کراچی: (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف ) کے 27اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ’’ آزادی مارچ‘‘ اور ڈی چوک پر متوقع ’’ دھرنے ‘‘ کے لیے جے یوآئی (ف) کی جانب سے شہر اقتدار کی انتظامیہ کو امن وامان قائم رکھنے کی تحریری یقین دہانی کرانے کی صورت میں فی الحال ’’کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے ‘‘ کی حکمت عملی پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی حکومت مولانا فضل الرحمن کے متوقع آزادی مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کے لیے اس وقت قانونی آپشنز کا استعمال کرے گی جب شرکا کی جانب سے امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہوگا، ان آپشنز میں گرفتاریوں ،مقدمات کا اندارج ،نظر بندی ،مجمع کو منتشر کرنا اور دیگر شامل ہیں۔حکمراں جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے جے یوآئی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے ’’مذاکرات‘‘ کا ممکنہ آپشن سیاسی وموجودہ صورتحال کو دیکھ کر استعمال کیا جائے گا، پی ٹی آئی ’’احتساب ‘‘ کی اپنی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی ’’عوامی احتجاجی دباؤ‘‘ قبول کیا جائے گا، حکمراں جماعت تحریک انصاف جے یوآئی (ف)سمیت اپوزیشن جماعتوں کے وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو بھی قبول نہیں کرے گی۔پی ٹی آئی کے اہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت ملک کی موجودہ صورتحال ، جے یو آئی (ف) کے 27اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ آزادی مارچ اور دھرنے کے اعلان سمیت اپوزیشن کے رابطوں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔اس جائزے میں پی ٹی آئی کے سامنے یہ سیاسی صورتحال آئی ہے کہ جے یو آئی (ف) کے متوقع احتجاج میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے کارکنان کی مکمل قوت کے ساتھ شامل ہونے کا ا مکان بہت محدود ہے، اپوزیشن کا اتحاد عوامی سطح پر فی الحال کوئی حکومت مخالف احتجاج کی مشترکہ حکمت عملی طے نہیں کرسکاکیونکہ تینوں جماعتوں کی سیاسی سمتیں اور سوچ الگ الگ نظر آرہی ہیں۔ اس لیے جے یوآئی (ف) کے ممکنہ احتجاج سے وفاقی حکومت کو کوئی سیاسی خطرہ نہیں۔اس جائزے میں پی ٹی آئی نے عندیہ دیا ہے کہ قانون کے مطابق جے یوآئی (ف) کی جانب سے پر امن احتجاج کرنے کی یقین دہانی کی صورت میں وفاقی حکومت اس ممکنہ مارچ یا دھرنے میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالے گی، وفاقی حکومت کی جانب سے جے یوآئی(ف) کے شرکا کو اسلام آباد کے ریڈ زون کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پی ٹی آئی جے یوآئی (ف ) کے ساتھ سیاسی رابطہ کاری کا آپشن حالات کو دیکھتے ہوئے استعمال کرے گی، اگر مولانا فضل الرحمنٰ کی جانب سے کوئی سیاسی لچک کا آپشن نظر آیا تو وفاقی حکومت جے یو آئی (ف) سے مذاکرات کرسکتی ہے۔حکومت کی جانب سے یہ ممکنہ سیاسی رابطہ کاری عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے توسط سے جے یو آئی (ف) کے ساتھ کی جاسکتی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس آپشن کا ممکنہ طور پراستعمال متوقع مارچ اور دھرنا کی تاریخ قریب آنے اور جے یوآئی (ف) کی احتجاجی حکمت عملی کوسامنے رکھتے ہوئے کرے گی۔
بریکنگ نیوز
- ڈیزل کے بعد عالمی قیمتوں کے تناظر میں پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی کا فیصلہ کیا جائے گا، وزیر مملکت
- سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
- اسلام آباد: پاکستان میں نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کا باضابطہ آغاز
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- پی ایس ایل: شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے، بیٹ توڑ ڈالا
- سونا ایک دن قیمت کم ہونے کے بعد آج پھر مہنگا ہوگیا
- پشاور ایئرپورٹ؛ ایف آئی اے نے 2 مسافروں کو جعلی دستاویزات پر آف لوڈ کردیا
- لاہور سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پہلی حج پرواز 345 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ
- پاکستان سے حج آپریشن 2026 کا باقاعدہ آغاز
- جنگ بندی میں شاید توسیع نہ کروں، بدقسمتی سے بم دوبارہ گرانا پڑے گا، ٹرمپ
- دشمن کو عبرتناک شکست دینے کیلئے تیار ہیں، ایرانی سپریم لیڈر
- اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے بورڈ آف پیس کو بھی غزہ میں مشکلات کا سامنا
- امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد
- کل ذہین شخصیت وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی، بڑا سرپرائز مل سکتا ہے، ٹرمپ
- امریکا: ویڈیو گیم کھیلنے میں مشغول معمر خاتون نے سب کو پریشان کر دیا
- جرمن ولاگر کی تصویر کیوں لائیک کی؟ ویرات کوہلی پر میمز وائرل
- وائر لیس بجلی فراہم کرنے کا انقلابی منصوبہ
- پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت، حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع
- رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے
- کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

