تازہ تر ین

کراچی کی ماڈل لاہور میں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل ، ورثاءانصاف کیلئے خبریں آفس پہنچ گئے

کراچی (رپورٹ: ذوالفقار نقوی) کراچی کے محنت کش کی مادل بیٹی کو لاہور کے امیر زادوں نے اپنی فیکٹری میں ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق 7مئی کی رات تقریبا 3بجے لاہور میں واقعی شاہدرہ تھانے کی حدود سے ایک دوشیزہ کی نعش ملی جسے ٹیچنگ اسپتال میں پہنچایا گیا اطلاع ملنے پر شاہدرہ پولیس نے اسپتال پہنچ کر دوشیزہ کی نعش کو عدم شناخت پر ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے سرد خانے منتقل کیا۔ 10مئی کو کراچی کے علاقے ماڈل کالونی کا رہائشی سید افسر اپنے بھائی حبیب کے ہمراہ لاہور پہنچا تو اس نے مقتولہ کی نعش کو اپنی 22سالہ بیٹی اقرائ سعید کی حیثیت سے شناخت کرتے ہوئے شاہدرہ پولیس سے رابطہ کرکے اپنی بیٹی کی موت کی تفصیلات حاصل کیں تو شاہدرہ پولیس نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقتولہ کے والد کو بتایا کہ واقعہ کی شب پولیس کو اسپتال سے کال آئی تھی کہ عثمان ولد رفیق ، حسن بٹ اور عمر رضا بٹ نامی 3افراد مقتولہ کو لیکر اسپتال آئے تھے جنہوں نے اسپتال انتظامیہ کو بتایا کہ یہ لڑکی ہمیں گلشن راوی کے علاقے سے نشے کی حالت میں ملی ہے انتظامیہ کو بتانے کے بعد تینوں افراد لڑکی کو اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے جس سے اسپتال انتظامیہ نے شبہ ظاہر کی کہ لڑکی کو لانے والے افراد نے ہی کوئی نشہ آور چیز کھلائی ہے جس سے اس کی موت واقعہ ہوئی ہے تاہم پولیس نے اسپتال انتظامیہ کے بیان پر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 1187/19تغیرات پاکستان 302/34درج کرتے ہوئے مقتولہ کی نعش کو شناخت کیلئے سرد خانے میں رکھوادیا تھا۔ دوسری جانب مقتولہ اقرائ کے والد سید افسر نے شاہدرہ پولیس کو تحریری درخواست دیتے ہوئے اپنا موقف اختیار کیا کہ وہ کراچی کے علاقے ملیر ماڈل کالونی میں کرائے کے مکان نمبر 413میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے اور رنگ ساز کاکام کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرتاہے۔ شاہدرہ تھانے کی حدود میں قتل ہونیوالی 22سالہ اقرائ سعید اسکی حقیقی بیٹی اور گذشتہ تین برسوں سے ماڈلنگ کررہی تھی کچھ عرصہ قبل میری بیٹی ماڈلنگ کے شوٹ کیلئے دبئی گئی تھی جہاں اس کی ملاقات صوبیہ نامی ایک آرٹسٹ سے ہوئی صوبیہ نے میری بیٹی سے کہا کہ آپ جب لاہور آ? تومیرے پاس ضرور آنا تاہم میری بیٹی کراچی آئی تو علی نامی شخص نے اپنے موبائل نمبر 0300-8456012سے کال کرکے اسے لاہور میں شوٹ کیلئے بلایا میری بیٹی کو علی نامی شخص نے بلایا تو وہ شوٹ کیلئے لاہور چلی گئی مگر اس سے ہمارا رابطہ منقطع ہوگیا بعد ازاں ہم لاہور پہنچے اور بیٹی کو تلاش کیا تو پتہ چلا کہ صوبیہ نامی خاتون نے 18ہزاروپے لیکر میری بیٹی کو 7افراد کے حوالے کیا جن میں سے 2عمر رضا بٹ اور حسن بٹ آپس میں بھائی اور فیکٹریوں کے مالک بتائے جاتے ہیں ملزمان میری بیٹی کو اپنی فیکٹری میں لے گئے جہاں پر ملزمان نے میری بیٹی کو نشہ آور اشیائ کھلا کر اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور بعد میں بہیمانہ تشدد کرکے اسے قتل کردیا۔ مقتولہ ماڈل کے والد سید افسر نے روزنامہ خبریں کو بتایا کہ شاہدرہ پولیس بااثر اور دولت مند ملزمان کے ساتھ مل گئی ہے اور قتل کی تفتیش کا رخ موڑنے میں مصروف ہے جبکہ ملزمان مختلف لوگوں کے ذریعے ہمیں مقدمے کی پیروی کرنے سے منع کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ امیر زادوں کی ہوس کا شکار بن کر قتل ہونیوالی اقرائ سعید 3بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے بڑی اور تعلیم یافتہ تھی مقتولہ کی والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ اقرائ کی ایک بہن شادی شدہ ہے جبکہ چھوٹی بہن میٹرک میں اور بھائی نویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں والد محنت مزدوری کرتا ہے جس کا سہارہ بننے کیلئے اقرائ نے ماڈلنگ شروع کی تھی مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ دولت مند بگڑے ہوئے لوگ اسے قتل کرکے اسکے باپ اور بھائی بہنوں کا سہارا بھی ان سے چھین لیں گے۔ 11مئی کو محنت کش جب اپنی جوان بیٹی کی نعش لاہور سے لیکر کراچی کے علاقے ماڈل کالونی پہنچا تو علاقے کی فضائ سوگوار ہوگئی نعش گھر پہنچنے پر مقتولہ کے بھائی بہن اقرائ کی نعش سے لپٹ کر رونے لگے مقتولہ کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعداس کے جسد خاکی کو سعود آباد کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ خبریں گروپ اور چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد صاحب ظلم کے خلاف پورے ملک میں جہاد کررہے ہیں ہم خبریں اخبار کو آخری امید سمجھ کر آئے ہیں امید ہے جناب ضیاشاہد صاحب بیٹی کے قاتلوں کو سزادلوانے میں مدد کریں گے۔ یہ بات روزنامہ خبریں کے دفتر میں آئے ہوئے مقتولہ اقرائ کے والد سید افسر نے، چچا حبیب اور دیگر اہلخانہ نے کہی۔ مقتولہ کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ہم روزنامہ خبریں ککے پرانے قاری ہیں جس میں جہاں ظلم وہاں خبریں نے عوام کے دلوں میں گھر کررکھا ہے کیونکہ چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں جناب ضیا شاہد صاحب نے آمریت ہویا جمہوریت ہر دو ر میں مظلوموں کی آواز کو ایوان بالا تک پہنچا کر انہیں سستا انصاف فراہم کیا ہے ہماری ضیاشاہد صاحب سے اپیل ہے کہ ہماری آواز کو بھی بلند کرکے اقرائ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مدد کریں کیونکہ لاہور پولیس ملزمان کو بچانے کیلئے میڈیکل رپورٹ کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔



خاص خبریں



سائنس اور ٹیکنالوجی


internet

تازہ ترین ویڈیوز



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv