لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار شاہد اقبال بھٹی نے کہا ہے کہ نواز شریف نے اپنے ملاقاتیوں کو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کی بجائے عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے محرومی کا اشارہ دیا ہے ۔ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے وتے ہوئے بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔ عمران خان کو کانفرنس میں بھارت کی موجودگی میں روس اور چین سے سپورٹ مل جائے توپاکستان کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں۔ عمران خان کی مودی سے ملاقات پاکستان کے لیے اہم نہیں ہے۔اپوزیشن میں تحریک چلانے کا دم خم نہیں ، انہیں موقع عمران خان خود دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر عمران خان وہی کام کررہے ہیں جو نواز شریف اور زردار ی کرتے رہے۔وزیراعظم کے خطاب اور بجٹ کیوجہ سے اسٹاک مارکیٹ نیچے گری۔میزبان تجزیہ کار میاں حبیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے اپنے ملاقاتیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ میں پیر تو نہیں ہوں لیکن عمران خان اپنا وقت پورا نہیں کرپائیں گے۔عمران خان کے عوام کے منتخب وزیراعظم ہیں ، سیلیکٹڈ وزیراعظم کے الزام لگانے والی سیاسی جماعتوں نے صرف بیان بازی کی الیکشن کمیشن یا عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔ عمران خان کے سابق حکمرانوں کے آڈٹ کے بیان پر عوام بہت خوش ہیں۔ مگر آڈٹ پاکستان بننے سے اب تک سب کرپٹ سیاستدانوں کا ہونا چاہیئے۔بے فکر ہو جائیں سسٹم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات نظر نہیں آرہی تاہم چین اور روس سمیت دیگر ممالک کے وزرائے اعظم سے ملاقاتیں خوش آئند ہوں گی۔تجزیہ کاراشرف عاصمی نے کہا ہے کہ نواز شریف کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اس لیے عمران خان کے خلاف باتیں کر کے خود کو تسلی دیتے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کا آشیرباد جب تک ہے عمران خان چلیں گے۔ عمران خان بھی نواز شریف کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی پراڈکٹ ہیں۔ عمران خان کی نفسیات میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ ہر جگہ جا کرکہنا ہے پاکستان میں کرپشن بہت ہے۔عمران خان احتساب کے نام پر چھپ رہے ہیں ۔پاکستان کی ظالم اشرافیہ ، ن لیگ نے بھاری مینڈیٹ لینے کے باوجود بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں دیئے اور آج یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بات کر رہے ہیں۔پاکستان میں جمہوریت آمریت سے بھی بدترین ، پارلیمنٹ اور وزیراعظم ربڑ اسٹیمپ بن گئے ہیں۔ عمران خان کو حکومت میں آنے کے لیے کوئی محنت نہیں کرنا پڑی، ہو سکتا ہے اس نظام کو لپیٹ دیا جائے۔ حکومت سابق بیوروکریٹس کا حساب کر کے دکھائے۔پروڈکشن آرڈر مانگنے والے وہ لوگ ہیں جو چھٹی کے دن عدالتیں کھلوا کر ضمانتیں کروالیتے تھے۔عمران خان جیسے انسان سے قطعی امید نہیں تھی کہ ایسا بجٹ آئے گا، عمران خان نے عوام کی امیدوں کو روند دیا۔ عمران چاہتی ہے کہ چوروں کے پیٹ پھاڑے جائیں اور لوٹا ہوا پیسہ عوام کی فلاح پر لگایا جائے۔ تجزیہ کار فیصل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کو بجٹ پیش ہونے کے بعد تقریر نہیں کرنی چاہیئے تھی، انکی تقریرون میں شوکا سرپرائز تھا۔عمران خان کا کمیشن بنانے کا اعلان بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے تھا۔عمران خان پچھلے دس سال کا آڈٹ کرکے پچھلی حکومتوں کو این آر او دینا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان جن کے آشیرباد سے آئے ہیں ، انہی سے عمران خان کو مشرف دور کے دس سال کا آشیر باد ملے گا۔مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی پیشرفت نظر نہیں آرہی۔ملزم ممبر اسمبلی کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملنے چاہئیں۔
































