تازہ تر ین

فواد چودھری کو کہنے کا حق حاصل نہیں کہ مقدمات نیب نہیں حکومت بنا رہی ہے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قرضوں کا اثر عوام پر پڑ رہا ہے جو بڑا تکلیف دہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اب جو قرضے ہیں وہ واپس تو کرنے ہیں اور کسی نے کسی طرح سے ملک بھی چلانا ہے تو یہ جو جتنی بھی مشکلات آ رہی ہیں یہ ایک قدرتی امر ہے اور بہت ہی صبر و تحمل اور بہادری سے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کی طرف سے پریس کانفرنس کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ حکومت کو مزید عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے اور جو اصل حقیقت بتا دینی چاہئے اور جتنی دیر یہ مشکلات چلیں گی لوگوں کو ان کا بھی ادراک ہونا چاہئے قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ تو عام طور پر یہ سلسلہ چلے گا۔ ق لیگ کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ حلیف جماعتوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ انڈر سٹینڈنگ ہونی چاہئے اس لئے کہ بجٹ کے سیشن میں عام طور پر بہت سے لوگ ناراض ہوتے ہیں پھر جو ناراض ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں مسلم لیگ ق ایک بڑی حلیف جماعت ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی ہیں اور چودھری شجاعت وہ وہاں گاڈ فادر کے طور پر مسلم لیگ ق کے موجود ہیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی ملاقات نہ صرف گاہے بگائے ہوتی رہنی چاہئے چودھری شجاعت ملک کے وزیراعظم رہے ہیں کافی حکومت میں وہ وزارتوں میں رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ان تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ امیر قطر کی آمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جو معاشی بحران ہے اس کے پیش نظر قطر کی طرف 22 ارب کی پیش کش بڑی اہم ہے اتنی انویسٹمنٹ کے نتیجے میں ملازمتیں بھی آئیں گی اور کاروبار بھی کھلیں گے اس لئے کہ سعودی عرب نے جو تعداد بتائی تھی اب تک عملاً اتنی انویسٹمنٹ پاکستان میں آئی نہیں۔ اعلانات ضرور ہوئے تھے مگر شروعات نہیں ہوئی۔ اگر قطر سے سرمایہ کاری پہلے شروع ہو جائے تو فوری طور پر اس کے اثرات سامنے آ سکتتے ہیں ضیا شاہد نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر ایک آئینی قدم ہے اور ایک قانونی سہولت ہے کہ اگر کوئی ممبر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی جیل میں ہے تو بھی اسے بجٹ سیشن میں یا اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے پروڈکشن آرڈر دیا جائے لیکن یہ سوال یہ ہے کہ اس ممبر کو بھی تو ثابت کرنا پڑے گا کہ جو سہولت اسے دی گئی کیا اس سہولت کے پیش نظر اس نے بحث میں حصہ لیا وہ کوئی جو بھی زیر بحث ایشو چل رہا ہے اس میں اس نے کیا حصہ لیا اگر وہ بحث میں حصہ نہیں لیتا تو اگر وہ 5 یا 7 منٹ تقریر کر کے یا فرض کیجئے کہ 2، 2½ گھنٹے کی تقریر کر کے بیٹھ جاتا ہے تو پھر اس کے پروڈکشن آرڈر کا فائدہ تو تب ہے کہ ایک رکن اسمبلی کی حیثیت سے فائدہ اٹھایا جائے سوال یہ ہے کہ اس سے کیا فائدہ ہوا شہباز شریف کے آنے سے کیا فائدہ ہوا حمزہ شہباز کے آنے سے کیا فائدہ ہوا اور اب سعد رفیق کے آنے سے کیا فائدہ ہوا۔ سعد رفیق نے تو ابھی اسمبلی میں تقریر ہی نہیں کی فواد چودھری کا بیان سامنے آیا ہے کہ نحیب احتساب نہیں کر رہا احتساب ہم کر رہے ہیں یعنی حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ نیب احتساب کر رہی ہے ہمارا احتساب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیب نے کہا ہے کہ فواد چودھری کے بیان کی مصدقہ نقول نکال کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اگر کوئی رکن اسمبلی جو پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی میں آیا ہے تو اس نے بجٹ پر بحث کوئی تجاویز دی ہیں یا حصہ ڈالا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اگر اس نے اپنی حکومت کی تعریفیں کر دی ہیں اور موجودہ حکومت کو برا بھلا کہہ دیا ہے اس کے بعد وہ چھپ کر بیٹھ گیا ہے باقی وقت میں وہ آرام کرتا ہے گپ شپ لگاتا ہے سیاسی جوڑ توڑ کرتا ہے تو یہ تو اس قانون کا منشائ نہیں ہے اور اس قانون کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ پروڈکشن آرڈر پر آئے ہوئے ارکان اسمبلی کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کی آمد ضروری تھی۔ کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کا صرف ایک ہی سنتا رہ گیا تھا کہ چاند کے معاملے وک کھنگالا جائے کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی ضرورت اس لئے تھی کہ چاند کا معاملہ حل کیا جائے جب سے فواد چودھری صاحب سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر بنے ہیں انہوں نے کیا حصہ ڈالا ہے۔ میں نے آج سے کئی سال پہلے گوبر سے بجلی بنانے کے حوالے سے تجاویز دی تھیں۔ آج لوگ اصل چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ دوسری چیزوں کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف کے بارے میں 3 دن سے ایک اور خبر آ رہی ہے کہ گھیرا مزید تنگ ہو گیا اور اس میں یہ آ گیا کہ ان پر سیاسی ملاقاتوں پر پابندی آ گئی۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے کبھی کسی قیدی کو سیاست کرتے نہیں دیکھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک شخص کو سزا ہو چکی ہے اور سزا بھی اخلاقی جرم میں ہوتی ہے یعنی وہ سیاسی جرم میں نہیں ہوئی اخلاقی جرم میں ہوئی ہے اور سیاست کر رہے ہیں وہ ملاقات کر رہے ہیں وہ اپوزیشن کی تحریک چلانے کی باتیں کر رہے ہیں گھر کے لوگ مل رہے ہیں۔ ابھی جوان ہمارے دوست سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنائ اللہ ان کو ملنے گئے تھے بھئی وہ کسی مسئلے پر مشورہ کرنے گئے تھے۔ جب وہ اپنی پارٹی کے چیف نہیں رہے جب قانونی طور پر ان کو منع کر دیا گیا ہے آپ سیاست نہیں کر سکتے تو پھر ان سے کس بات کا مشورہ کر رہے ہیں۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv