قصور (بیورو رپورٹ) چینل ۵کے پروگرام ہیومن رائٹس واچ میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد اور قانونی ماہر ایڈووکیٹ اشرف عاصمی کی طرف سے قصور میں غیر شرعی اور غیرقانونی طور پر لڑکی کی شادی ہونے کے باوجود دوسرا نکاح کر دیے جانے کے واقعہ کی نشاندہی پر آئی جی پنجاب کیپٹن (ر)عارف نواز خاں نے نوٹس لے لیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد نے اس پروگرام میں قصور پولیس کی دانستہ جانبداری پر کڑی نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب پولیس کی لاقانونیت کے متعلق قومی اسمبلی میں آواز اٹھائے گی تفصیلات کے مطابق چینل ۵ کے پروگرام ہیومن رائٹس واچ میں پیرو والا قصور کے بلال احمد کی پسند کی شادی کے بعد پولیس کی طر ف سے بلال کے خاندان کےخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے اور اس کی اہلیہ کی دوسری شادی کرانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کرنیوالے قصور پولیس کے ملازمین کے منفی کردار کی نشاندہی کی گئی تھی جس کی تفصیلات روزنامہ خبریںنے اتوار کے روز تفصیلی طور پر شائع کی جس پر آئی جی پنجاب نے ڈی پی او قصور کو ہدایت کی کہ اس سلسلہ میں ازسر نوتحقیقات کرائی جائیںاور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ محکمانہ اور مجرمانہ طور پر ملزمان کا ساتھ دینے والے پولیس ملازمین کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او قصور عبدالغفار قیصرانی نے اس سلسلہ میں ڈی ایس پی صدر سرکل عالم شیر کو بلال کیس کی از سر نو انکوائری کا حکم صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تین دن کے اندر اندر حقیقی رپورٹ پیش کریں ڈی پی او قصور کی طرف سے بلال احمد اور اس کے خاندان کو اس امر کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں ہر صورت انصاف مہیا کیاجائے گا جبکہ جھوٹا مقدمہ درج کرنے اور جعلی نکاح نامہ وطلاق کے ساتھ ساتھ بوگس دستاویزات بنانے والے تمام ملزمان کے خلاف بھی کاروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے دریں اثنائ پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد ایڈووکیٹ نے اس سلسلہ میں خبریں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ خبریںنے پیرو والا روڈ کے بلال احمد کے ساتھ ہونیوالے جس ظلم کی نشاندہی کی ہے وہ قابل ستائش ہے انہوںنے کہاکہ پنجاب کے اندر ہر ضلع سے پولیس کے متعلق ایسی ہی شکایات آرہی ہیں ابھی چاند روز کی رات حکومتی پارٹی کے ایک اہم پارٹی عہدادار کے بھائی نے جس طرح لاقانونیت کا مظاہرہ کیا اور پولیس نے دانستہ طو رپر اس سے ناصرف چشم پوشی کی بلکہ الٹا متاثرین کو دھمکیاںدی گئیں کہ اگر انہوںنے زبان کھولی تو ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی یہ انتہائی قابل مذمت صورتحال ہے اور روزنامہ خبریں کے پروگرام میں قصور میں ہونے والے واقعہ کے بعد پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملہ کو قومی اسمبلی میں اٹھایاجائے گا دوسری طرف ڈسٹرکٹ بار قصور ایسوسی ایشن کے سابق صدر مرزانسیم الحسن ایڈووکیٹ نے چینل ۵کے پروگرام میں بیان کی جانیوالی پولیس گردی اور روزنامہ خبریں میں اس کی تفصیلی اشاعت پڑھنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں بلال احمد کے خاندان کو بلا معاوضہ قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں انہوںنے کہاکہ ہم خبریں گروپ کے ذریعے بلال احمد کے خاندان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہم سے رابطہ کریں ہمارے وکلائ انہیں ہر طرح کی معاونت اور مدد فراہم کریںگے۔
































