لاہور(ویب ڈیسک) آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں جاری تحقیقات پر نیب لاہور کی اہم پیش رفت۔ ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کے الزام میں سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد گرفتار۔ ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا۔ نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کیجانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی۔ معاہدہ کیمطابق تاحال 17 ارب روپے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو بجلی کی قیمت کی مد میں ادا کئے گئے۔ ملزمان کیجانب سے 8 ارب روپے کی رقم صرف نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو غیرقانو ی طور پر منتقل کی گئی۔ آءپی پیز کیساتھ معاہدوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ جعلسازی اور دھوکہ دہی سے غیر قانونی ٹیرف مقرر کئے گئے جسکی مد میں اربوں روپے کی زائد رقم آءپی پیز کو ادا کی گئی۔آئی پی پیز میں مبینہ بدعنوانی کے دیگر 5 کیسز کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے غبن کے شواہد حاصل ہو رہے ہیں۔آئی پی پیز کو غیر قانونی ادائیگیوں کا براہ راست اثر بجلی کے نرخ اور ملکی معاشی حالات پر ہوا۔ماضی میں اداروں کی آپس کی ملی بھگت عوام اور حکومت دونوں کو اربوں روپے کے نقصان کا موجب بنی۔نیب حکام سابق ڈی جی ملزم سید انصاف احمد کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے کل احتساب عدالت لاہور پیش کرینگے۔دوران ریمانڈ ملزم سے شریک ملزمان کے حوالے سے اہم انکشافات اور مزید گرفتاریاں متوقع۔
































