اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔ اتوار کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت بنی گالا میں وفاقی بجٹ پر غور کے لیے اجلاس ہوا جس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور اقتصادی ماہرین نے شرکت کی۔معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو آئندہ بجٹ سے متعلق تجاویز پر بریفنگ دی اور انہیں بجٹ میں ٹیکس کے نفاذ اور اہداف سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے بجٹ تیاری اور ممکنہ حجم سے متعلق معاشی معاہرین سے مشاورت کی جبکہ مشیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئر مین ایف بی آر نے وزیراعظم کو تجاویز پیش کیں۔وزیر اعظم نے اپنی معاشی ٹیم کو غریب طبقے پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے سول اداروں کے اخراجات کم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوج اپنے اخراجات کم کر سکتی ہے تو سول ادارے کیوں نہیں کر سکتے؟ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا جس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق دا?د، وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں مالی سال 2019-20ئ کی بجٹ تجاویز زیر غور آئیں ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نے بجٹ میں سول اخراجات میں بھاری کٹوتی کی ہدایت کر دی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام سول ادارے اپنے اخراجات کم کریں اگر فوج اپنے اخراجات کم کر سکتی ہے تو سول ادارے کیوں نہیں؟ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ حکومت کفایت شعاری پر سختی سے عمل کرے اور بجٹ میں غریبوں پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔حکومت نے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ترجمانوں کے اجلاس میں مشاورت کی۔ذرائع کے مطابق اتوار کو بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ترجمانوں کے اجلاس میں آیندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا، اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بجٹ میں پس ماندہ علاقوں کی ترقی اور کم زور طبقات کی معاونت پر توجہ دی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں کے عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، ان علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کو برو¿ے کار لا سکیں۔حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ترجمانوں کے اجلاس میں آیندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔اجلاس میں بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا، اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔
































