تازہ تر ین

ماریہ پر پیر کی تیزاب گردی ، پیری مریدی کے نام پر یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے : ضیا شاہد ، پیر عزیز شاہ کے ہاتھوں لڑکی پر تیزاب پھینکنا دل دہلا دینے والا واقعہ : آغا باقر کی چینل ۵ کے پروگرام ” ہیومین رائٹس “ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لیگل ایڈوائزر آغا باقر نے منڈی بہا?الدین کے علاقے میں پیر سید عزیز شاہ کے ہاتھوں تیزاب گردی کا شکار ہونے والی لڑکی ماریا سے متعلق کہا کہ ہر مرتبہ دل ہلا دینے والی سٹوری سامنے آتی ہے۔سات سال کی عمر میں ماریا کے والدین نے ماریا کو خدمت کے لئے پیر کے حوالے کیا تھا۔ہمارے معاشرے میں اس قسم کے جعلی پیر فیض کے نام پر بچیوں سے زیادتی کرتے ہیں۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومن رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لگتا ہے پیر کا کوئی مقصدپورا نہیں ہوا جس پر پیر نے اس پر تیزاب پھینک دیا بچی کا چہرہ جسم اور نازک اعضائ جل گئے۔مذہب کی آڑ لے کر لوگوں سے زیادتی کرنا انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔کسی نے واقعہ کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔لڑکی انصاف کے لئے دوسال بھٹکتی رہی پچاس ہزار دے کر ماریا کی زبان بند کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ہمارے ملک میں بچوں کو اشٹام کے ذریعے کسی کے حوالے نہیں کر سکتے صرف ریاست قصور وار نہیں والد کا بھی قصور ہے جس کے ذمے کفالت ہے بچی کو کسی کے حوالے کرنا اپنی انفرادی و اجتماعی غیرت کسی کو دینا ہے اب یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے پھر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس پر قانون سازی ہونی چاہئے۔ چاہے فیملی کو معاشی مسائل تھے لیکن یہ جرم ہے۔ کسی کے چہرے پر تیزاب پھینکنا بڑا جرم ہے۔ بچی کا حق تھا اپنی مرضی سے شادی کرتی ایسے پیر کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہئے۔لڑکی تو مردہ لاش بن گئی ہو گی۔ترجمان وزیراعلی شہباز گل متاثرہ فیملی کے گھر گئے جو قابل ستائش ہے۔بچی کو پانچ لاکھ بھی دیے لیکن یہ رقم بچی کا متبادل نہیں لیکن کیا پانی سر سے گزرنے کے بعد شہباز گل وہاں پہنچے۔کیا منسٹری واقعہ سے پہلے ایسی جگہ نہیں پہنچ سکتی۔ایسے کیسز میں عام طور پر صلح ہو جاتی ہے ایسے جاگیردارانہ علاقوں میں لوگوں کی زندگیاں ان کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہوتیں۔ناجانے ظلم کی داسنان کب ختم ہو گی انسانی حقوق کے ادارے کب جاگیں گے۔اقدامات ایسے ہوں کہ پھر یہ واقعات نہ ہو سکیں۔غربت ختم کرنا طویل عرصے کی منصوبہ بندی ہے واقعہ ہونے سے قبل اسے روکنا چاہئے کیا ایس ایچ کو پیر کا نہیںپتہ ہو گا۔اداروں کو مضبوط کرنا ہو گا۔پنجاب کے بارہ سیکرٹری چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ممبرز ہیں جب بچی پر تیزاب پھینکا جاتا ہے سات سال کی بچی پیر کے حوالے کی جاتی ہے یہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کدھر تھا۔ باپ بھی قصور وار ہے پتہ نہیں پندرہ سال میں شاید باپ دام لیتا رہا۔ سینئر صحافی ضیائ شاہد نے کہا کہ پیر کی جانب سے لڑکی ماریا پر جو تیزاب پھینکا گیا ہمارے پروگرام میں یہ کسی پیر کی کارستانی کا پانچواں کیس ہے۔علم والے لوگ بھی موجود وہیں لیکن بہت کم جبکہ اس قسم کے جعلی پیروں کی تعداد زیادہ ہے۔ افسوس کس قسم کے لوگ رشد و ہدایت کی دکانداریاں بنا کر بیٹھے ہیں۔ماریا کو خدمت گزار کے طور پر پیر کے حوالے کیا گیا تو اس کی عمر سات سال تھی غربت اپنی جگہ لیکن کیا کوئی غربت کے باعث بیٹیوں کو کسی کو نذرانہ دے سکتا ہے،تھوڑی بہت تو شرم و حیا غیرت ہونی چاہئے ایسے واقعات روز ہوتے ہیں۔پانچ پروگرام اب تک پیروں پر ہو چکا یہ پیری مریدی کے نام پر کیا کھیل جاری ہے۔اہل علم کی بات چھوڑیں لیکن جو اس قسم کے پیر ہیں ان کے خلاف مہم چلانی چاہئے۔لڑکی پاس رکھی خدمت کرائی جب بڑی ہوئی تو اسے مجبور کیا گیا ہو گا جب وہ نہیں مانی چہرے پر تیزاب پھینک دیا یہ ایک مایوس اور مضطرب شخص کا کام ہوتا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے اچھی شکل کی لڑکی اس کی بات نہیں مانتی تو وہ مشعتل ہو کر یہ قدم اٹھاتا ہے۔بچے والدین کی خدمت کے لئے تو ہیں پیر درمیان میں کہاں آ گیا۔بچی پندرہ سال پیر کے پاس رہی اگر بچی کا باپ لائن پر ہوتا تو اس سے پوچھتا اسے کب پتہ چلا پیر اسے بیٹی سے نہیں ملنے دے رہا اس وقت کیا کوئی پرچہ درج کرایا یا درخواست دی اگر پیر نے کچھ لکھوا بھی دیا ہو تو یہ تو نہیں لکھوایا ہو گا بچی والدین سے نہیں مل سکتی۔والدین سے ملنا بنیادی حق ہے اب وہ مظلوم بنا بیٹھا ہے میرے خیال میں پہلے نمبر پر باپ قصور وار ہے با پ کو کیا حق ہے سات سالہ بچی کسی پیر کے حوالے کر کے انگوٹھے لگوا کر گھر آ جائے کسی کے ساتھ اگر زیادتی ہو تو اسے فرشتہ نہیں سمجھ لینا چاہئے پندرہ سال باپ کیا کرتا رہا جس کا جو فرض ہے پورا کرنا چاہئے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی


پتلی ایل ای ڈی

آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv