تازہ تر ین

روس بنا پاک بھارت میں ثالثی

بشکیک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر سے غیررسمی ملاقات ہوئی، دونوں رہنماو¿ں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر کے لیے بات چیت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان غیررسمی ملاقات ہوئی،دونوںہنماو¿ں میں ملاقات شنگھائی تنظیم اجلاس کے سائیڈ لائن پر ہوئی، دونوں رہنماو¿ں کی ون آن ون ملاقات آج ہوگی۔اس سے قبل وزیراعظم نے روسی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کی افواج کے درمیان تعاون بڑھا ہے، روس کے ساتھ دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ میں روس کا دورہ کرنا پسند کروں گا، زندگی میں ایک بار روس کا دورہ کیا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کا امکان ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دورہ چین میں صدر پیوٹن سے ملاقات ہوچکی ہے، روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات خوش آئند ہیں۔صحافی کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ روس سے اسلحے کی خریداری کا فی الحال ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، اسلحے پر خرچ ہونے والی رقم انسانی ترقی کے لیے استعمال کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اب 60 کی دہائی جیسے حالات نہیں رہے، پاکستان، بھارت دونوں امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اب سرد جنگ جیسی صورت حال کا سامنا نہیں ہے۔ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر عمران خان کا کہنا تھا کہ فی الحال، منصوبے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہورہی ہے، منصوبے پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ امریکا کی عائد کردہ پابندیاں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ویزہ اصلاحات کا نظام بہتر بنادیا ہے، اب لوگ آسانی سے پاکستان آکر ایئرپورٹ پر ویزہ حاصل کرسکتے ہیں، 70 ممالک کو ایئرپورٹ پر ویزے کی سہولت دے رہے ہیں، ماضی میں کسی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر گفتگو۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے روس سمیت کسی کی بھی ثالثی کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کرغزستان کے موقع پر غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے ہیں تو ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں جنگ سے کسی کو بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سے قبل ہماری بھارت سے تین جنگیں ہو چکی ہیں جس سے دونوں ہی ملکوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر ہے جسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور اگر دونوں حکومتیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کا تہیہ کر لیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم بھارت کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم ہمیں امید ہے کہ موجودہ بھارتی وزیر اعظم اس مسئلہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک نے ہمیں نئی آوٹ لٹس تک رسائی فراہم کی ہے اور یقینا اب اس میں بھارت بھی شامل ہے جس سے ہم ہمارے دو طرفہ تعلقات انتہائی کمزور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برصغیر میں بہت زیادہ غربت ہے جس کے خاتمے کے لیے ہمیں ہتھیاروں کے بجائے انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے چین نے غربت کے خاتمے کے لیے اپنی عوام پر رقم خرچ کی اور وہاں سے آج غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ مغرب سے بہتر تعلقات استوار کرنے پر زور رہا ہے تاہم اب ہم نئی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے ہم شنگھائی تعاون تنظیموں کے ممالک سے تعلقات مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے جمعرات کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکک پہنچ گئے ہیں۔ کرغزستان کے وزیراعظم محمد کلئی ابولگزیف اور وزیر صحت کسموسبیک سراو¿چ نے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔دوسری جانب کرغزستان میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرغزستان میں 2600پاکستانی طلبائ زیرتعلیم ہیں۔پاکستانی طلبائ یہاں چلتے پھرتے سفیر ہیں،ہمارا مشن محدود ہے اور وسائل بھی محدود ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم سب ملکر ان سفیروں کی مدد کریں گے۔ پاکستان کی خصوصیات اور استحکام بارے یہاں کردار ادا کریں گے، ہمارے ہاں مثبت خبر کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا بلکہ منفی خبروں کو اچھالا جاتا ہے۔سنٹرل ایشیائ کی تمام ریاستیں ہمارے لیے اہم ہیں۔پاکستان وسط ایشیائی ملکوں کی تجارتی منڈی تک رسائی چاہتا ہے، ہمارے ان ممالک سے مذہبی تعلقات بھی ہیں، ہمارے ان سے ثقافتی تعلقات بھی ہیں۔یہ تاریخی اور ماضی کی روایات کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ہم ان کی بہت ساری ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنٹرل ایشیائی ممالک میں لمبا چکر کاٹ کرآنا پڑتا ہے، افغانستان کے حالات میں بہتری آئے گی، افغانستان مستحکم ہوگا، امن قائم ہوگا، ویسے ہی تجارتی روابط بڑھتے چلے جائیں گے۔اانہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا ، جوقوم کے سامنے ہے۔قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لینا پڑتے ہیں۔ قرضوں کا موجودہ حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔22کروڑ کی آبادی میں برا ہ راست انکم ٹیکس دینے والا طبقہ 22لاکھ ہے۔کرپٹ اور کرپشن کیخلاف احتساب کا مربوط نظام بنا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان میں امن واستحکام میں بہتری آئی ہے۔پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کیلئے ویزہ پالیسی میں نرمی لا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں بیرون ملک سے لوگ پاکستان میں آئیں۔باہمی تعلقات کے فروغ میں پاکستانی کمیونٹی کردار ادا کرسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان شنگھائی تعاون تنظیم کے19ویں اجلاس میں شرکت کےلئے کرغزستان پہنچ گئے۔وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی عثمان ڈار بھی کرغزستان پہنچے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے دورے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 2 سیشن سے خطاب کریں گے، اس کے علاوہ ایس سی او کے ارکان اور مبصر ممالک سمیت اہم بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان شریک ہوں گے۔اجلاس کی سائیڈلائن پر وزیر اعظم عمران خان کی شرکت کرنے والے ممالک کے رہنماں سے ملاقات متوقع ہے جبکہ اجلاس میں شریک رہنماو¿ں کی جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کے علاوہ کئی فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔کرغزستان کے دارالحکومت بشکک روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایس سی او اجلاس کا مقصد خطے کی اقتصادی حالت کے اقدامات کا جائزہ لینا ہے، چند روز قبل او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوا تھا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی تجاویز ایس سی او لیڈر شپ کے سامنے رکھی جائیں گی جس پر وہ فیصلہ دیں گے، وزیراعظم عمران خان کی دیگر ممالک کی قیادت سے بھی ملاقات اور مشاورت ہو گی۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شرکت کررہے ہیں تاہم وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم کی اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر ملاقات کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جارہا۔ پاکستان 2017 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا تھا، جس کے بعد سے وہ امور خارجہ، دفاع، قومی سلامتی، معیشت اور تجارت، سائنس اور جدت، نوجوان اور خواتین کو بااختیار بنانے، سیاحت اور ذرائع ابلاغ سمیت مختلف ایس سی او کےمختلف شعبوں میں متحرک طریقے سے شرکت کر رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تھی اور فورم نے ان دستاویزات اور فیصلوں پر غور کرکے حتمی شکل دی جن پر سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں دستخط کیے جائیں گے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 13 اور 14 جون کو ہونے والے اس 2 روزہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شرکت کر رہے ہیں، تاہم ان دونوں رہنماں کی ملاقات شیڈول نہیں ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے دونوں وزرا اعظم کی متوقع ملاقات پر واضح کیا تھا کہ اجلاس میں دونوں وزرا اعظم کی ملاقات شیڈول نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے بشکیک دورے کے دوران روسی صدر ولادمیر پیوٹن اور کرغزستان کے صدر سوروونبے شریپو ویچ سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے روسی صدر سے غیر رسمی گفتگو کا بتایا۔ بیان میں بتایا گیا کہ عمران خان نے کرغزستان کے صدر سوروونبے شریپو ویچ سے ملاقات کی اور انہیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبہ جات میں ان تعلقات کو جامع انداز میں مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماں میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور کرغستان کے درمیان زمینی اور فضائی روابط کو بہتر بنایا جائے جبکہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اور دوطرفہ سیاسی مشاورت جلد عمل میں لائی جائے۔ دونوں ممالک نے عوامی سطح پر رابطوں کو بہتر بنایا جائے، سیاحت کو فروغ دیا جائے اور ویزوں کے اجرا میں سہولت دینے پر بھی اتفاق کیا۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کرغستان کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv