لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لیگل ایڈوائزر اشرف عاصمی نے کہا ہے کہ معاشرے میں رشتوں کی پامالی ہو رہی ہے، پاکپتن میں ساڑھے تین سالہ بھتیجی سعدیہ کو اس کے چچا ظہور نے محض اس لئے قتل کر کے لاش گٹر میں پھینک دی کیونکہ اس کی اپنی بیٹی کو اس کی ناراض بیوی کے پاس میکے بھیج دیا گیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے ہم اخلاقی طور پر بڑی گھمبیر صورتحال میں گھر گئے ہیں حالانکہ چچا تو باپ کے برابر ہوتا ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے مقتولہ بچی کی تصویر دیکھی تو میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ایسے کیسر میں عام طور پر ملزم اکیلا نہیں ہوتا اس سے منسلک لوگ اسے بچانے میں لگ جاتے ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے مقتولہ سعدیہ پوری قوم کی بیٹی ہے۔ارباب اختیار سیف سٹی بناتے پھرتے ہیں پولیس کی ترکی سے ٹریننگ کرائی جا رہی ہے بھاری بھرکم تنخواہیں ہیں لیکن پولیس کا بیڑا غرق ہوتا جا رہا ہے جس علاقے میں جرم ہوتا ہے ایس ایچ او ذمہ دار ہے جب تک جزائ و سزا کا عمل نہیں ہو گا نتیجہ نہیں نکلے گا اللہ سے دوری ،رزق حلال نہ ہونا قناعت نہ ہونا ایسے جرائم کی جڑہیں۔ایسے ملزم کو فوری لٹکا نا چاہئے لیکن پہلے ٹرائل ہو گا پھر شک کا فائدہ مل جاتا ہے تفتیش کو تروڑا مڑوڑا جاتا ہے۔سپیڈی ٹرائل اور گواہوں کو تحفظ ملنا چاہئے وگرنہ وہ ڈر جاتا ہے۔معاشرہ اس رخ جا رہا ہے کہ خیر کی توقع نہیں۔ایسے واقعات میں وزیر اعلی پنجاب ،آئی جی،علاقہ ڈی پی او سب ذمہ دار ہیں فوری ایکشن ہو تو جرم کم ہو جائے گا۔ ایسے جرائم کے پیچھے معاشی و نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں،نفسیاتی مریضوں کو بغیر رشوت ہسپتالوں میں داخلہ نہیں ملتا۔عمران خا ن سے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں لیکن پولیس میں تبدیلی نہیں آرہی حکومت کو چاہئے پاکپتن کیس میں فوری ایکشن لے پراسیکیوشن کو بھی دیکھا جائے۔میرے ایک دوست نے کینیڈا سے فون پر کہاں ہیومین رائٹس کے چکر میں مت پڑو تمہارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میں نے کہا دوسرے بھی تو میرے بچوں کی طرح ہیں۔سب اشرافیہ آپس میں ملی ہوئی ہے غریب کا کوئی پرسان حال نہیں اس لئے غریب صلح کی طرف آتا ہے۔پولیس بھی استعمال ہوتی ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا اس میں ہم سب ہی قصور وار ہیں ظاہر ہے بچی پر تشدد کیا ہوگا پھر گلا گھونٹا یہ کیسے ممکن ہے بچی کے گھر والوں کو تشدد کا پتہ نہ چلا ہو پھر کہا جاتا ہے ملزم مل نہیں رہا حالانکہ وہ کہیں قریب ہی ہوتا ہے اسے چھپانے والا خود بڑا ملزم ہوتا ہے کتنا بڑا ظلم ہے تین سالہ بچی کے قتل اور گٹرمیں پھینکنے کے بعد ملزم آزاد پھر رہا ہے کتنا بے حس شخص ہے۔ایسے کیسز میں قانون کے ہاتھ لمبے ہونے چاہئیں۔میرے خیال میں پولیس کو کسی نے پیسے کھلا دیے جو پولیس دلچسپی نہیں لیتی۔پولیس پیسے کے بغیر کام نہیںکرتی۔جب کیس میڈیا پر آ جائے تو دبا? ہوتا ہے کہ معاملہ پھیل گیا ہے کام نہ کیا توہم سے بھی باز پرس ہو گی۔لڑکی کے چچا کا غائب ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود مجرم ہے۔ملزم جہاں بھی چھپا ہے اس کے رشتے داروں کو پتہ نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے وہ کوئی اتنا امیر تو ہے نہیں کہ فائیو سٹار ہوٹل میں کمرہ بک کرایا ہو کسی کے گھر چھپا ہو گا۔صحافت کے دوران میں نے بارہا گرفتاریاں دیکھیں عدالتیں دیکھیں جیلوں میں بھی رہا۔قاتل کے سر پر کوئی سینگ نہیں ہوتے اگر اس کے پاس چار پیسے ہوں جیل میںسہولتیں مل جاتی ہیں مشقتی بھی مل جاتے ہیں ایسے لوگوں کو جیل ناشتے میں تین انڈے بھی ملتے ہیں میں نے اس نظام کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔مجرم بڑے فخر سے کہتے ہیں بارہ گواہ تھے چار بٹھا دیے باقی چار رہ گئے۔کچھ کو پیسے دے کر ڈرا کر بٹھا دیا جاتا ہے۔جب تک یہ خوف پیدا نہیں ہو گا کہ کسی کی جان لے کر بچ نہیں سکتے قانون حرکت میں آئے گا اسی دن پچاس فیصد نظام ٹھیک ہو جائے گا۔مشہور واقعہ ہے ایک میجر نے سالی سے شادی کرنے کے لئے بیوی قتل کر دی وہ پکڑا گیا وہ کہتا تھا اچھرا بازار میں کسی کوقتل کر کے دوبارہ جیل آ جائیں۔لوگ جیلوں میں انتظامیہ سے مل کر جیل سے باہر قتل کر کے رات سے پہلے جیل آ جاتے ہیں جیل کا ریکارڈ کہتا ہے یہ تو جیل میں تھاکوئی کچھ نہیں کر سکتا وہ رہا ہو جاتا ہے،قانون میں بڑے چور دروازے ہیں پھر گواہی سسٹم میں بڑی خامیاں ہیں۔ لوگوں سے پوچھا جائے کہ اگر انہیں جرم کا علم تھا تو روکا کیوں نہیں لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہے لوگ کہتے ہیں خوامخواہ دوسروں کے پھڈے میں پڑو گے تو پکڑے جا?گے۔ایسے کیسز سوشل میڈیا کے باعث بھی سامنے آتے ہیں ہمارے پاس تو تمام کیسز کی ویڈیو موجود ہے جو کسی نے تو بنائی ہیں۔آگاہی ہونا اصلاح کے مترادف ہے اس سے پچاس فیصد مسائل حل ہوتے ہیں۔ ورنہ سڑک پر چھ قتل ہو جائیں تو کوئی گواہی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔چیف جسٹس صاحب ٹھیک کہتے ہیں سچی گواہی ملنے لگے جھوٹی گواہی سے بچا جائے بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا گواہی کیوں نہیں دیتے لیکن لوگوں میں تاثر ہے جو ہونا تھا ہو گیا۔ ہم سب کا فرض ہے صرف یہاں بیٹھ کر تقریر نہ کریں بلکہ گواہوں کو بلائیں مثبت کردار بھی ادا کریں،چھانگا مانگا کیس میں ہم نے مظلوموں کو بلایا ان کی پولیس افسران سے بات کرائی اس کا کوئی بدلہ یا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ ضمیر کی آواز پر ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہیومین رائٹس پر کئی پروگرام کر چکے لوگوں نے کہا آپ کی طرف سے مسئلہ اٹھانے سے ہماری شنوائی ہوئی۔
































