں عطیہ کیے ہوئے جوتوں کا ڈھیر لگنا شروع ہوگیا، اور کائیلر نے اپنے گھر کے باہر ایک پوسٹر پر مفت جوتوں کا اعلان لکھ کر دیوار پر چپکایا اور ساتھ ہی میز پر جوتے رکھ دیئے۔2017ء میں شروع ہونے والی یہ چھوٹی سی کاوش رفتہ رفتہ مقبول ہوتی گئی اور پھر وہ اپنی والدہ کے ساتھ نواحی بستی میں رہنے والے غریب بچوں کے لیے ہر مہینے میں ایک سے دو مرتبہ جوتے لے کر جانے لگے۔اس کے بعد مالی مسائل کی وجہ سے ان کے والدین لاس ویگاس چلے آئے۔ یہاں آکر انہوں نے کائیلرز کک کو نہ صرف بہتر طور پر منظم کیا بلکہ کچھ لوگوں نے انہیں ہزاروں ڈالر کا چندہ بھی دیا۔ اس طرح انہوں نے ’’کائیلرز کک‘‘ کو ایک باقاعدہ غیرسرکاری تنظیم میں تبدیل کردیا۔اب تک ان کی تنظیم 20 ہزار سے زائد ضرورت مند بچوں میں جوتوں کے نئے جوڑے تقسیم کرچکی ہے جبکہ درجنوں رضاکار ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہیں اس نیک مقصد کےلیے 40 ہزار ڈالر کے عطیات بھی موصول ہوئے ہیں۔یہ واقعہ صرف عجیب و غریب نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی امید کی ایک کرن ہے جو وقتی مسائل اور پریشانیوں سے خوفزدہ ہو کر آگے بڑھنے کا ارادہ ہی ترک کر دیتے ہیں یا کچھ نہ کرنے میں اپنے حالات یا تلخ تجربات کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
بریکنگ نیوز
- ڈیزل کے بعد عالمی قیمتوں کے تناظر میں پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی کا فیصلہ کیا جائے گا، وزیر مملکت
- سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
- اسلام آباد: پاکستان میں نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کا باضابطہ آغاز
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- پی ایس ایل: شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے، بیٹ توڑ ڈالا
- سونا ایک دن قیمت کم ہونے کے بعد آج پھر مہنگا ہوگیا
- پشاور ایئرپورٹ؛ ایف آئی اے نے 2 مسافروں کو جعلی دستاویزات پر آف لوڈ کردیا
- لاہور سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پہلی حج پرواز 345 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ
- پاکستان سے حج آپریشن 2026 کا باقاعدہ آغاز
- جنگ بندی میں شاید توسیع نہ کروں، بدقسمتی سے بم دوبارہ گرانا پڑے گا، ٹرمپ
- دشمن کو عبرتناک شکست دینے کیلئے تیار ہیں، ایرانی سپریم لیڈر
- اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے بورڈ آف پیس کو بھی غزہ میں مشکلات کا سامنا
- امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد
- کل ذہین شخصیت وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی، بڑا سرپرائز مل سکتا ہے، ٹرمپ
- امریکا: ویڈیو گیم کھیلنے میں مشغول معمر خاتون نے سب کو پریشان کر دیا
- جرمن ولاگر کی تصویر کیوں لائیک کی؟ ویرات کوہلی پر میمز وائرل
- وائر لیس بجلی فراہم کرنے کا انقلابی منصوبہ
- پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت، حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع
- رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے
- کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

