لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالباسط خان نے کہا کہ ہر حکومت اپنے ساتھ زوال کی بیج لاتی ہے۔ وزیراعظما عمران خان کی حکومت کو درپیش مسائل اور غلطیوں کیوجہ داغدار اتحادی اور واضح مینڈیٹ نہ ہونا ہے۔حکومت کیخلاف ن لیگ ، پی پی پی اور فضل الرحمان سمیت کوئی بھی حکومت مخالف تحریک نہیں چلائے گا ،وگرنہ منظر نامہ خوفناک ، ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ بے روزگاری کیساتھ ملک کی آباد بڑھنا تباہ کن ہے۔ عمران خان کو دیہاتوں ، قصبوں کو سڑکوں کے ذریعے شہروں سے ملانا چاہیے کہ وہاں غریب بستے ہیں۔ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر بھارتی آئین دوتہائی اکثریت سے بھی کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا، نہ کسی ہندو کو کشمیر کی شہریت مل سکتی ہے۔مودی دھمکی دے رہا ہے کہ آئین سے یہ شق ختم کر دی جائے گی جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بیان دیا۔پی ایس ایل نے پاکستان کو امید دی ہے۔ ویون رچرڈ کی پاکستان آمد پرپی ایس ایل کے لیے عمران خان ایک اوور کرتے اور ویون رچرڈ کھیلتے۔میزبان تجزیہ کار آغا باقر نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے امن خراب ہو۔ پی ایس ایل کا درخت پھل دینا شروع ہو گیا ہے۔ملک میں بڑی معاشی سرگرمی شروع ہوگئی ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ سیاست اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی درخت پھل دینے لگیں۔کالم نگار ضمیر آفاقی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو ہلکا نہ لیا جائے ، اس مرتبہ گرمیاں بہت گرم ہوں گی اور حدت حکومتی ایوانوں میں محسوس ہوگی۔ تحریک انصاف کی حکومت لاہور میں150افراد کے مجمے کوبھی قابو نہیں کر پائے گی۔حکومت کے پاس عوام کو دینے کو کچھ ہے نہیں اور سیاسی شہید بننا چاہتی ہے۔ ریاست جبری طور پر چلائی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے پاس پارلیمنٹ میں بہت سے راستے موجود ہیں۔ تجزیہ کار مریم ارشد نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس قابل بھی نہیں کہ انہیں انکا مفاد ہی دیا جائے۔ عمران خان سے امید نہیں چھوڑ سکتے، سیاستدان اپنی کرپشن کے پیسے لوٹا دیں تو پاکستانی معیثت ٹھیک ہو سکتی ہے۔نواز شریف کا حکومت مخالف مہم پر بات نہ کرنا معاملہ دبانے کا ایک انداز ہے۔ جن پیسوں سے ہسپتال بننے چاہیے تھے ن لیگ نے نالے بنائے گئے۔اسرائیل ، امریکا سمیت طاقتور ممالک خوددنیا میں تیلی لگاتے ہیں اور پھر پناہ بھی دیتے ہیں۔ کسانوں کے گوشہ گندم جلا کرہاﺅسنگ سکیموں بدلا جارہا ہے۔پی ایس ایل کا سہرا اسکے بانی کو جاتا ہے۔

































