تازہ تر ین

بارش سے لاکھوں ایکڑ گندم تباہ ،حکومت فوراًصحیح اعدادوشمارکیلئے کمیشن بنا ئے :معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے
کہ جنوبی پنجاب میں آندھی اور بارشوں سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسانوں کے لئے آزمائش ہے کہ ان کی کھڑی فصلیں ہی وہ تباہ ہو گئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک پرانی ضرب المثال مشہور ہے کہ اس موسم میں تو سونے کی بھی بارش ہو تو وہ بھی فصلوں کی تباہی ہے۔ بارش کھڑی فصل کو تباہ کر دیتی ہے آج لاہور سے شہر میں ہم اپنے دفتر سے باہر دیکھ رہے تھے کہ ژالہ باری ہوئی۔ اگر کسی بھی جگہ گندم کی فصل ژالہ باری سے دانے جو ہیں وہ خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اور ہمارا بہت بڑا علاقہ جو ہے زرعی علاقے ہیں 39 سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں اور 180 سے زائد لوگ زخمی ہیں اور کھڑی فصل تباہ ہو چکی ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکتا ہو ںکہ یہ بہت شور مچتا ہے کہ جب سے 18 ویں ترمیم کے بعد یہ صوبوںکے پاس مراعت کا شعبہ منتقل ہوا ہے اس وقت سے سنٹر لائز تو کوئی محکمہ نہیں محکمہ خوراک اور زراعت کا موجود نہیں ہے لہٰذا صوبوں کو اب اندازہ کرنا پڑے گا کہ صوبوں میں سب سے زیادہ پنجاب متاثر ہوا ہے۔ فصلیں تباہ ہونے کا سب سے زیادہ اثر گندم پر پڑے گا کیونکہ گندم کسان نہ صرف اپنے لئے اگاتے ہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑی جنس بھی ہے جس سے بیچ کر کسان سارا سال گزر بسر کرتا ہے تباہی کی وجہ سے جس طرح سے چودھری انور نے کہا ہے کہ جو معروف کاشتکار رہنما ہیں انہوں نے کہا تھا کہ اب کسانوں کے پاس شاید اپنی ضرورت کے لئے بھی گندم نہیں بچے گی۔ کروڑوں ایکڑ گندم کی تباہی ہوئی ہے اس کا اندازہ دو چار دن کے بعد لگے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ کم از کم فوری طور پر فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنایا جائے جو یہ اندازہ کر سکے کہ جو تباہی ہوئی ہے اس کے برعکس حکومت کے پاس کون سے ایسے اقدامات ہیں جن سے وہ تباہی کو کم از کم اور بربادی کو کم از کم محدود کرنے کے لئے اور کسان کو ریلیف پہنچانے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس موقع پر کسانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے تو ان کی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانتوں میں توسیع ہوتی رہے گیا یا واقعی کوئی پیش رفت سامنے آئے گی اس حوالہ سےے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ لوگوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ضمانت میں بے اندازہ قسم کی توسیع کی وجہ سے لگتا یہی ہے کہ شاید کسی پکڑ دھکڑ متوقع نہیں ہے اور عمران خان صاحب کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکے کہ زرداری صاحب کو بہرحال جیل جانا پڑے گا کیونکہ لگتا ہے کہ ان کی جو اوپر نیچے ضمانتیں ہو رہی ہیں اس کی وجہ منی لانڈرنگ کے سلسلے میں شاید ان پر کوئی حتمی پکڑ نہ ہو سکے۔ لگتا ہے کہ زرداری صاحب، بلاول اور پیپلزپارٹی کے دوسرے انتہا پسند لیڈر جو ہیں ان کی پکڑ دھکڑ کے دن قریب ہیں اس لئے کبھی وہ 18 ویں ترمیم کا ذکر کرتے ہیں کبھی سندھ کارڈ کی بات کرتے ہیں کبھی صدارتی نظام کی بات کرتے ہیں اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ چار وزراءجو ہیں دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں لگتا یہی ہے کہ انتہا پسندانہ مطالبے کر کے توجہ اپنی طرف مبذول کرانا چاہتے اور براہ راست الزام جو ہے حکومت کے ساتھ منڈنا چاہتے ہیں۔ بظاہر تو کوئی ایسی شکل نظر نہیں ااتی کہ صدارتی نظام کی کوئی تحریک چلی ہو یا حکومت نے کہا ہو یا حکومت کے زیر اثر کسی پارٹی نے اب تک اس کا مطالبہ کیا ہو لگتا یہی ہے کہ الزام برائے الزام ہے۔ نیب کی طرف سے شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو سوالنامہ بھجوا دیا ہے۔
ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ابھی تو اس باتت پر بحث شروع ہے کہ نوازشریف اور شہباز شریف کے جو لوگ دھڑا دھڑ پاکستان سے باہر پیسے منگوا رہے ہیں ان کا ذریعہ آمدنی کیا ہے جو یہ باہر کاروبار کرتے ہیں۔ یہ کون سی ان کی کمپنیاں ہیں اور یہ کام کرے ہیں۔ چنانچہ آنے والے دنوں میں یہ کھوج لگائی جائے گی کہ ان کو پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔ پاکستان کے صف اول کے ایک اخبار نے ایک کالم شائع کیا ہے ارشاد بھٹی جو رپورٹر ہیں ان کے اس میں انہوں نے جتنی منی لانڈرنگ کی ہے نوازشریف کی فیملی نے اس کے اوپر انہوں نے اعداد و شمار جمع کئے ہیں میں یہ سمجھتتا ہوں کہ اب آہستہ آہستہ بات اس طرف آ رہی ہےکہ نوامشریف اور ااصف علی زرداری کی فیملیوں کی طرف سے جو بھی مالی بدعنوانی کے جو معاملات زیر بحث ہیں ان کو کہاں تک سچے اور کس طرح سے پتہ چلے گا کہ ان خاندانوں کے افراد نے پاکستان سے باہر کہاں کہاں سے پیسے منگوائے اور کتنے منگوائے۔ یہ چیزیں اگلے دو تین ہفتوں میں سامنے آ جائیں گی اس لئے ن لیگ کی ترجمان کی طرف سے تردید کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ایمنسٹی سکیم روکنےکے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ایمنسٹی سکیم بارے کل دو بجے تک کا وقت لیا گیا ہے اور غالباً اس لئے روکی گئی ہے کہ اس پر بہت اعتراضات تھے بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں کے بارے میں آپ یہ کہتے تھے کہ لوگوں کو ایمنسٹی کے ذریعے ایسی چھوٹدی گئی تھی کہ جو شخص اتنی مدت میں اتنے پیسے جمع کروا لے وہ بہت سی چھوٹی دی جائے گی۔ اور اس پر اندازہ کیا جائے گا کہ اگر یہ ایمنسٹی دی جاتی ہے تو پچھلے ادوار میں جو چھوٹ دی جاتی تھی اس میں اور اس چھوٹ میں کیا فرق ہے۔ میرا خیال ہے کہ وقتی طور پر لگتا ہے کہ یہ روک دی جائے گی۔ یا کم از کم مزید شرائط لگا دی جائیں گی۔ کل سیکرٹریٹ میں چیئرمین نیب نے جو لیکچر دیا ہے اس میں بیورو کریسی کو کچھ سہولتیں دی گئی ہیں کہ کسی 19 گریڈ کے افسر کی گرفتاری سے پہلے چیئرمین سے منظوری لی جائے گی اس طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف الزام کی بنیاد پر کسی افسر کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی، یہ سمجھتا ہوں کہ چیئرمین نیب کی طرف سے کوشش ہو رہی ہے کہ ایک کانفی ڈینس رویہ اختیار کر کے افسروں کو اعتماد میں لیا جائے۔چیئرمین نیب نے سیکرٹریٹ میں جو لیکچر دیا اس کے ذریعے بیوروکریسی کے دل جیتنے کی کوشش کی ان کی کوشش تھی کہ افسروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ نیب بطور ادارہ اپنے طریقہ کار میں پائے جانے والے نقائص کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الطاف حسین کو واپس لانے کے دعوے پچھلی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں تاہم کسی کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اب بھی بانی متحدہ کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ باقی افراد کو حکومت واپس لانے کی کوشش ضرور کرے گی۔ برطانیہ نے ایک عرصہ سے پاکستان کے بھگوڑوں کو پناہ دے رکھی ہے جس کا اس پر بھی دباﺅ آ رہا ہے۔ حکومت کوشش کرے گی کہ برطانوی حکومت پر مزید دباﺅ ڈال کر بھگوڑوں کو واپس لایا جائے بلوچ باغی، ایم کیو ایم کے بھاگے ہوئے رہنما سب برطانیہ، سوئٹزرلینڈ اور یورپ کے دیگر ممالک میں پناہ گزین ہیں جہاں انہیں ہر طرح کی سہولت حاصل ہے۔ برطانیہ نے ماضی میں بھی کشمیر کے معاملہ پر بھارت کا ساتھ دیا تھا وادی کو جانے والے تمام راستے اس کے حوالے کر دیئے تھے۔ ایک وقت آئے گا، برطانیہ کو فیصلہ کرنا ہو گا، ماضی کی غلطیوں کی بھی تلافی کرنا ہو گی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم مسلمانوں کے خلاف تعصب کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئیں انہوں نے مظلوم مسلمان خاندانوں کے ساتھ جس طرح اظہار یکجہتی کیا ان کے طرز عمل نے دنیا میں ایک مثال قائم کر دی اور مسلم غیر مسلم تمام عوام میں ان کی عزت اور قدرومنزلت میں اضافہ ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے جو راستہ اختیار کیا۔ وزیراعظم جیسنڈرا نے اس کے الٹ چل کر عزت اور وقار پایا۔
ساہیوال میں جنوں کو نہ مانے پر شوہر کے ہاتھوں بیوی کا نام کاٹ دینا افسوسناک واقعہ ہے۔ قرآن میں جنوں کا ذکر آیا ہے۔ شیطان ابلیس بھی پہلے ایک جن تھا۔ مسلمانوں کے لئے جنوں کے وجود پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے تاہم ضروری نہیں کہ کوئی کہے کہ جن تنگ کرتے ہیں تو اس کی بات مان لی جائے۔ فورٹ عباس میں بھی ایک خاتون نے جعلی پیر کے کہنے پر اپنی بچی کو آگ میں جلنے پر مجبور کیا اور زخمی کر دیا۔ پھراسے نادیدہ قوتوںکی کارستانی قرار دیا۔ ڈی پی او بہاولنگر عمارہ صاحبہ نے ہمارے ہیومن رائٹس پروگرام میں وعدہ کیا ہے کہ اس واقعہ کے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے گا اور جعلی پیر کو گرفتار کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ بچی کو جلانے میں پیر کا بھی کردار ہے۔



خاص خبریں


shahrukh dubai tower

سائنس اور ٹیکنالوجی



آج کی خبریں



HEAD OFFICE
Khabrain Tower
12 Lawrance Road Lahore
Pakistan

Channel Five Pakistan© 2015.
© 2015, CHANNEL FIVE PAKISTAN | All rights of the publication are reserved by channelfivepakistan.tv